ٹی وی ڈراما یا صرف ریٹنگز کی دوڑ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Hum TV

پاکستان میں مقبولیت کے لحاظ سے نیوز چینل پہلی پوزیشن پر ہیں اور ان کے بعد تفریحی چینلوں کا نمبر آتا ہے۔

ان تفریحی چینلوں پر متعدد ڈرامے پیش کیے جا رہے ہیں جن میں جہاں بڑے پیمانے پر عورتوں کے لیے مردوں کے معاشرے کے طے کردہ روایتی کرداروں کی توثیق کی جا رہی ہے، وہیں ریپ جیسے سماجی مسئلے کو بھی موضوع بنایا جا رہا ہے جسے ماضی میں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔

چند ماہ قبل نجی ٹی وی چینل ہم ٹی وی پر نشر کیے جانے والے ایک ڈرامہ سیریل ’سنگت’ میں دکھایا گیا کہ گھر میں ڈاکے کے دوران ریپ کا شکار ہونے والی ایک شادی شدہ عورت بعد میں ریپ کرنے والےکی طرف مائل ہو رہی ہے۔

اس ڈرامے کے خالق ظفر معراج تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ان کی ناکامی ہے کہ انھوں نےجو پیغام دینےکی کوشش کی وہ صحیح طریقےسے پہنچ نہیں پایا۔

’اس ڈرامےمیں غلطی یہ ہوئی کہ ریپ کرنےوالے کے کردار میں ہیرو ٹائپ اداکار زاہد کو کاسٹ کر لیا گیا ورنہ تاثر مختلف آتا۔‘

ڈرامہ سیریل ’سنگت‘ میں ریپ کرنے والے سے ہمدردی کےاس غلط تاثر کو تسلیم کرنے کے باوجود ظفر معراج سمجھتے ہیں کہ انھوں نےاس ڈرامے میں معاشرے کی منافقت سے پردہ اٹھانےکی کوشش کی ہے۔

لیکن کیا کسی ڈرامہ نگار کو ایسے حساس موضوعات پہ قلم اٹھانا چاہیےجو دیکھنے والے کو کوئی نئی سوچ کوئی نیا پہلو نہ دے سکیں؟

ڈرامہ نگار نورالہدیٰ شاہ اس کا ذمہ دار پروڈکشن ہاؤسزاورٹی وی مالکان کو ٹھہراتی ہیں۔

’یہ ذمہ داری چینلوں، پروڈکشن ہاؤسز پر عائد ہوتی ہے جو یہ کام خریدتے ہیں، بنواتے اور چلاتے ہیں وہی دیکھ سکتے ہیں کہ کیاچلانا ہے اور کیا نہیں۔ یہی میرا اختلاف ہے کہ آپ اُن ڈراما نویسوں کو الزام نہ دیں جن کایہ روزگار ہے اور اس سےان کےگھروں کا کچن چلتا ہے۔ وہ صرف اُتنا ہی سوچتے ہیں جتنی اُن سے مانگ کی جاتی ہے۔ وہ اس سے زیادہ سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن انھیں اس کی اجازت نہیں دی جاتی۔‘

پاکستانی ڈراموں میں عموماً مرکزی کردار میں عورتوں کو مردوں کی بےوفائی پر روتے دھوتےاور انھیں حاصل کرنے کے لیے لڑتے جھگڑتے، دھمکیاں دیتے دکھایا جاتا ہے جبکہ مردوں کودوسری عورت سے محبت میں گرفتار یا دوسری شادی کی دھمکیاں دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔

زبانی تشدد، ساس بہو کی منصوبہ سازیاں، طنز اور طعنوں سمیت مغربی لباس پہننے والی اور ملازمت پیشہ بااختیار خواتین کی منفی کرداروں میں عکاسی عام ہے۔

بیشتر ڈراما نویسوں کااس بات پر اتفاق ہے کہ ان کے کردار حقیقی ہیں اوروہ وہی لکھتے ہیں جو ان کے اردگرد ہوتا ہے۔

میڈیا میں خواتین کےحقوق اور انھیں بااختیار بنانے کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’عکس‘ کی سربراہ تسنیم احمر کہتی ہیں کہ ’معاشرے میں کوئی چیز اس حد تک نہیں ہو رہی کہ آپ کا اسے ٹی وی پر لانا ضروری ہے کیونکہ اس کےعلاوہ بھی بے شمار چیزیں ہیں جو معاشرے میں ہوتی ہیں اور ہمارے ڈرامے پیش نہیں کرتے۔ مثال کے طور پران لڑکیوں کے مسائل جو بہت مشکل سےگھروں سےنکل کر کام یا پڑھائی کرتی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ان ڈراموں میں پہلا جملہ تو یہ ہوتا ہے کہ بیٹی کا بوجھ اتارنا ہے یا ہمیں یہ ذمہ داری نبھانی ہے۔ لگتا یہ ہے کہ لڑکی ہونا ایک عذاب ہے۔ اس کے علاوہ ڈراموں سے تاثر یہ آتاہے کہ خواتین سوائے لڑائی جھگڑے اور طعنہ زنی کے کچھ نہیں کر رہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ DASTAAN

ڈراما نویس نورالہدیٰ شاہ کا موقف ہے کہ مظلوم اور بیچاری عورت والے کرداروں کی سب سے زیادہ مانگ ہے کیونکہ وہی مقبول ہوتے ہیں اور اُنھی کی ریٹنگز آتی ہیں۔

پاکستانی ڈراموں میں زیرِ بحث سنجیدہ موضوعات جیسےکہ طلاق، حلالہ، ریپ وغیرہ پر کافی کام ہو رہا ہے۔

ناقدین کا خیال ہے کہ یہ ڈرامے مقبول ہونے کے باوجود معاشرے کو کوئی نیا پہلو، کوئی نئی سمت دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔

اس کی تازہ مثالیں ’سنگت‘ اور ’چُپ رہو‘ جیسے ڈرامے ہیں جس میں ریپ کی شکار خواتین بےچارگی کی تصویر بنی اپنی قسمت کو کوستی مرد کا آسرا ڈھونڈتی نظر آتی ہیں جبکہ اردگرد کے کرداروں میں خواتین اس مسئلے کی پردہ کشی کرتی رہتی ہیں۔

ایسے ڈراموں پر تنقید کرتے ہوئے تسنیم احمر نے کہا ’یہ رائٹرز وہی سب خواتین ہیں جو ڈائجسٹوں میں لکھتی ہیں۔اگر اپ انھیں اٹھا کر بڑی سکرین کے ڈرامے لکھنے کو کہہ دیں گے تو پھر ڈائیلاگ یہی ہوں گے نا کہ تم نے یہ کیسا لباس پہنا ہے مردوں کو دعوت دینے والا۔‘

ان ڈراموں کے برعکس بچوں سے جنسی زیادتی پر مبنی ڈرامہ سیریل ’اُڈاری‘ میں قانونی مدد حاصل کرنے کا واضح پیغام دیاگیا۔

یہ ڈرامہ ہم ٹی وی سے نشر کیا جا رہا ہے۔ اس پر پیمرا کی جانب سےایک بار پابندی بھی لگی لیکن عوام نے اسے بے حد پسند کیا۔

اڈاری میں دو اہم مسائل اجاگر کیےگئے جن میں گانے بجانے والوں کے ساتھ معاشرے میں متنازع سلوک اور بچوں سے جنسی زیادتی شامل ہیں۔

اس ڈرامےکے بارے میں رائے عامہ یہی ہے کہ تقریباً دونوں ہی موضوعات سے انصاف کیا گیا۔

اُڈاری کے مرکزی کرداروں میں سے ایک اداکارہ بشریٰ انصاری نے ادا کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’تقریباً 80 فیصد لوگوں نےکہا کہ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوا۔ ہماری فیملی میں بھی ایسا ہوا۔ وہ لوگ بھی بولنے لگے جو کہ چپ ہوگئے تھے، بولتے نہیں تھے۔ ماؤں کو بھی یہ آ گیا ہے کہ اپنے بچوں کو کیسے تحفظ دیا جا سکتا ہے۔‘

نور الہدیٰ شاہ نے ماضی اور حال کے ڈراموں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اصل میں پہلے یوں ہوتا تھا کہ جب ایسی کوئی چیزیں دکھائی جاتی تھیں تو ان کا کوئی حل یا راستہ دکھایاجاتا تھا یا آخرم یں عورتوں کو یہ حوصلہ دیا جاتا تھا کہ وہ اپنی زندگی کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ اب ایسا نہیں ہے۔ اب مشین کی طرح کام ہوتا ہے۔‘

ڈراموں کی کہانیوں کےموضوعات حساس ہوں یا روایتی، انھیں پیش کرنے کا مقصد ریٹنگز بڑھانا ہو یا پیسے کمانا، اس کا نتیجہ معاشرے میں رائج رویوں اور درپیش مسائل کی حقیقی تبدیلی کی کوشش ہونا چاہیے۔

کہانیوں کو جوں کا توں پیش کرنے کے بجائے اس کے روشن خیال پہلوؤں کو بھی مدِنظر رکھنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ انھیں پیش کرنے کا انداز منفرد مگر ایسا ہونا چاہیےکہ دیکھنے والوں کو اجنبی نہ لگے۔

اسی بارے میں