آسٹریلوی پینٹنگ کے لندن لے جانے پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ DEUTSCHER AND HACKETT
Image caption اس پینٹنگ کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر اسے ملک سے باہر لے جانے سے روک دیا گيا ہے

آسٹریلوی شہر سڈنی کے علاقے کنگز کراس کی عکاسی کرتی ہوئی دوسری جنگ عظیم کے دور کی ایک پینٹنگ کو قومی اہمیت کا حامل ہونے کے سبب برطانیہ برآمد کیے جانے سے روک دیا گیا ہے۔

سنہ 1944 کی اس پینٹنگ میں آسٹریلوی فنکار ہربرٹ بیڈہم نے امریکی فوجیوں کو 24 وں گھنٹے کھلے رہنے والی ایک ریستوران دکھایا ہے۔

اس میں ایک سیاہ فام امریکی فوجی کو ایک خاتون کے ساتھ دکھایا گيا ہے۔

فن کاروں کی ایک کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس پینٹنگ کے نئے مالک جو اسے لندن میں واقع اپنے گھر میں لگانا چاہتے ہیں وہ اسے آسٹریلیا سے نہیں لے جا سکتے۔

نئے مالک نے اس پینٹنگ کو گذشتہ سال میلبرن میں ہونے والی نیلامی میں ساڑھے تین لاکھ امریکی ڈالر میں خریدا تھا۔

ابتدا میں اسے باہر لے جانے کی اجازت دی گئی تھی لیکن پھر اسے روک دیا گیا۔ جب اس کے مالک نے ٹریبونل میں اپیل کی تو آرٹ کے ماہرین نے اس فن پارے کی قدرو قیمت کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا۔

اپنے فیصلے میں ٹریبونل نے پینٹنگ کو آسٹریلیا کی تاريخ کے نازک دور کا عکاس بتایا جب جنگ عظیم جاری تھی اور آسٹریلیا کثیر ثقافتی ملک کے طور پر ترقی پذیر تھا۔

ٹرائبیونل نے کہا: ’اس کا موضوع بہت پر اثر ہے کیونکہ اس میں واضح طور پر مختلف نسلوں کے درمیان ہم آہنگی کو دیکھا جا سکتا ہے اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب آسٹریلیا شدید خطرے سے دوچار تھا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں