فلم ’ماہِ میر‘ آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد

تصویر کے کاپی رائٹ mah e mir

پاکستانی فلم ’ماہِ میر‘ کو فروری میں ہونے والے 89 ویں آسکر ایوارڈز کے غیر ملکی زبان کی فلم کے شعبے میں نامزد کیا گیا ہے۔

دو مرتبہ آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے باضابطہ طور پر فلم ’ماہِ میر‘ کو پاکستان کی جانب سے آسکر ایوارڈز کی حتمی نامزدگی کے لیے منتخب کیا۔

واضع رہے کہ آسکر ایوارڈز کی کمیٹی آئندہ سال جنوری میں حتمی نامزدگی کے لیے فلمیں منتخب کرے گی جبکہ آسکر ایوارڈز کی تقریب آئندہ سال فروری کے آخر میں منعقد ہوگی۔

دو ہزار تیرہ میں پاکستانی کی جانب سے باضابطہ طور پر فلموں کو آسکرایوارڈز کی حتمی نامزدگی کے لیے منتخب کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا، جس کے بعد 2013 میں فلم ’زندہ بھاگ‘ ، 2014 میں فلم ’دختر‘ اور 2015 میں فلم ’مور‘ کو نامزدگی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ تاہم ان میں سے کوئی بھی فلم حتمی نامزدگی حاصل نہیں کرسکی۔

ماہِ میر عصر حاضر کہ ایک نوجوان جمال ( فہد مصطفٰی ) کی کہانی ہے جو روایت سے بغاوت کرتا ہے اور اپنی زندگی میں محبت، جدائی اور غربت کے عذاب جھیلتا ہے اور جنون کی اسی کیفیت میں اٹھارویں صدی کے شاعر میر تقی میر کی وحشت سے آشنا ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ mah e mir

قواعد کے مطابق 30 ستمبر دوہزار سولہ تک ریلیز ہونے والی فلمیں اہل تھیں جن میں ’ہو من جہاں‘ ، ’بچانا‘ ، ’مالک‘ ، ’ہجرت‘ ، ’ماہِ میر‘ ، ’عکس بند‘ ، ’سوال سات سو کروڑ ڈالر کا‘ ، ’عشق پازیٹیو‘ ، ’ریونج آف دا ورتھ لیس‘ ، ’بلائنڈ لؤ‘ ، ’ڈانس کہانی‘ ، ’تیری میری لؤ اسٹوری‘، ’زندگی کتنی حسین ہے‘، ’جانان‘ ، ’ایکٹر ان لاء‘ شامل تھیں۔

ماہِ میر کے ہدایتکار انجم شہزاد نے بی بی سی کو بتایا کو انھیں انتہائی مسرت ہے کہ ان کی فلم پاکستان کی آسکر میں نمائندگی کرے گی اور انھوں امید ہے کہ وہ حتمی فہرست میں تو جگہ ضرور بنائے گی۔

انھوں نے کہا کہ کم از کم وہاں لوگ اس فلم کو دیکھیں گے اور انھیں پاکستانی سینیما کی کارکردگی کا اندازہ ہوگا۔

یاد رہے کہ ماہِ میر کو ناقدین کی جانب سے بہت پذیرائی ملی تھی مگر باکس آفس پر یہ کچھ زیادہ پیسے نہیں کما سکی تھی۔

انجم شہزاد کے مطابق پاکستانی سینما ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اس لیے ایسی فلم کا بننا اور چلنا ہی بڑی بات ہے کیونکہ ہمارے پاس ابھی فلموں کی تعداد ہی انتہائی کم ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ میڈیا اور عوام دونوں کو پاکستانی سینیما کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ایک طویل اور مشکل مرحلہ ہے۔

متعلقہ عنوانات