’جانان چُپکے سے دل جیت لیتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Janan

آغاز میں ہی میں ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔ فلم ’جانان‘ ، جو عیدالاضحیٰ پر سنیماؤں میں ریلیز ہوئی، اس کے حوالے سے میری توقعات بہت کم تھیں۔

صرف اتنا معلوم تھا کہ یہ فلم نسبتاً نئے فلمسازوں نے بنائی ہے، اس کے پیچھے ٹی وی اینکر اور عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کا کچھ ہاتھ ہے، اور یہ کہ (اس کے پروڈوسروں کے مطابق) یہ فلم پختونوں کے بارے میں منفی پراپیگنڈے کو زائل کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

٭ ’اب فلمی دنیا میں پروفیشنل لوگ آ رہے ہیں‘

٭ ’جانان‘ کی کاسٹ کے ہمراہ بی بی سی اردو کا گوگل ہینگ آؤٹ دیکھیے

٭ اس مرتبہ عید پر صرف پاکستانی فلمیں

جب بھی کوئی فلمساز اپنی کہانی کا لُبِ لُباب اس طرح بیان کرتا ہے، یعنی کہ کہانی کا مقصد کسی اور چیز کی نفی ہے، اس کا نتیجہ (کم از کم میرے مشاہدے میں) عموماً اچھا نہیں نکلتا تاہم فلم کے شروع ہوتے ہی دو ناموں کو اوپننگ کریڈیٹس میں پڑھ کر میری دلچسپی تھوڑی بڑھ گئی۔ ایک نام تھا لکھاری عثمان خالد بٹ کا اور دوسرا نام ہدایتکار اظفر جعفری کا تھا۔

بیشتر فلم بین ان ناموں سے ناواقف ہوں گے لیکن مجھے یاد آیا کہ انھی دونوں حضرات نے تین سال پہلے ایک چھوٹی سی ہارر فلم ’سیاہ‘ کے نام سے بنائی تھی۔ ’سیاہ‘ بہت ہی کم پیسوں میں بنائی گئی تھی، اس لیے اس کی پروڈکشن کوالٹی کمزور تھی۔ اس میں اداکار بھی سب ہی نئے چہرے تھے اور اس وجہ سے اُس کو نہایت ہی محدود ریلیز ملی تھی لیکن اس کی کہانی اور مکالموں میں جان تھی اور بجٹ کی کمی کے باوجود یہ واضح تھا کہ ہدایتکار کو ڈرامائی تشکیل میں اچھی شُد بُد ہے۔

’جانان‘ کے پہلے شاٹ سے اس کا اندازہ تو ہو گیا کہ کم از کم اس دفعہ پروڈکشن کوالٹی ’سیاہ‘ کے مقابلے میں کئی گنا بہتر ہوگی لیکن جیسے جیسے فلم بڑھتی گئی میرے دوسرے تحفظات بھی ختم ہوتے گئے۔ ’جانان‘ نہ تو کوئی لیکچر تھا اور نہ ہی ایسی فلم جو سب کچھ اچھا دکھانے پر مُصِر ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Janan
Image caption یہ بن روئے کے بعد ارمینا خان کی دوسری پاکستانی فلم ہے

کہانی سرسری طور پر انتہائی سیدھی سادی ہے۔ مینا (ارمینا خان)، ایک لڑکی جو کینیڈا میں رہتی ہے، گیارہ سال بعد اپنے آبائی گھر اپنی کزن پلوشہ (ہانیہ عامر) کی شادی کے سلسلے میں واپس آتی ہے۔ اس کا آبائی گھر سوات میں ہے اور اس کو تھوڑی بہت تشویش تو ہے کہ وہ اب روایتی طور طریقے کیسے نبھائے گی، کیسا لباس پہنے گی۔

تاہم اس کا خاندان پیسے والا اور روشن خیال ہے اور جلد ہی یہ سب فکریں اس کے ذہن سے دور چلی جاتی ہیں، اور وہ شادی کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دو خوش شکل کزن لڑکے بھی اس کے اردگرد ہیں۔ جن میں سے ایک، دانیال (علی رحمان خان)، اس کو دیکھتے ہی اس پر فدا ہو جاتا ہے اور دوسرا، اسفندیار (بلال اشرف) مینا کو اچھا لگنے لگتا ہے۔

مینا دانیال کی شعبدہ بازی پر مبنی حرکتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتی لیکن دوسری طرف اسفندیار انتہائی کم گو ہے اور اپنے جذبات کو دبائے رکھتا ہے۔ اسفندیار کی ساری توجہ اُس سکول پر ہے جو وہ علاقے کے یتیم اور غریب بچوں کے لیے چلاتا ہے۔ یہ سکول آگے جا کر کہانی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اگر آپ نے کبھی کسی دیسی شادی میں شرکت کی ہو (جو آپ نے ضرور کی ہوگی) تو آپ کو بخوبی معلوم ہوگا کہ کوئی بھی شادی ڈرامے کے بغیر نہیں ہو سکتی۔(شاید یہ شادیوں کا ہمہ گیر اصول ہے۔) یہاں بھی کچھ یہی صورتِ حال ہوتی ہے۔ ایک تو پلوشہ کی شادی اس کی اپنی پسند کے ایک پنجابی لڑکے (عثمان مختار) سے ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے اس کے پختون گھرانے میں ویسے ہی کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ دوسری طرف ایک ’لو ٹرائینگل‘ مینا کے اِردگرد وجود میں آ چکی ہے۔

ہنسی مذاق کا یہ ماحول یکدم اس وقت تبدیل ہو جاتا ہے جب کچھ چھُپے ہوئے حقائق سب کے سامنے فاش ہو جاتے ہیں۔ اُن سے خاندان میں بھی ٹوُٹ پھوُٹ ہوتی ہے اور زندگیاں بھی خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ اِس سے زیادہ کچھ کہنا کہانی کے پیچ و خم کو ظاہر کر دے گا' اس لیے مناسب نہیں ہوگا۔

یہ بات نہیں کہ ’جانان‘ میں کوئی جھول نہیں ہے۔ اسفندیار باقی سب کے بر عکس اتنا کم گو اور سنجیدہ کیوں ہے، اس کی وجہ کبھی سمجھ میں نہیں آتی۔ اور اس کی سازشی چچی آخر میں اپنے تیور کیوں بدل لیتی ہیں، یہ بات بھی مطمئن نہیں کرتی۔ وِلن کا انجام بھی کچھ جلد بازی کا نتیجہ محسوس ہوتا ہے۔ لیکن فلم میں اتنا ڈرامہ ہے کہ یہ فلم بینوں کی دلچسپی برقرار رکھتی ہے اور اس کے کردار مجموعی طور پر ایسے بھرپور طریقے سے لکھے گئے ہیں کہ ہمیں آخر تک تجسّس رہتا ہے کہ اُن کے ساتھ کیا ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Janan

ارمینا خان دیکھنے میں تو دلکش ہیں ہی لیکن یہاں اُن کی اداکاری بھی کافی قدرتی ہے۔ اُن کی پچھلی (اور واحد پاکستانی) فلم ’بِن روئے‘ تھی جہاں وہ زیادہ متاثر نہیں کر پائی تھیں لیکن ’جانان‘ میں انھوں نے قدرے بہتر کام پیش کیا ہے۔

’سائڈ‘ کرداروں میں پشتو فلموں کے تجربہ کار فلمساز عجب گُل، جو پلوشہ اور اسفندیار کے والد کا کردار ادا کرتے ہیں، اور ہانیہ عامر اپنے کرداروں کو اچھی طرح نبھاتے ہیں جبکہ نیّر اعجاز نے، جو علاقے کی بااثر شخصیت اکرام اللُہ کا کردار ادا کرتے ہیں، ہمیشہ کی طرح ٹھوس پرفارمنس دی ہے۔

ویسے اس فلم میں اگر کوئی اداکار چھا گیا ہے تو وہ علی رحمان خان ہیں۔ اُن کا کردار ایک دل کے اچھے لیکن شعبدہ باز لڑکے کا ہے اور علی نے اس سے ایسا انصاف کیا ہے کہ فلم دیکھنے والے اُن کی شکل دیکھتے ہی ہنس پڑتے ہیں۔ علی کی اداکاری انتہائی بے ساختہ ہے لیکن اُن کی (اور ہدایتکار کی) مہارت اس بات سے نظر آتی ہے کہ جب ضرورت پڑتی ہے تو یہی کردار آپ کی آنکھیں نم بھی کر دیتا ہے۔

اگر ’جانان‘ کی اداکاری میں بڑی کمی ہے تو وہ بلال اشرف کی طرف سے محسوس ہوتی ہے۔ بلال دیکھنے میں سچ مُچ ’ہیرو میٹیریئل‘ہیں– خوش شکل، سِڈول جسم وغیرہ – لیکن اُن کو اپنے اظہار پر محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

پوری فلم میں اسفندیار کے مشکل سے ڈیڑھ تاثرات سکرین پر نظر آتے ہیں۔ زیادہ تر وہ غصّے میں ہی دکھائی دیتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ اُن کے پرستار اپنی محبت میں اس بات کو نظرانداز کر دیں، لیکن اگر بلال کو اداکاری میں آگے بڑھنا ہے تو اُنھیں اس پہلو پر خاص توجہ دینی پڑے گی۔

’جانان‘ کی موسیقی احمد علی، طحٰہ ملک اور سلیم سلیمان کی مُشترکہ کاوش ہے۔ وہ نہ تو کانوں کو بُری لگتی ہے نہ ہی کوئی خاص اثر چھوڑتی ہے۔ گانے فلم میں کم کم ہی ہیں اور اس میں کوئی ایسا موقع نہیں ہے جہاں گانا زبردستی ٹھونسا گیا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Janan

رانا کامران کی عکاسی ایک بار پھر اعلیٰ درجہ کی ہے اور سوات کی قدرتی خوبصورتی کو بہت دلکش انداز سے سکرین پر اجاگر کرتی ہے۔ رانا کامران بہت ہی تھوڑے عرصے میں پاکستان کے سب سے محنتی کیمرہ مین بن کر سامنے آئے ہیں۔ ’نامعلوم افراد‘ اور ’کراچی سے لاہور‘ کے بعد اِس سال اُن کی دو فلمیں ’ایکٹر اِن لا‘ اور ’جانان‘ آچُکی ہیں اور ایک یا دو اور آنے کو ہیں۔

مِتیش سونی کی تدوین پروفیشنل ہے اور ہدایتکاری بھی تکنیکی لحاظ سے موثر ہے۔ پاکستان میں یہ بڑی بات ہے اور سنیما کی پُختگی کی ایک پُراُمید علامت ہے۔

یہ بات سچ ہے کہ ’جانان‘ سے توقعات کم ہونے کی وجہ سے شاید اس پر اس طرح کی تنقید نہ ہو جس کا ’ایکٹر اِن لا‘ کو سامنا کرنا پڑا لیکن توقعات سے قطعِ نظر میرے خیال میں اس فلم کی کہانی لوگوں کو (خاص طور پر خواتین کو) سچ مُچ پسند آئے گی۔

پاکستانی سنیما کے لیے خوش آئند بات یہ ہے کہ ایک ایسی فلم جِس میں کوئی بڑا سٹار نہیں، جس کے فلمساز بھی اتنے جانے پہچانے نہیں اور جس میں ’مسالا'‘ ڈالنے کی بجائے کہانی اور سکرین پلے پر محنت کی گئ ہے، وہ فلم باکس آفس پر دو اور فلموں کی موجودگی میں اچھی کارکردگی دکھا رہی ہے۔

شاید پاکستان کا فلم کلچر واقعی میں بدل رہا ہے!

پی ایس : ارمینا خان کے کردار کے کچھ پہلوؤں کا فلم کی پروڈوسر ریحام خان کی اپنی کہانی سے مُشابہت ایک دلچسپ موضوع ہو سکتا ہے۔ مغرب میں لمبا عرصہ رہنے والی لڑکی پاکستان واپس آتی ہے۔ دونوں سوات سے تعلق رکھتی ہیں۔ دونوں آخر میں سر پر دوپٹہ لے لیتی ہیں اور بچوں سے متعلق کام کرنا چاہتی ہیں لیکن اس پر گفتگو پھر کبھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں