آسکر انعام یافتہ مصنف، ہدایتکار ہینسن چل بسے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہینسن نیویڈا کے رینو میں پیدا ہوئے

آسکر انعام یافتہ مصنف اور ہدایت کار کرٹس ہینسن کا 71 سال کی عمر میں ہالی وڈ کے اپنے گھر میں انتقال ہو گیا ہے۔

پولیس کی ترجمان کے مطابق ان کی موت قدرتی وجوہات کا سبب ہیں۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ الزائمر کے مرض میں مبتلا تھے اور ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے تھے۔

’سینیما‘ نامی ميگزین سے ایک لکھاری کے طور پر اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا بعد میں انھوں نے ’ایل اے کنفیڈنشیئل‘ کے ماخوذ سکرین پلے کے لیے آسکر انعام حاصل کیا۔

انھوں نے گلوکار ایمینیم کی فلم ’8 مائلز‘ کی ہدایت کاری بھی کی تھی۔

لاس اینجلس پولیس محکمے نے کہا کہ پولیس نے موت کی جانچ کے لیے ہینسن کے گھر کا دورہ کیا اور انھیں وہاں مردہ پایا۔

ہینسن ریاست نیویڈا کے شہر رینو میں پیدا ہوئے اور انھوں نے سنہ 1970 کی دہائی کے اوائل میں سکرین پلے لکھنا اور ہدایت کاری کا آغاز کیا لیکن انھیں سنہ 1992 میں آنے والی فلم ’دا ہینڈ دیٹ راکس دا کریڈل‘ سے ہی کامیابی ملی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اخیر میں انھوں نے ایچ بی او کی فلم ’ٹو بگ ٹو فال‘ کی ہدایت کی تھی

انھوں نے کیون بیکن اور میرل سٹریپ کے ساتھ سنہ 1994 میں ’دا ریور وائلڈ‘ کی ہدایت کی اور پھر سنہ 2000 میں ٹوبی میگوائر اور مائکل ڈگلس کے ساتھ ’ونڈر بوائز‘ کی ہدایت کی۔

سنہ 1997 میں انھوں نے ’ایل اے کنفیڈنشیئل‘ کے لیے لاس اینجلس میں جرائم پر مبنی جیمز ایلوری کے ناول کے پلاٹ پر شراکت میں سکرین پلے لکھا۔

ٹوئٹر پر امریکی اداکار اور موسیقار کیون بیکن نے لکھا: ’کرٹس ہینسن کی موت کی خبر پر غمزدہ ہوں۔ عظيم ہدایت کار، عظیم شخص، ان کے ساتھ اس ندی کو پار کرنا ہماری زندگی کا سب سے بڑا سفر تھا۔‘

اپنے آخری دور میں انھوں نے ایچ بی او کی فلم ’ٹو بگ ٹو فال‘ کی ہدایت کی تھی جس میں جیرارڈ بٹلر اور الزابیتھ شو شامل تھیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں