چینی اداکارہ کی موت کے بعد کینسر کے علاج پر بحث

چین میں ایک اداکارہ کی کینسر کی وجہ سے موت کے بعد سوشل میڈیا پر کینسر کے لیے موزوں طریقہِ علاج پر ایک بحث شروع ہو گئی ہے۔

یہ بحث اس لیے شروع ہوئی ہے کیونکہ چینی اداکارہ نے ابتدائی طور پر روایتی طریقہِ علاج کو کیموتھراپی پر ترجیح دی تھی۔

26 سالہ اداکارہ ژو ٹنگ میں اسی سال لمفوما کی تشخیص ہوئی تھی۔ کینسر کی یہ قسم مدافعت کے نظام پر اثر انداز ہوتی ہے۔

تاہم انھوں نے یہ کہتے ہوئے کیموتھراپی سے اجتناب کیا تھا کہ انھوں نے دوستوں کو کیموتھراپی کی وجہ سے تکالیف برداشت کرتے ہوئے دیکھا ہے اور یہ کہ انھیں اس پر آنے والے اخراجات کی فکر ہے۔

اس کے بجائے انھوں نے کپنگ، آکوپنکچر اور بیک سٹریچنگ جیسے روایتی چینی طریقہ ہائے علاج کا انتخاب کیا۔

لیکن جب ان کی طبیعت بہت زیادہ بگڑ گئی تو انھوں نے کیمو تھراپی شروع کرائی۔ تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں اور سات ستمبر کو ان کا انتقال ہو گیا۔

ژو ٹنگ نےسب سے پہلے جولائی میں اپنے ویبو اکاؤنٹ پر اپنی بیماری کا ذکر تھا جہاں ان کے تقریباً 3 لاکھ فین ہیں۔ بعد میں بھی وہ مسلسل روایتی چینی طب کے ذریعے اپنے علاج کے بارے میں تصویریں پوسٹ کرتی رہیں۔

ان کی پوسٹ کی جانے والی تصویروں پر لاکھوں سوشل میڈیا صارفین نے اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا۔ کچھ نے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی جبکہ کئی لوگوں نے انہیں کیمو تھراپی کرانے کو کہا۔

ان کی ایک صارف نے تو یہاں تک کہا کہ چینی نظام علاج کینسر کے سلسلے میں مکمل طور پر بے کار ہے، اگر وہ ان کی نہیں سنتی تو کم از کم انہیں ڈاکٹر کی تو سننی چاہیے۔

اداکارہ، جو سات بہن بھائیوں میں سے ایک ہیں، نے کہا کہ انھوں نے تمام زندگی اپنے بھائی کی ٹیوشن، والدین کے قرض اور گھر خریدنے کے لیے سخت محنت کی ہے لیکن خود پر پیسہ خرچ کرنا انہیں کبھی بھی اچھا نہیں لگا۔

ان کی وفات کے بعد چین میں ایک شدید بحث چھڑ گئی ہے کہ اگر وہ کیمو تھراپی کراتیں تو کیا وہ بچ سکتی تھیں۔ اس سلسلے میں چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم سینا ویبو پر ’ژو ٹنگ کی موت اور چینی طریقہ علاج‘ کے نام سے ایک ہیش ٹیگ بھی شروع کیا گیا۔

کچھ سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ روایتی چینی طریقہِ علاج کو اداکارہ کی موت کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔

کچھ دیگر افراد کا خیال تھا کہ انہیں دونوں طرح کے طریقہِ ہائے علاج کو اختیار کرنا چاہیے تھا تاکہ کیمو تھراپی ان کے ٹیومر کا علاج کرتی جبکہ روایتی چینی طب بیمارے کے دیگر پہلوؤں کا علاج کرتی۔

کئی سوشل میڈیا صارفین ایسے بھی ہیں جنھوں نے اس بحث میں حصہ نہیں لیا لیکن ادکارہ کی وفات پر دکھ کا اظہار کیا۔

متعلقہ عنوانات