پورٹو ریکو کی ملکۂ حسن اپنا مقدمہ ہار گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ٹی سٹیشنز اپنے باقاعدہ پروگرامز روک روک کر درمیان میں عدالتی کاروائی اور مز کیرائڈ کے بیان دکھاتے رہے

پورٹو ریکو کی ملکۂ حسن کرستھیلی کیرائڈ اپنے حسن کے تاج کی واپسی کا مقدمہ ہار گئي ہیں۔ ان سے یہ خطاب ان کے خراب سلوک کے سبب چھین لیا گیا تھا۔

جج نے یہ فیصلہ سنایا کہ کیرائڈ نے مس یونیورس کے مقابلے کے لیے جزیروں پر مبنی ملک پورٹو ریکو کی نمائندگی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

انھوں نے ایک طے شدہ بالوں کے سیلون میں جانے سے انکار کیا اور ٹی وی کے ایک پروگرام میں شرکت کرنے سے قاصر رہیں کیونکہ ان کے مطابق ٹریفک بہت خراب تھا۔

کیرائڈ نے منتظمین پر 30 لاکھ امریکی ڈالر ہرجانے کا دعوی کیا تھا۔

ایک ہفتے تک جاری رہنے والے اس مقدمے میں پورٹو ریکو کے عوام کی خاصی دلچسپی تھی۔ یہاں تک کہ ٹی وی سٹیشنز اپنے باقاعدہ پروگرامز روک روک کر درمیان میں عدالتی کاروائی اور ان کے بیان دکھاتے رہے۔

پورٹو ریکو کی سپریم کورٹ کے جج ایڈوارڈو ریبولو نے کیرائڈ کے دعوے کو مسترد کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ کیرائڈ نے اخبار کے ساتھ انٹرویو کے دوران مختصر اور روکھے جوابات دیے اور انھیں کیمرے سے رغبت نہیں ہے۔

پورٹو ریکو میں مس یونیورس کی قومی ڈائریکٹر ڈيزائری لوری نے عدالت کو بتایا کہ مز کیرائڈ نے انٹرویو کے بعد اخبار کے نمائندے سے معافی مانگنے سے انکار کردیا۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کیرائڈ نے ان کے لیے حاصل کیے جانے والے سیلون کی خدمات کے بدلے اپنے ہی سٹائلسٹ کا استعمال کیا۔

مز کیرائڈ نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے سیلون کے ملازمین پر اپنی بے عزتی کرنے کا الزام لگایا۔

خیال رہے کہ ان سے مارچ میں مس یونیورس مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کرنے کا موقع چھین کر دوسری امیدوار کو دے دیا گيا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں