http://www.bbc.com/urdu/

گمشدہ دلی کی کہانی

انتظار حسین اردو کے بلند پایہ افسانہ نگار ہیں۔ افسانے، ناول اور سفر نامے لکھتے لکھتے اب انہوں نے تاریخ پر بھی قلم اٹھایا ہے۔

حال میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’دلی تھا جس کا نام‘ میں انہوں نے ہندوستان کے دارالحکومت دہلی کی تاریخ کا ایک دور قصہ گوئی کے انداز میں بیان کیا ہے۔

انتظار حسین کی ’دلی‘ اندر پرستھ سے شروع ہوتی ہے جسے پانڈؤوں نے بسایا اور آج کے پرانے قلعہ کی جگہ پر اپنا راج نگر بنایا لیکن بعد میں ترک کردیا۔ زمانے بعد اسی نگر کو دوبارہ کسی راجہ نے جس کا نام دہلو تھا آباد کیا اور اس بستی کا نام پہلے دہلو اور پھر دہلی ہوا۔

اس کے سات سو بانوے برس اجاڑ پڑے رہنے کے بعد دس سو بانوے میں چوہانوں کے راجہ اننگ پال کی راجدھانی بنا۔ اس وقت سے یہ نگر کئی مرتبہ اجڑا اور آباد ہوا لیکن کسی نہ کسی صورت میں قائم رہا۔ مغلوں کے دور میں شاہ جہان آباد بنا اور برطانوی عہد میں نئی دہلی وجود میں آئی۔

انتظار حسین نے تاریخ اور داستان گوئی کے امتزاج سے اس شہر کی کہانی بیان کی ہے۔ وہ گیارہیں صدی میں راجہ اننگ پال کی راجدھانی سے لے کر انگریزوں کے مکمل تسلط تک اس شہر کے نمایاں سیاسی واقعات ، اس کی تہذیب اور اس کے لوگوں کے رہن سہن کا تذکرہ تاریخ، عوام الناس میں مقبول قصے کہانیوں اور کچھ اپنے تخیل کو ملا جلا کر کرتے ہیں۔

انتظار حسین نے دلی کی تاریخ کو اس طرح بیان کیا ہے جیسے دلی کے لوگ اور ہندوستان کے لوگ بالعموم تاریخ کو یاد رکھتے ہیں جس میں اہم واقعات کی وضاحت کے لیے سیاسی، معاشی اور ٹھوس مادی عوامل سے زیادہ اہم بات کوئی بدشگنی یا کسی اہم شخص کی خواہش ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر پانڈؤوں کے یدھشٹر مہاراج نے اندر پرستھ کو آخری سلام اس لئے کہا کہ ایک دن ان کے کھانے پر ایک مکھی آ بیٹھی جو انہیں بہت ناگوار گزرا۔ دلی کے راجپوت چوہان راجہ رائے پتھورا کا عشق اسے لے بیٹھا۔ وہ عشق کی خاطر ایک دوسرے راجہ جے چند سے دشمنی مول لے بیٹھا جس نے افغان حملہ آور شہاب الدین غوری سے ساز باز کرلی اور چوہانوں کا سورج غروب ہوگیا۔

تیرھویں صدی سے دلی پر مسلمانوں کا راج شروع ہوا اور دلی کبھی مختلف مسلمان حکمرانوں کا پایہ تخت بنی اور کبھی اس کی جگہ آگرہ نے لی۔

مصنف کی اصل دلچسپی کا موضوع دلی کا وہ دور ہے جو مغل حکمران شاہ جہان سے شروع ہوا جس نے اسے شاہجہان آباد کا نام دیا اور اپنی راجدھانی بنایا۔

اصل میں یہ کتاب شاہجہان آباد کی کہانی ہے۔ اس کے لوگوں کا رہن سہن اور ان کے مشاغل، معاشرتی ادب اداب، رسمیں ، ہنرمندوں کے قصے، تہوار، موسم، توہمات، کھیل تماشے، دلچسپیاں ، کھانے اور ایسی معاشرتی چیزیں اس کتاب کا موضوع ہیں۔ اس کا زیادہ حصہ ان چیزوں کے بیان پر مشتمل ہے۔

شاہجہان سے انگریزوں کی آمد تک جو اہم واقعات دلی اور مغل ہندوستان میں ہوئے ان کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔انتظار حسین اس قصہ کو انیس سو سو چوبیس کے ہندو مسلم فساد پر ختم کرتے ہیں جس کے ساتھ ان کے خیال میں شاہجہان آباد کے ٹمٹاتے چراغ کی لو بجھ گئی اور انگریزوں کی بسائی ہوئی نئی دہلی کا نقشہ جم گیا۔

یہ کتاب اس تہذیب اور معاشرے کی تاریخ ہے جو مغل دور میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے میل جول سے وجود میں آئی اور جسے ایک مشترکہ ہندوستانی تہذیب کا نام دیا جاتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان اور خصوصاً اشرافیہ اس دور کو ایک سنہری دور کے طور پر اور رومانوی انداز میں یاد کرتی آئے ہیں۔ انتظار حسین نے اسی طرز کو اپنایا ہے۔

دلی کی اس تاریخ میں مغلوں کا طرز حکومت، سیاسی اور جنگی حکمت عملی یا مالیہ ، انتظامیہ اور عدلیہ کا نظام زیر بحث نہیں ہے بلکہ شب برات، رمضان ، عید، ہولی اور محرم کی رسموں اور لوگوں کے اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے اور کھیل تماشوں کا ذکر ہے۔ ایک تاریخ دان جن جگہوں کو تاریخی ثبوت مہیا نہ ہونے پر خالی چھوڑ دیتا ہے انہیں انتظار حسین نے داستانوں، زبانی قصوں اور اپنے تخیل سے پُر کیا ہے۔

انتظار حسین کو اس بات کا اعتراف ہے کہ دلی کے رہنے والے لوگوں نے ان سے پہلے بہت کمال سے اس شہر کا بیان قلمبند کیا تھا جس میں ناصر نذیر فراق، منشی فیض الدین ، مرزا فرحت اللہ بیگ، اشرف صبوحی، شاہد احمد دہلوی کی تحریروں کا ذکر انہوں نے اپنے مختصر دیباچہ میں کیا ہے اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا ہے جن کی تحریروں سے ان کے بقول انہوں نے فیض اٹھایا۔ بہرحال ان کے کام کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ انہوں نے بکھری ہوئی باتوں کو یکجا کردیا ہے۔

انتظار حسین نے اپنے دیباچہ میں لکھا ہے کہ کہ انہوں نے یہ کتاب اپنے ناشر کی فرمائش پر لکھی ہے۔ تاہم ان کا برصغیر کے اس شہر کے بارے میں اور اس کے اس عہد کے متعلق لکھنا جو مسلمانوں کی سیاسی طاقت اور عروج کی علامت تھا بذات خود اہم ہے۔

دلی ایک شہر ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب کا مرکز تھا۔ آج جبکہ مغربی ممالک اور مسلمان معاشروں کے درمیان ایک کشمکش کا دور ہے، مسلمانوں پر شدت پسندی کا لیبل لگایا گیا ہے اور امریکہ نے افغانستان اور عراق کو فتح کیا ہے، ایسے میں مسلمانوں کے سیاسی عروج کے دور کا تذکرہ کرنا، اس کی خوبیوں کو بیان کرنا اور مسلمان حکمرانوں کے دور میں پروان چڑھنے والی رواداری اور برداشت کی تہذیب کا نقشہ کھینچنا معنی سے خالی نہیں۔

کہا جا سکتا ہے کہ انتظار حسین اس موضوع پر اس سے بہتر لکھ سکتے تھے اگر وہ مقبول عام چیزوں سے ذرا آگے جانا پسند کرتے اور دلی کے اشرافیہ اور متوسط طبقہ کی زندگی کے علاوہ اس شہر کی جو دوسری جُہتیں تھیں انہیں کریدنے کی کوشش کرتے۔ تاہم یہ کتاب سوچنے کے اس انداز کی نمائندہ ہے جو ہندوستان کے مسلمان متوسط طبقہ کا خاصہ رہا ہے اور اس کے تجزیہ سے کئی کارآمد باتیں نکالی جا سکتی ہیں اور مسلمانوں کی اس حالت کی توضیح کی جاسکتی ہے جس میں وہ آج ہیں۔

انتظار حسین کی زبان ایک خاص طرح کی ہے جو قلعہ معلا کی اردو اور یوپی کے متوسط گھرانوں کی عورتوں کی گھریلو زبان کے قریب ہے۔ وہ عورتوں کے روزمرہ اور محاورہ کو برتنا پسند کرتے ہیں۔ اس زبان میں ایک ملائمت ، شوخی اور کھلنڈرا پن ہے۔

موضوعات کے انتخاب میں بھی انتظار حسین کے ہاں عورتوں کی دلچسپی کی چیزیں زیادہ ہیں۔ وہ بڑے سے بڑے واقعہ کو گھریلو عورتوں کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ہندوستان کی عورتوں کے توہمات کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔ شائد یہ نسائیت بھی اس مشترکہ ہندو مسلم تہذیب کا ایک لازمی خاصہ تھی جس کی یاد میں یہ کتاب لکھی گئی ہے۔