http://www.bbc.com/urdu/

Tuesday, 25 April, 2006, 18:00 GMT 23:00 PST

عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

نعیم ہاشمی کی یاد میں

پاکستان میں کسی راہ چلتے آدمی سے سوال کیجئے کہ پچھلے پچاس برسوں کے دوران سب سے مقبول فلمی نعت کونسی رہی ہے۔
فوراً جواب ملے گا:
شاہِ مدینہ!
یثرب کے والی
سارے نبی تیرے در کے سوالی۔

لوگوں کی اکثریت کو اس نعت کی دُھن بھی یاد ہے لیکن بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ یہ نعت اداکار نعیم ہاشمی کی لکھی ہوئی ہے۔

نعیم ہاشمی کو ہم سے جدا ہوئے آج پورے تیس برس ہو گئے ہیں۔ (وفات 27اپریل 1976 ) وہ ایک اداکار ہی نہیں، اعلٰی درجے کے قلمکار بھی تھے اور انھیں فلم کے کئی شعبوں میں اوّلیت کا شرف بھی حاصل ہوا لیکن قسمت نے کچھ مقامات پر اُن کا ساتھ نہ دیا اور اعزاز کسی اور کی جھولی میں جا گرا۔ مثلاً پاکستان کی سب سے پہلی فلم بھی دراصل نعیم ہاشمی نے پروڈیوس کی تھی جو کہ کشمیر کی تحریکِ آزادی کے بارے میں تھی لیکن ’انقلابِ کشمیر‘ نامی اِس فلم کا لاہور کے رٹز سینما میں ابھی پہلا ہی شو ہوا تھا کہ سیاسی وجوہ سے اِس کی نمائش پر پابندی لگا دی گئی۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سردار ابراہیم جو بعد میں آزاد کشمیر کے صدر بنے اس فلم میں ایک اداکار کے طور پر نمودار ہوئے تھے۔

پاکستان کا قومی ترانہ تو 1954 میں تیار ہوا تھا لیکن اس سے پہلے چھ سات برس تک سنیما گھروں میں ایک اور ترانہ گونجا کرتا تھا جسکے بول تھے:

سلام اے قائدِاعظم تِری عظمت ہے پائندہ
ترا پرچم ہے تابندہ، ترا پیغام ہے زندہ

یہ مِلّی نغمہ نعیم ہاشمی نے اپنی فلم انقلابِ کشمیر کے لئے لکھا تھا اور اسے کسی مشہور سِنگر نے نہیں بلکہ اردو کے درویش صفت شاعر ساغر صدیقی نے گایا تھا۔

نعیم ہاشمی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد لاہور میں سب سے پہلا سٹیج ڈرامہ انھوں نے پیش کیا تھا۔ ’شادی‘ نام کا یہ ڈرامہ 1948 میں لاہور کے اوڈین سینما میں دکھایا گیا۔

یہاں یہ وضاحت مناسب ہوگی کہ اداکار سلیم رضا کا گلوکار سلیم رضا سے کوئی تعلق نہیں، یہ دو الگ الگ شخصیات تھیں۔ اداکارہ اور رقاصہ ایریکا بعد میں پاکستان آگئیں اور ’رخشی‘ کے نام سے مشہور ہوئیں۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں انھوں نے یہاں کی معروف ترین فلمی رقاصہ کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔ ماشااللہ ابھی تک حیات ہیں اور لاہور میں رہتی ہیں۔

نعیم ہاشمی نے قیامِ پاکستان کے بعد لاہور آکر اداکار، فلم ساز و ہدایتکار نذیر کے ادارے میں کام شروع کر دیا۔ نذیر خود بھی فلم کے کئی شعبوں میں دسترس رکھتے تھے اور نعیم ہاشمی کی صلاحیتوں کے قائل تھے چنانچہ اس ادارے کے لئے نعیم ہاشمی نے خاتون، نوراسلام، شمع اور عظمتِ اسلام جیسی فلمیں تحریر کیں اور جہاں جہاں موقع ملا اپنی اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔