ٹورانٹو فلمی میلے میں موضوعات کا تنوع

تصویر کے کاپی رائٹ Fox
Image caption ’برتھ آف دی نیشن‘ میں نیٹ پارکر نے ناٹ ٹرنر کا کردار ادا کیا، یہ فلم 19ویں صدی میں غلاموں کی بغاوت پر مبنی ہے

ٹورانٹو فلم فیسٹیول کا آغاز ہوگیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہالی وڈ کی فلموں میں موضوعات کے تنوع کے حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے۔

کینیڈا کے سب سے بڑے شہر میں منعقدہ اس 11 روزہ فلمی میلے کے دوران 400 سے زائد فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی۔

جمعرات کو فلمی میلے کا افتتاح فلم ڈائریکٹر انتوین فوکوا کی 1960 کی دہائی کی کلاسک فلم ’میگنفیشنٹ سیون‘ کی ری میک فلم سے ہوا جس میں مرکزی کردار ڈینزل واشنگٹن نے ادا کیا ہے۔

یہ 41 واں سالانہ فیسٹیول ہے اور اس فلمی میلے کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں پیش کی جانے والی فلمیں آسکرز بھی حاصل کرتی ہیں۔

رواں سال آسکرز ایوارڈز کے بعد عوام کی جانب سے ’آسکرز سو وائٹ‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے اسے تنقید کا نشانہ بنا گیا ہے تاہم ٹوراٹنٹو میں دکھائی جانے والی متعدد فلموں کا مرکزی خیال رنگ و نسل پر مبنی ہے۔

جولائی میں جب ٹورانٹو فلم فیسٹیول کے پروگرام کا اعلان کیا گیا تو ڈائریکٹر کیمرون بیلی کا کہنا تھا کہ اس میں ’عالمی آواز، تعمیراتی کہانیاں اور منتوع نکتہ نظر‘ شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Columbia Pictures via AP
Image caption فلمی میلے کا افتتاح فلم ڈائریکٹر انتوین فوکوا کی 1960 کی دہائی کی کلاسیک فلم ’میگنفیشنٹ سیون‘ کی ری میک فلم سے ہوا

فلم پریمیئرز میں برطانوی اداکار ڈیوڈ اوئلووو کی دو فلمیں بھی نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی۔

فلم ’اے یونائیٹڈ کنگڈم‘ میں انھوں نے بوٹسوانا کے بادشاہ کا کردار نبھایا ہے جو ایک انگریز بینک کلرک (یہ کردار روسامنڈ پائیک نے نبھایا ہے) سے 1940 کی دہائی میں شادی کرتا ہے جس کے بعد تنازع اور عدم برداشت کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب ڈزنی کی فلم ’کوئین آف کیٹوے‘ میں اوئلووو نے ایک استاد کا کردار نببھایا ہے جو ایک یوگینڈن غریب لڑکی کا شطرنج کی چیمپیئن بننے کا سپنا پورا کرنے میں مدد کرتا ہے۔

اس کے علاوہ جیف نکولس نے فلم ’لونگ‘ ورجینیا میں بین الانسل شادی پر پابندی کے خلاف لڑائی کو پیش کیا ہے جبکہ فلم ’مون لائٹ‘ میں ایک ہم جنس پرست افریقی نژاد امریکی شخص اپنی جنس شناخت کے مسئلے سے دوچار ہے۔

سنیچر کو ٹوئٹیتھ سینچری فاکس کی فلم ’ہڈن فگرز‘ نمائش کے لیے پیش کی جائے جو خلائی ادارے ناسا میں کام کرنے والی تین افریقی نژاد امریکی خواتین کی کہانی بیان کرتی ہے، جنھوں نے سنہ 1962 میں خلاباز جان کلین کو خلا میں بھیجنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

نمائش کے لیے پیش کی جانے والی دیگر کئی فلمیں بھی ایوارڈز کی دوڑ میں شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pathe International
Image caption روسامنڈ پائیک اور ڈیوڈ اوئلووو فلم ’اے یونائٹڈ کنگڈم‘ میں

ان میں ڈینس ولنیو کی سائنس فکشن فلم ’ارائیول‘ بھی شامل ہے جس میں ایمی ایڈمز نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ریان گوزلنگ اور ایما سٹون کی ’لا لا لینڈ‘ کو بھی اہم فلم شمار کیا جا رہا ہے۔

کچھ سچی کہانیوں پر مشتمل فلمیں بھی نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی جن میں ایڈورد سنوڈن پر بنائی جانے والی اور سنہ 2010 میں خلیج میکسیکو میں بہنے والے تیل پر بنائی گئی فلم ’ڈیپ واٹر ہوریزون‘ بھی شامل ہیں۔

اوان مکگروگرکی کی بطور ہدایتکار پہلی فیچر فلم ’امریکن پیسٹورل‘ جو بچوں کی کتاب ’اے مونسٹرز کال‘ سے ماخوذ ہے، پہلی بار نمائش کی لیے پیش کی جائے گی۔

نئی دستاویزی فلموں میں لیونارڈو ڈی کیپریو کی ’بیفور دی فلڈ‘، ورنر ہرزوگ کی ’انٹو دی انفرنو‘ اور مورگن سپرلوک کی ’ریٹس‘ شامل ہیں۔

ٹورانٹو فلم فیسٹیول آٹھ ستمبر سے 18 ستمبر تک جاری رہے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں