لاہور کے شاہی حمام کی بحالی پر یونیسکو کا ایوارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption مغلیہ دور کے یہ حمام آج بھی لوگوں کے لیے بڑی دلچسپی کا باعث ہیں

پاکستان کے شہر لاہور میں 1634ء میں تعمیر کیے گئے مغل دور کے شاہی حمام کو بہترین بحالی، حفاظت، تزئین و آرائش پر ’یونیسکو ہیریٹیج ایشیاء پیسفک ایوارڈ آف میرٹ 2016‘ دیا گیا ہے۔

٭ شاہی حمام کا انوکھا نظام

صحافی عبدالناصر خان کے مطابق لاہور کے دہلی گیٹ سے متصل شاہی حمام کی مرمت، تزئین و آرائش اور محفوظ بنانے کا کام 2014ء میں مکمل کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے تعلیم و ثقافت (یونیسکو) کی جانب سے جاری کی گئی ایوارڈ لسٹ میں دنیا کے چھ ممالک کے تاریخی ورثوں کو بہترین بحالی کے یہ ایوارڈز دیے گئے ہیں۔

یونیسکو کے مطابق مغل دور کے شاہی حمام کی بحالی سے 17 ویں صدی کے اس انوکھے تاریخی ورثے کی بہترین تیکنیکی مہارت سے حفاظت کی گئی ہے۔

جس میں بین الاقوامی اور مقامی ماہرین نے شاہی حمام کے سٹرکچرل ڈیمیج، غیرمناسب تزئین و آرائش، ناقص حفاظتی اقدامات اور تجاوزات جیسے مسائل کو حل کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے سیاحوں کو اب شاہی حمام کو بہترین طریقہ سے سمجھنے کا موقع ملا ہے۔

یونیسکو کے مطابق زیرِ زمین ڈھانچے کی کھدائی سے شاہی حمام جزوی طور پر اپنی اصل حالت میں بحال ہوگیا ہے۔

شاہی حمام کی بحالی کا کام ’لاہوروالڈ سٹی اتھارٹی‘ کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اتھارٹی کی ڈپٹی ڈائریکٹر تانیہ قریشی کا کہنا ہے کہ پرانے لاہور کی بحالی کے کام کو اس ایوارڈ سے مزید تقویت ملے گی۔

تانیہ قریشی کے مطابق لاہور کے دہلی گیٹ سے متصل شاہی حمام کی بحالی اور تزئین وآرائش کا کام 2012ء میں ناروے کے سفارت خانے کے مالی تعاون سے شروع کیا گیا تھا اور شروع میں آغا خان ٹرسٹ فار کلچر نے اس پر کام کیا، جس پر تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے کی لاگت آئی اور یہ منصوبہ 2014ء میں تکمیل کے بعد سیاحوں کو کھول دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption اس عمارت کی مرمت اور بحالی کے لیے مالی معاونت ناروے کی حکومت نے فراہم کی ہے

تانیہ قریشی نے بتایا کہ شاہی حمام کی بحالی کا زیادہ تر کام پاکستانی ماہرین نے کیا ہے تاہم منصوبے کے ’فریسکو ورک‘ کے لیے سری لنکن ماہرین کی خدمات سے استفادہ کیا تھا جنھوں نے لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) کے طلباء کے ساتھ مل کر اس منصوبے کو تکمیل تک پہنچایا۔

انھوں نے بتایا کہ دنیا کے 13 ممالک نے اپنے منصوبے ایوارڈ کے لیے یونیسکو کو بھجوائے تھے تاہم چھ ممالک اس ایوارڈ کے حق دار ٹھہرے، 2014ء میں والڈ سٹی اتھارٹی کے منصوبے گلی سورجن سنگھ کو بھی اصل حالت میں بحالی پر یونیسکو ایوارڈ آف میرٹ سے نوازا جاچکا ہے۔

تانیہ قریشی کے مطابق والڈ سٹی اتھارٹی کے تحت اندرون لاہور کی تمام تاریخی ورثے کی بحالی اور ان کو محفوظ بنانے کا کام جاری ہے جن میں چوک وزیر خان، مسجد وزیر خان، دینا ناتھ کنواں شامل ہیں۔

شاہی قلعہ کی پکچر وال اور شاہی مطبخ یا رائل کچنز کی بحالی کے منصوبے بھی زیرِتکمیل ہیں جن کے لیے مختلف عالمی اداروں اور ممالک نے مالی تعاون فرام کیا ہے۔

تانیہ قریشی کا کہنا ہے کہ اہم تاریخی ورثے کی بحالی کے ساتھ اردگرد کے علاقوں کی اصل حالت میں بحالی اور مستقبل میں ان کو تجاوزات سے پاک رکھنے کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔

دہلی گیٹ سے کوتوالی چوک تک کی گلیوں کی مرمت و بحالی (انفراسٹرکچرل سروس) کی گئی ہے اور بجلی کے تمام کھمبے ختم کرکے بجلی کا زیرِ زمین نظام فراہم کر دیا گیا ہے اسی طرح پانی و گیس کی فراہمی کے لیے نئی پائپ لائن بچھادی گئی ہے تاکہ تاریخی ورثے کو مستقبل میں کوئی خطرہ درپیش نہ ہو۔

انھوں نے کہا کہ کوتوالی سے مستی گیٹ تک اسی قسم کے دوسرے منصوبے پر کام شروع کردیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں