امّاں جان کے فارمولے کے مارے

تصویر کے کاپی رائٹ ZKHH
Image caption عید پر نمائش کے لیے پیش کی جانے والی تین پاکستانی فلموں میں سے ’زندگی کتنی حسِین ہے‘ نے سب سے کمزور بزنس کیا ہے

ایک فلم پروڈیوسر ہمیشہ مجھے بتاتے ہیں کہ اُن کی والدہ کے بقول ’جس فلم میں رونا نہ آئے، وہ فلم، فلم نہیں ہوتی۔‘

مجھے تھوڑا تھوڑا شک ہو چلا ہے کہ ’زندگی کتنی حسیِن ہے‘ کے فلمسازوں کا ٹاکرا کبھی نہ کبھی میرے دوست پروڈیوسر کی والدہ سے ضرور ہوا ہوگا کیونکہ لگتا ایسا ہے کہ امّاں جان کے فلم بنانے کا فارمولا انھوں نے پوری طرح اپنے مشامِ جاں میں بسا لیا ہے بلکہ فلمسازوں نے اس نصیحت کو اتنا دل پہ لے لیا ہے کہ ہر طرح کا پانی استعمال کر ڈالا ہے۔ جہاں آنسو نہ بہیں وہاں بارش کرا دی، جہاں بارش سے بھی کام نہ چلا تو سمندر میں غوطہ لگوا دیا۔

٭ اس مرتبہ عید پر صرف پاکستانی فلمیں ’زندگی کتنی حسیِن ہے‘ عید الاضحیٰ پر سنیماؤں میں ریلیز ہونے والی تیسری پاکستانی فلم تھی (باقی دو ایکٹر اِن لا اور جاناں تھیں)۔ اس کے ڈائریکٹر انجم شہزاد ہیں، جن کی پچھلی فلم ’ماہِ میر‘ تھی جو باکس آفس پر بُری طرح فلاپ ہوگئی تھی۔ عام ردِعمل اُس فلم کے بارے میں یہ تھا کہ وہ لوگوں کے سر کے اوپر سے گزر گئی تھی۔

شاید اسی لیے توقع تھی کہ انجم صاحب اپنی کمرشل ساکھ کی خاطر ایک انتہائی’ کمرشل‘ مسالادار فلم بنائیں گے لیکن انجم شہزاد کا بیک گراؤنڈ ٹی وی کے ڈراموں کا ہے۔ اسی لیے انھوں نے ٹی وی ڈرامے جیسی کہانی کا سہارا لیا ہے، جن کا دارومدار عموماً میاں بیوی (یا آج کل میاں بیویوں) کے رشتے پر ہوتا ہے اور جہاں رونا رُلانا لازم و ملزوم ہوتا ہے۔

اس فلم کی کہانی بھی ایک جوڑے کی ہے۔ زین (فیروز خان) اور ماہرہ (سجل علی) شادی کے سات سال بعد ایک پیارے سے بیٹے، ڈوڈو (جبرائیل احمد)، کے ماں باپ تو ہیں لیکن زندگی گزارنے کے بارے میں اُن کے اختلافات بار بار سر اُٹھاتے ہیں۔

زین ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں کام کرتا ہے لیکن فلمساز بننا چاہتا ہے۔ اپنے جنون میں وہ اپنی بیوی کو نظر انداز کرتا رہتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ آخری مرتبہ سچ مُچ میں گھر چھوڑ کے چلی جاتی ہے اور زین کو بتا دیتی ہے کہ اُن کی شادی اب ختم ہو چُکی ہے۔ (یہ الگ بات ہے کہ یہ کبھی پوری طرح واضح نہیں ہوتا کہ زین اور ماہرہ کی طلاق ہوگئی ہے یا نہیں۔)

تصویر کے کاپی رائٹ ZKHH
Image caption یہ فلم اُنھی ناظرین کے لیے بنائی گئی ہے جو سجل علی کے ٹی وی ڈرامے دیکھتے ہیں

یہاں سے معاملہ ڈوڈو کی کسٹڈی کا شروع ہوتا ہے۔ دونوں ڈوڈو سے بہت پیار کرتے ہیں اور ڈوڈو دونوں سے، لیکن زین اور ماہرہ میں تلخیاں بہت بڑھ چُکی ہیں۔ ماہرہ زین پر مار پیِٹ کا جھوُٹا الزام لگا دیتی ہے، جس کے بعد زین کیس سے دستبردار ہو جاتا ہے اور عدالت ڈوڈو کو اس کی ماں کے حوالے کر دیتی ہے۔

اگر آپ نے ہالی وُڈ کی1979 کی فلم ’کریمر ورسز کریمر‘ یا اس سے متاثر کئی بالی وُڈ فلمیں دیکھی ہوں تو اب تک کی کہانی کافی جانی پہچانی لگ رہی ہوگی۔ اور اسی موقعے پر انٹرول ہو جاتا ہے۔

یہاں تک تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ کہانی کے جانی پہچانی ہونے اور ایک دو عجیب و غریب اضافتوں کے باوجود، فلم قابلِ دید ہے لیکن اصل مسئلہ انٹرول کے بعد شروع ہوتا ہے، جب فلم کی کہانی اچانک انتشار کا شکار ہو جاتی ہے اور خالص میلوڈرامے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ کہانی اتنے حیران کُن موڑ سے گزرتی ہے کہ دیکھنے والا سر پکڑ کر رہ جاتا ہے۔

محسوس ایسا ہوتا ہے کہ لکھاری عبدالخالق خان اور ہدایتکار انجم شہزار کو کہا گیا ہے کہ ہر وہ حربہ استعمال کر لو جس سے لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ سکیں، چاہے اس کا کہانی سے جوڑ بنے یا نہ بنے اور اس کا حقیقت سے کوئی رشتہ ہو یا نہ ہو۔ عورت کی مظلومیت؟ ڈال دو۔ باپ کی بے بسی؟ ڈال دو۔ بچے کی معصومیت؟ ڈال دو۔ آفس میں باس کی سختی؟ ڈال دو۔ مالک مکان کی بے رحمی؟ ڈال دو۔ میڈیا کی ریٹنگ کے نام پر سنگدلی؟ ڈال دو۔ عجیب و غریب غنڈوں کی ہڈحرامی؟ ڈال دو۔

لیکن کہانی میں اتنے جھول ہیں کہ اُن میں ڈوڈو جیسا چھ سالہ بچہ بھی آسانی سے جھُولا لے سکتا ہے۔ مثلاً اس سارے قصّے میں زین اور ماہرہ کے والدین یا رشتہ دار یا دوست کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔ علیحدگی کے بعد ماہرہ راتوں رات ٹی وی کی سُپر سٹار بھی بن جاتی ہے۔ (ماہِ میر کی طرح یہاں بھی ساری دنیا ایک ہی چینل اور ایک ہی پروگرام دیکھتی ہے، جو ہدایتکار کی خواہش ضرور ہو سکتی ہے لیکن جس کا حقیقت سے دور پار کا رشتہ نہیں ہے۔)

تصویر کے کاپی رائٹ ZKHH
Image caption پرفارمنسز میں ڈوڈو کا کردار کرنے والا جبرائیل احمد کا کام بہت ہی عمدہ ہے

چلتے چلتے ذکر ہوتا ہے کہ زین نے ایک وقت کسی سے فلم بنانے کے لیے 50 لاکھ روپے قرض لیا تھا (جس کی وجہ سے شاید لیدر جیکٹوں میں ملبوس غنڈے اس کے پیچھے پڑے ہیں)۔ وہ پیسے کہاں گئے، یہ فلم ہمیں بتانا گوارا نہیں کرتی۔

(اس کے آگے کچھ سپائلر ہیں، چاہیں تو اگلے تین جملے بغیر پڑھے آگے بڑھ جائیں۔) زین ایک مہنگی ترین عمارت کے پینٹ ہاؤس میں رہتا ہے، لیکن کرایہ نہ دینے کی صورت میں اس کو ایسے نکالا جاتا ہے جیسے وہ کسی جھونپڑ پٹی میں رہتا ہو۔ فلم کا کلائمیکس بھی حقیقت سے کافی دور نظر آتا ہے۔ زین اپنے زخمی بچے کی زندگی ختم کرنے کو تیّار ہو جاتا ہے اور ڈاکٹر اس کو وینٹی لیٹر بند کرنے سے روکتے بھی نہیں جبکہ بچے کی لیگل کسٹڈی ماہرہ کے پاس ہے جو اس اقدام کے خلاف ہے اور اسے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ (سپائلر ختم)

لیکن شاید سب سے بڑا مسئلہ ہدایتکاری کے ساتھ ہے کیونکہ ڈائریکٹر یہ طے نہیں کر پاتا کہ زین کو کس نگاہ سے دکھانا چاہتا ہے۔ زین کا کردار کچھ کچھ بالی وُڈ کی فلم ’عاشقی 2‘ میں لڑکے کے کردار سے متاثر لگتا ہے یعنی کہ اس میں اسی طرح کی جنونیت، خودغرضی اور نرگسیت دیکھنے کو ملتی ہے۔ (ویسے فلم میں موسیقی کا استعمال بھی ’عاشقی 2‘ سے قدرے متاثر لگتا ہے۔) لیکن جہاں ’عاشقی 2 ‘ میں یہ بات واضح تھی کہ اس کا ہیرو ذہنی طور پر پریشان ہے، اس فلم کے ہدایتکار زین کو ایک اچھا باپ بھی دکھانا چاہتے ہیں اور اس سے ہمدردی بھی رکھتے ہیں۔

دوسری طرف کہانی کا ایک ٹریک میڈیا کی ریٹنگ کی دوڑ کے بارے میں ہے جس میں لوگوں کے احساسات کا استحصال فلم کا موضوع بنتا ہے لیکن، ماشااللہ! جب آپ کی اپنی فلم (اس کے اپنے ڈائیلاگ کے مطابق) ’عورتوں کے آنسو بیچ رہی ہے‘ ، تو پھر ٹی وی کے ٹاک شوز کے یہی کام کرنے پر تنقید کس مُنہ سے؟

تصویر کے کاپی رائٹ ZKHH
Image caption فیروز خان نے اس فلم میں مرکزی کردار ادا کیا ہے

پرفارمنسز میں ڈوڈو کا کردار کرنے والا جبرائیل احمد بہت ہی عمدہ کام کرتا ہے حالانکہ کبھی کبھار اس کے مُنہ میں جو مکالمے ڈالے جاتے ہیں وہ میں نے آج تک کسی چھ سالہ بچے کے مُنہ سے نہیں سُنے اور نہ ہی سُننے کی خواہش ہے۔ فیروز خان کچھ سینز میں بہتر کام کرتے ہیں لیکن مجموعی طور پر وہ بہت زیادہ متاثر نہیں کر پاتے۔ علی خان اس فلم میں ایک مارننگ شو کے پروڈوسر کا کردار ادا کرتے ہیں اور شاید یہ ان کے اب تک کے کریئر کی سب سے بہتر پرفارمنس ہو۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج تک علی خان کو اِسی رول کی تلاش تھی، یہ رول اُن پر بالکل صحیح بیٹھتا ہے۔ دیگر اداکاروں میں نیّر اعجاز کا ایک فلم پروڈوسر کے طور پر کیمیو انتہائی مزیدار ہے۔

لیکن ’زندگی کتنی حسِین ہے‘ کی اصل سٹار سجل علی ہیں۔ اُن کے پاس ایک عجیب و غریب قوّت یہ ہے کہ وہ آرڈر پر آنسو بہا سکتی ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اُن کا ٹی وی ڈراموں کا کریئر اسی قابلیت کی بدولت پروان چڑھا اور اس فلم میں بھی اس ہنرمندی کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔ بہت کم ایسے مناظر ہوں گے جن میں اُن کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو جاری نہ ہوں۔ سچ بات ہے کہ یہ قابلیت حیران کر دینے والی ہے۔ پرانے زمانے میں ایسی خواتین کو ’پلک موُتنی‘ کا نام دیا جاتا تھا۔

مزے کی بات یہ ہے کہ یہ فلم اُنھی ناظرین کے لیے بنائی گئی ہے جو سجل علی کے ٹی وی ڈرامے دیکھتے ہیں لیکن فی الحال لگتا ہے کہ یہ ناظرین گھروں سے اُس تعداد میں باہر نہیں نکلے جتنی فلمسازوں کو اُمید تھی۔ عید پر لگنے والی تین پاکستانی فلموں میں سے ’زندگی کتنی حسِین ہے‘ نے سب سے کمزور بزنس کیا ہے۔

افسوس کی بات صرف یہ ہے کہ ’زندگی کتنی حسِین ہے‘ کے بہتر پہلو، مثلاً اس کی عکاسی اور اس کی موسیقی، اس کے سکرپٹ اور ہدایتکاری کی کمزوریوں کی وجہ سے دب جاتے ہیں۔ بہر کیف، اس میں بھی اچھائی کا پہلو یہ ہے کہ آئندہ فلمساز کسی فارمولے کے پیچھے بھاگنے سے پہلے شاید دو تین مرتبہ سوچیں گے۔

فارمولے فلموں میں عموماً نہیں چلتے۔ چاہے وہ امّاں جان کے فارمولے ہی کیوں نہ ہوں!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں