BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 June, 2005, 12:00 GMT 17:00 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
اور منشی کے کاغذات جلا دیئے گئے
 
شاہی اور چغہ
ملکہ کی طرف سے منشی کریم کو دی جانے والی تلوار اور چغہ
یہ اقتباس بی بی سی اردو کے سینئر براڈکاسٹر رضا علی عابدی کی کتاب ’ملکہ وکٹوریا اور منشی عبدالکریم‘ سے لیا گیا ہے۔ منشی عبدالکریم ایک ہندوستانی تھے جو انیسویں صدی کے اواخر میں چودہ سال تک ملکہ برطانیہ کے بہت قریب رہے۔

اور منشی کے کاغذات جلا دیئے گئے

’اس دوران منشی عبدالکریم کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوا اور انہوں نے یہ کہہ کر ڈاکٹر ریڈ کی آرزو پوری کردی کہ ان کا برطانیہ میں رہنا مناسب نہیں اور وہ سال کے خاتمے تک آگرہ واپس چلے جانا چاہتے ہیں۔

پھر کچھ ایسا ہوا کہ 1898 کی تعطیلات خیر سے گزر گئیں۔ وکٹوریا اب بہت بوڑھی ہو چکی تھیں اور مزاج سے وہ جوش و ولولہ رخصت ہو رہا تھا۔ منشی کے بارے میں بھی اب انہوں نے چپ سادھ لی تھی لیکن کبھی کبھی اہل دربار کو ڈپٹ بھی دیتی تھیں۔

واپس برطانیہ آکر ریڈ نے اعلٰی حکام سے مشورے شروع کیے کہ منشی عبدالکریم کے پاس ملکہ کے جو خطوط ہیں، ملکہ کے مرنے کے بعد ان کا کیا بنے گا۔ کیوں نہ یہ سارے کاغذات ضبط کر لیے جائیں۔ یہ بات خاص طور پر پولیس کے سربراہ سے کی گئی۔ انہوں نے سارا معاملہ ڈاکٹر ریڈ پر چھوڑ دیا کیونکہ وہ ملکہ اور منشی، دونوں سے بہت قریب تھے اور ملکہ کی صحت کی جیسی خبر انہیں تھی، اور کس کو ہوگی لہذا وہی فیصلہ کریں کہ منشی کے کاغذات کو ٹھکانے لگانے کی گھڑی کب آئے گی۔

وہ گھڑی کہ ٹلنا جس کے مقدر ہی میں نہیں، آن پہنچی۔ نئے بادشاہ ایڈورڈ ہفتم کے حکم پر منشی کے تین میں سے ایک مکان، فروگمور کاٹج پر الاؤ روشن کیا گیا اور اس میں منشی حافظ عبدالکریم کے کاغذات جھونکے گئے۔ اس وقت خود منشی اور ان کے بھتیجے شعلوں کے سامنے سر جھکائے کھڑے تھے۔ اس منظر کے چشم دیدگواہ درکار تھے لہذا شاہ کی نمائندگی کے لیے ملکہ الیکزانڈرا موجود تھیں۔ آنجہانی ملکہ کی نیابت شہزادی بیٹرس کر رہی تھیں۔

دوسرا الاؤ 1909 میں آگرے میں منشی عبدالکریم کی وفات کے بعد جلا۔ اس کا حکم بھی شاہ ایڈورڈ نے دیا تھا۔ اس وقت وائسرائے لارڈ منٹو نے درخواست کی کہ منشی صاحب کی بیوہ کو ملکہ وکٹوریا کے ہاتھ سے لکھے ہوئے کچھ خط اپنے پاس رکھنے کی اجازت دے دی جائے۔ وہ دے دی گئی۔‘

(اگلا اقتباس آئندہ)

 
 
اسی بارے میں
 
 
بیرونی لِنک
 
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد