BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 August, 2007, 14:57 GMT 19:57 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’رب سے ہمکلام کر دینے والا نصرت‘
 

 
 
نصرت فتح علی خان
انیس سو اڑتالیس میں پاکستانی پنجاب کے شہر فیصل آباد میں پیدا ہونے والے نصرت فتح علی خان کو ان کے والد قوال نہیں بنانا چاہتے تھے۔ لیکن کہتے ہیں کہ نصرت فتح علی خان نے اپنے والد کی وفات کے دس دن بعد ہی انہیں خواب میں دیکھا جس میں انہوں نے نصرت کو گائیکی کرنے کی تاکید کی۔ اس وقت نصرت فتح علی کی عمر سولہ برس تھی۔اور یوں بطور قوال وہ دنیائے موسیقی میں متعارف ہوئے۔

ان کی شروع کے سالوں کی گائیکی تصوف کے پیغامات سے بھرپور رہی۔ شاعری سے لے کر موسیقی تک ان کی قوالی کا ہر جز سماع کے دوران سامعین پر وجد طاری کر دینے کے لئے کافی ہوتا تھا اور تصوف کے شاگرد مزاروں اور سماع کی مختلف محفلوں میں جا کر اس روحانی کیفیت سے فیض یاب ہوتے۔

یہ وہ وقت تھا کہ پاکستان میں زیادہ لوگ ان کے نام سے آشنا نہیں تھے۔ تاہم نوے کی دہائی میں ایک قوالی ’دم مست قلندر‘ پورے پاکستان میں ان کی پہچان بن گئی۔

اس وقت تک مغرب کے موسیقار نصرت فتح علی خان کے کام سے آشنا ہو چکے تھے اور ان میں کئی بہت متاثر تھے۔ اس بارے میں بھارت کے مشہور فلمساز اور موسیقار مظفر علی کہتے ہیں کہ ’نصرت کی آواز دلوں میں گھر کر جاتی تھی۔ مشرق ہو یا مغرب، ہندوستان ہو یا پاکستان، ان کی آواز نے تمام سرحدیں توڑ دیں۔‘

نصرت فتح علی نے قوالی میں جدت لا کر مغرب میں بڑے پیمانے پر اس صنف کو متعارف کروایا اور اس کے ساتھ ساتھ مغرب کے نامور موسیقاروں کے ساتھ مل کر اپنے فن کا مظاہرہ کیا جس کے بعد مغرب میں بھی وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں رہے۔ـ لیکن مغرب میں موسیقاروں نے قوالی میں جدت متعارف کروانے کے لئے نئے ساز شامل کیے۔ کیا اس سے اس کی اصل صنف پر کوئی فرق پڑا؟ اس بارے میں مظفر علی کہتے ہیں کہ یہ کوئی اچھی کوشش نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا: ’ قوالی میں بجنے والے تمام ساز ایک رنگ یا مزاج میں دھلے ہوتے ہیں۔ان پر اضافی ساز ڈالنا زبردستی دوسرا لباس پہنانے کے مترادف ہے۔‘

 نصرت کی گائیکی آپ کو دعوت دیتی ہے چپکے سے کان لگا کر اس گفتگو کو سننے کی جو ایک بندے اور اسکے رب کے درمیان ہوتی ہے۔وہ گائیکی کے عمل کو بندگی بنا دیتے ہیں، اپنے رب کے حضور نذرانہ پیش کرنے کا عمل
 
ایک مغربی مداح

جب مظفر علی سے پوچھا گیا کہ آیا کیا اس جدت کے باوجود نصرف فتع علی خان کے ذریعے روحانیت کا پیغام مغرب تک پہنچا، تو ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نقرت فتح علی خان نے مغرب میں روحانیت کو متعارف کرایا۔

ان کے ایک مغربی مداح نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ’ نصرت کی گائیکی آپ کو دعوت دیتی ہے چپکے سے کان لگا کر اس گفتگو کو سننے کی جو ایک بندے اور اسکے رب کے درمیان ہوتی ہے۔وہ گائیکی کے عمل کو بندگی بنا دیتے ہیں، اپنے رب کے حضور نذرانہ پیش کرنے کا عمل۔ لیکن نصرت کو سنتے ہوئے ہم محض ایک بندے اور اسکے رب کی گفتگو نہیں سنتے بلکہ ان کی گائیکی کا اصل جادو ہی یہ کہ ہمارے دل ان کی گائیکی کے اتار چڑہاؤ کے ساتھ دھڑکنے لگتے ہیں، ان کی گائیکی میں ضم ہو جاتے ہیں اور ہم رب کے حضور اس نذارانے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ گائیکی میں رب سے گفتگو کرتے ہیں اور ہمیں بھی اس سے ہمکلام کر دیتے ہیں۔‘

 
 
نصرت فتح علی خان نصرت سے دو ملاقاتیں
جس نے قوّالی میں زندگی کی روح پھونک دی تھی
 
 
نثار بزمی’سازِ صدا خاموش‘
نثار بزمی کا آخری وقت گوشہ نشینی میں گزرا
 
 
بدر میاں دادبدر میانداد چل بسے
سو سے زیادہ البم دینے والا قوال اور گلوکار نہ رہا
 
 
اسی بارے میں
نصرت کے لئے بی بی سی ایوارڈ
21 August, 2003 | فن فنکار
نصرت فتح علی کی وراثت
21 August, 2003 | فن فنکار
نصرت فتح علی کی وراثت
16 August, 2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد