ترک ٹی وی ڈرامے لاطینی امریکہ میں مقبول

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ترک ٹی وی کے دو کردار ساحل سمندر پر بیٹھے ایک دوسرے کی آنکھوں میں کھوئے ہوئے ہیں جبکہ لاطینی امریکہ میں لاکھوں ناظرین کی سانس رکی ہوئی ہیں۔

’مجھے ڈر ہے کہ میں تمھیں کھو دوں گا‘ ٹی وی سکرین پر کریم فاطمہ گُل سے کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے فاطمہ گُل کو گلے لگایا ہوا ہے اور ہلکے سے ان کے بالوں کو چُھو رہے ہیں۔

’تمھیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں‘ فاطمہ گُل انہیں جواب دیتی ہیں، دُکھ بھری نظروں سے ان کی طرف دیکھتی ہیں اور دونوں ایک دوسرے کو بوسہ دیتے ہیں۔

اور بیان کیا گیا منظر ترک ڈرامہ ’فاطمہ گُل کا کیا قصور‘ سے ہے۔

ہسپانوی اور پرتگالی زبانوں میں مکالموں کے ساتھ گزشتہ سال یہ پورے جنوبی امریکہ میں بہت کامیاب رہا۔ صرف ارجنٹائن میں اس کی قسطوں کو ایک کروڑ 20 لاکھ ٹی وی ناظرین نے دیکھا۔

یہ اس طرح کے ٹی وی ڈراموں کی کامیابی کی کوئی واحد مثال نہیں ہے۔ ترک ڈرامے برِاعظم لاطینی امریکہ میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے پروگراموں میں شامل ہیں۔

مثال کے طور پر چِلی میں ایک ہزار ایک راتیں نامی ٹرک ڈرامہ سیریز 2014 کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پروگرام تھا۔

لیکن ترکی میں تیار کیے جانے والے ٹی وی پروگرام ہزاروں میل دور جنوبی امریکہ میں اتنے مقبول کیوں ہیں؟

چِلی کی 42 سالہ شہری مارسیلا میرا دارالحکومت سانٹیاگو میں رہتی ہیں اور ترک ڈرامے بہت شوق سے دیکھتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ترک ڈراموں کی کہانیوں کو سمجھنا امریکی ٹی وی سیریز کی نسبت آسان ہے جہاں پرانی طرز کے رومانس کی بجائے ہالی ووڈ سٹائل جنسی مواد پیش کیا جاتا ہے۔

’اگرچہ ترکی بہت دور ہے لیکن مجھے دونوں کلچر ایک سے لگتے ہیں۔‘

پیرو کے دارالحکومت لیما میں رہنے والی ایوِٹ سانچیز یونیورسٹی سٹوڈنٹ اور ترک ٹی وی شوز کی بہت شوقین ہیں۔

’میں باقاعدگی سے اپنے دوستوں کو اکٹھا کر کے ٹرکش ٹی وی نائٹس مناتی ہوں جب ہم یہ ڈرامے دیکھتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں۔ ان کے پلاٹ بہت چست اور پروڈکشن زبردست ہوتی ہے۔‘

’ان کے ایکٹرز بھی بہت وجیہ ہوتے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک کا کوئی نہ کوئی پسندیدہ ہے۔‘

تجارت سے متعلق ترک ادارے ٹرکش ایکسپورٹ اسمبلی کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ترکی نے اپنے ٹی وی شوز سے 25 کروڑ ڈالر کمائے۔ اس مد میں ترکی کی آمدنی 2004 میں صرف 10 ہزار ڈالر ہوا کرتی تھی۔

ترک ڈرامے اب 140 ملکوں میں دیکھے جاتے ہیں اور ان کے ناظرین کا اندازہ 40 کروڑ لگایا جاتا ہے۔

اگرچہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان ترک شوز کی غیر ممالک میں کامیابی کی تعریف کرتے ہیں، ٹی وی شوز پراڈکشن انڈسٹری کا کہنا ہے کہ کسی بھی حکومتی حمایت سے مبرا اور مکمل طور پر آزاد ہے۔

صدر اردگان کبھی کبھی ترک پراڈکشن کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ سن 2012 میں ترک صدر نے شاندار صدی جو اردو میں میرا سلطان کے نام سے نشر ہوا نامی ڈرامے کے بارے میں ناگواری کا اظہار کیا تھا کیونکہ اس میں سولہویں صدی کی سلطنتِ عثمانیہ کے فرمانروا کو ایک شرابی اور عورتوں کا شوقین دکھایا گیا تھا۔