http://www.bbc.com/urdu/

Wednesday, 13 October, 2004, 11:09 GMT 16:09 PST

عنبر خیری
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

کلیسائے روم کو چونکا دینے والی کتاب

کلیسائے روم کو چونکا دینے والی کتاب ’دی دا وِنچی کوڈ‘ اشاعات کے ڈیرھ برس بعد بھی تیزی سے بک رہی ہے اور آج کل وہ نیو یارک ٹائمز کی سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں کی فہرست میں شامل ہے۔

مصنف ڈین براؤن کی کتاب میں مذھبی تاریخ، یورپی ثقافت اور آرٹ کی دنیا سب شامل ہیں اور یہ ایک سنسنی خیز کہانی ہے جو پیرس کے مشہور میوزیم لوؤر میں ہونے والے ایک قتل سے شروع ہوتی ہے۔ قتل ہونے والا شخص ژاک سونئیر لوؤرمیں آرٹ کا ایک اہم ماہر تھا اور مرنے سے پہلے وہ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر روبرٹ لینگڈن کے لیے ایک پیغام چھوڑتا ہے۔

لینگڈن کو شک ہوتا ہے کہ سونئیر ایک قدیم خفیہ سوسائٹی کا فرد تھا اور اس کو اسی وجہ سے قتل کیا گیا۔ اس معمہ کو حل کرنے میں اس کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے اور وہ مختلف ممالک میں چھپتا پھرتا ہے۔
 کتاب میں صدیوں پرانی خفیہ سوسائٹی کا مرکزی خیال یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ نے میری میگڈالین سے شادی کر لی تھی اور ان کی نسل آج بھی زندہ ہے
 

ناول ایک بہت ہی تیزی سے آگے بڑھنے والے تھِرلر کے انداز میں لکھا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ لوگوں میں اتنا مقبول ہوا ہے۔ لیکن ہر لمحہ سسپنس پیدا کرنے والے اس ناول کی ایک اور خاص بات ہے: اس میں یورپی تاریخ اور ثقافت کا اہم کردار اہے اور کئی تاریخی مقامات کو ایک نئی روشنی میں دیکھا گیا ہے۔

کلیسائے روم کو چونکانے والی کئی چیزیں اس کہانی میں شامل ہیں۔ اول تو کلیسائے روم کی ایک بنیاد پرست اور انتہائی امیر فرقے ’اوپس ڈئی‘ کے بارے میں بہت تفصیل بتائی گئی ہے۔ دوسرا یہ کہ کہانی میں بتایا گیا ہے ویٹیکن اپنے مفاد کے تحفظ کے لیے حضرت عیسیٰ کی زندگی کے بارے میں ہر نئی تحقیق کو دبانے کی کوشش کرتی ہے چاہے اس کوشش میں کسی کو ہلاک بھی کرنا پڑے۔
تیسری بات یہ ہے کہ ’دا وِنچی کوڈ‘ میں صدیوں پرانی خفیہ سوسائٹی کا یہ مرکزی خیال کہ حضرت عیسی نے میری میگڈالین سے شادی کر لی تھی اور ان کی نسل آج بھی زندہ ہے۔
کتاب کے مصبف ڈین براؤن
کتاب کے مصبف ڈین براؤن

کتاب کا نام ’دی دا وِنچی کوڈ‘ اس لیے ہے کہ اس میں بتایا گیا ہے کہ مشہور اطالوی پینٹر لیوناردو دا وِنچی کا بھی اس خفیہ سوسائٹی سے تعلق تھا اور ان کی زیادہ تر پینٹنگز میں اس کی طرف اشارہ بھی ہے۔ کتاب میں ہر موڑ پر کوئی چیز ’کوڈ‘ میں ملتی ہے اور لینگڈن اور سونئیر کی نواسی اس کو مل کر بوجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ دونوں یورپ کے ایک تاریخی مقام سے دوسرے کی طرف بھاگتے پھرتے ہیں جن میں لندن کے ویسٹمنسٹر ایبی اور سینٹ پالز کیتھیڈرل اور پیرس کے ساکرا کیغ شامل ہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ کتاب کی انتہائی مقبولیت کے بعد اب ان مقامات پر ایک نئی قسم کی سیاحت شروع ہو گئی ہے جس کو ’دا وِنچی کوڈ‘ سیاحت کہا جا رہا ہے۔ کتاب کے شائقین اس میں مذکورہ مقامات پر جا کر ہر چیز کو اس ناول کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔

ویٹیکن اس ناول سے خوش نہیں البتہ اس نے اس بارے میں غالباً اس لیے زیادہ شور نہیں مچایا ہے کہ اسے معلوم ہے کہ ایسے کرنے سے یہ کتاب اور زیادہ بِکے گی!