BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 December, 2006, 12:35 GMT 17:35 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ادبی انسائیکلو پیڈیا: پنجابی ترجمہ
 

 
 
انسائیکلو پیڈیا آف انڈین لٹریچر
انسائیکلو پیڈیا آف انڈین لٹریچر بھارت کی ساہتیہ اکیڈمی کا ایک وسیع منصوبہ تھا جس پر اسّی کی دہائی میں کام شروع ہوا اور 1994 میں یہ بڑی تقطیع کے پانچ ہزار سے زیادہ صفحات کی صورت میں مکمل ہوا۔

انسائیکلو پیڈیا کی چھ جلدوں میں ہندوستان کی بائیس زبانوں کے ادب کا احوال الفبائی ترتیب میں درج ہے۔

اس منصوبے کا خاکہ ساہتیہ اکیڈمی کے سابق صدر اور مشہور ماہرِ لسانیات ڈاکٹر سنیتی کمار چیٹر جی کی سرکردگی میں 1974 میں پیش ہوا تھا لیکن کام کا عملی آغاز 1987 سے قبل ممکن نہ ہوسکا۔

جن بائیس زبانوں کے ادب پر اس انسائیکلو پیڈیا میں روشنی ڈالی گئی ہے، پنجابی بھی اُن میں سے ایک ہے۔ بلونت گارگی اور کرتار سنگھ دُگّل سمیت مشرقی پنجاب کے 42 ادیبوں اور دانشوروں نے اس منصوبے کے پنجابی حصّے کو مرتب کرنے میں تعاون کیا تھا۔

تقسیمِ ہند کے بعد دونوں حصّوں میں آمد و رفت پر لگی پابندیوں، کتابوں رسالوں کے تبادلے میں حائل مشکلات اور عمومی سیاسی تناؤ کے باعث پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کا خاطر خواہ تذکرہ اس انسائیکلو پیڈیا میں شامل نہیں ہوسکا چنانچہ ہاشم شاہ، ہدایت اللہ، سید فضل شاہ، فیروز دین شرف، شاہ اشرف، حافظ برخوردار، احمد یار، غلام رسول، علی حیدر حتٰی کہ خواجہ غلام فرید کے بارے میں بھی تفصیلی احوال درج نہیں ہے۔

انسائیکلو پیڈیا آف انڈین لٹریچر
 جن بائیس زبانوں کے ادب پر اس انسائیکلو پیڈیا میں روشنی ڈالی گئی ہے، پنجابی بھی اُن میں سے ایک ہے۔ بلونت گارگی اور کرتار سنگھ دُگّل سمیت مشرقی پنجاب کے 42 ادیبوں اور دانشوروں نے اس منصوبے کے پنجابی حصّے کو مرتب کرنے میں تعاون کیا تھا
 
تاہم ایک اتنی اہم تصنیف کو پنجابی میں ترجمہ کر کے شہ مکھی (فارسی) رسم الخط میں شائع کردینا بذاتِ خود پاکستان کی سب سے بڑی علاقائی زبان کی ایک خدمت ہے۔

انسائیکلو پیڈیا کے پنجابی حصّے کا ترجمہ ڈاکٹریٹ کے طالبِعلم منیر گجر نے 2002 میں بطور تھِیسس کیا تھا لیکن ایک کتاب کی صورت میں اسکی اشاعت 2006 ہی میں ممکن ہوسکی۔

اپنی تحقیق کے دوران منیر گجر نے انتہائی باریک بینی سے انسائیکلو پیڈیا کے متعلقہ حصّے کا جائزہ لیا ہے۔ کمپوزنگ اور طباعت کی غلطیوں سمیت، مرتب نے کئی ایسی خامیوں اور کوتاہیوں کی طرف اشارے کئے ہیں جنھیں دُور کرکے اس تصنیف کو طالب علموں اور عام قارئین کے لیے زیادہ مفید بنایا جا سکتا ہے۔

تاہم اپنی موجودہ شکل میں بھی یہ ایک کارآمد دستاویز ہے۔ چلیں اس کی افادیت کا اندازہ لگانے کے لِیے ہم اسے بِلا ارادہ کہیں سے بھی کھول لیتے ہیں اور صفحہ 126 ہمارے سامنے آجاتا ہے جِس پر ہمیں یہ اندراج نظر آتا ہے:

’ٰانسائیکلوپیڈیا‘ اِس سُرخی کی ذیل میں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ پنجابی زبان میں چھپنے والے اوّلین انسائیکلو پیڈیا کا نام تھا ’گورشبد رتناکر مہان کوش‘ جو کہ 1930 میں سابق ریاست پٹیالہ کی سرپرستی میں چھپا تھا اور اسے بھائی کاہن سنگھ نابھا نے مرتب کیا تھا۔ کاہن سنگھ ایک منفرد ادیب اور زیرک مورخ تھے۔ انھوں نے گرنتھ صاحب کے بارے میں بھی وقیع اور نا قابلِ تردید تاریخی شہادتیں مہیّا کی تھیں لیکن پنجابی انسائیکلوپیڈیا اُن کی عمر بھر کی محنت کا نچوڑ تھا۔ اگرچہ انھوں نے یہ تحقیق سکھ دھرم کی خدمت کے طور پہ شروع کی تھی لیکن بعد میں اسکا دائرہ اتنا پھیل گیا کہ ہندی اور پنجابی زبانوں کے بارے میں بہت سی کھوج بھی اس میں شامل ہوگئی۔

اس انسائیکلوپیڈیا میں پنجابی کے قدیم قلمی مخطوطوں میں استعمال ہونے والے ستّر ہزار الفاظ کو الفبائی ترتیب میں لکھ کر انکی تشریح و توضیح کی گئی ہے۔ اس موقّردستاویز کا دوسرا ایڈیشن 1960 میں چھپا اور تیسرا ایڈیشن حکومتِ پنجاب کی جانب سے نہایت اہتمام کے ساتھ 1974 میں شائع ہوا۔

اسکے بعد پنجابی فوک لور کے انسائیکلوپیڈیا ’پنجابی لوک دھارا وِشو کوش‘ کا ذکر ملتا ہے جوکہ 1950 میں شائع ہوا۔ اس میں پنجاب کی پرانی حکائتیں، بزرگوں کے اقوالِ زریں، لوک داستانیں، قصّے کہانیاں اور نصیحت آموز چُٹکلے ملتے ہیں۔ اس مجموعے کی پہلی دو جلدیں 1978 میں شائع ہوئیں، تیسری جلد 1979 میں چھپی اور چوتھی جلد 1981 میں منظرِ عام پر آئی۔ پنجابی کے لوک ادب کو جمع کرنے کا کام مسلسل جاری ہے اور اسکی مزید کئی جلدیں ابھی منظرِ عام پر آنے والی ہیں۔

ان دو مثالوں سے واضح ہوجانا چاہیئے کہ منیرگجر نے پنجابی میں ترجمے کے لیے جِس مواد کا انتخاب کیا ہے وہ پنجاب کے ادب اور یہاں کی ثقافت کےلیے کتنا وقیع ہے۔

 
 
اسی بارے میں
پنجابیوں کی مادری زبان؟
13 May, 2004 | قلم اور کالم
زبان سانجھی ملک جدا
30 January, 2004 | پاکستان
’سندھی اور پنجابی کا میل‘
10 December, 2006 | قلم اور کالم
گرمکھی میں قرآن
20.04.2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد