BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 August, 2007, 17:03 GMT 22:03 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
نصرت فتح علی خان سے دو ملاقاتیں
 

 
 
نصرت فتح علی خان تیرہ اکتوبر سنہ انیس سواڑتالیس کو لائل پور میں پیدا ہوئے اور سولہ اگست سنہ انیس سو ستانوے کو لندن کے ایک ہسپتال میں وفات پائی۔
انہیں ایک ایسے فن کار کے طورپر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جس نے قوّالی کی مرتے ہوئے جسم میں زندگی کی روح پھونک دی تھی۔ زیرِ نظر مضمون میں عارف وقار نے ان سے اپنی دوملاقاتوں کا احوال بیان کیا ہے۔



نصرت فتح علی خان سے ان کے ایک گمنام مداح کے طور پر ملاقات کرنے کی حسرت توہمیشہ دل ہی میں رہی البتہ بی بی سی کے ایک کارکن کی حثیت میں ان سے دو ملاقاتیں ضرور ہوئیں: ایک برمنگھم میں اور دوسری لندن میں۔

برمنگھم کی ملاقات چونکہ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے سلسلے میں تھی اس لیے مجھے خاصا ہوم ورک کرنا پڑا اور مرحوم کے بارے میں جتنا بھی مطبوعہ مواد مجھے انگریزی اور اردو میں میسر تھا، پڑھ ڈالا۔ سب سے بھر پور معلومات مجھے عقیل روبی کی مرتب کردہ سوانح عمری سے حاصل ہوئیں جن کے صلے میں نہ صرف شکریے کا خط بلکہ چند پونڈ ہدیے کے طور پر بی بی سی کے خزانے سے سوانح نگار کی خدمت میں حاضر کیے۔

(کئی برس بعد لاہور میں ملاقات پر عقیل روبی نے بتایا کہ بی بی سی کا وہ چیک انہوں نے کیش نہیں کرایا بلکہ نصرت فتح علی کی یاد میں ہمیشہ کے لیے ایک فریم میں محفوظ کرا لیا ہے۔)

بہرحال ہر طرح کے سوانحی کیل کانٹے سے لیس ہوکر جب میں کیمرے، مائیکروفون اور ریکارڈنگ کے دیگر سازو سامان کے ساتھ مقررہ جگہ پر پہنچا تو وہاں نصرت فتح علی موجود نہ تھے۔ایک لمحے کے لیے مجھے پی ٹی وی کا زمانہ یاد آگیا جب فن کار اور ہدائت کار وقت مقرّرہ کی قید و بند سے آزاد اپنے من کی موج میں سٹوڈیو آیا کرتے تھے۔نہ ریکارڈنگ شروع ہونے کا کوئی وقت تھا نہ ختم ہونے کا۔ شفٹ ختم ہوجاتی تو اوور ٹائم کا زرخیزاور دولت آفریں زمانہ شروع ہوجاتا جس میں ملازمین کو کام ختم کرنے کی کوئی جلدی نہ ہوتی بلکہ انتہائی سست روی سے کام کو آگے بڑھایاجاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اتنے برس بی بی سی کے دارالمحن میں کام کرنے کے بعد پی ٹی وی کا زمانہ فردوس گم گشتہ کی سنہری یاد سے زیادہ کوئی حثیت نہ رکھتا تھا۔

انگریزی رواں کرنا
 نصرت فتح علی مسکراتے ہوئے جھاڑیوں کے پیچھے سے برآمد ہوئے۔جب میں نے شکوے کے انداز میں کہا کہ آپ کہاں غائب ہوگئے تھے تو وہ اپنی مخصوص بچوں والی مسکراہٹ کے ساتھ بولے ’میں ذرا اپنی انگریزی رواں کررہا تھا۔‘
 

بہرحال یادِ ایّامِ عشرتِ فانی کو ذہن سےجھٹکا اور میزبان سے دریافت کیا کہ نصرت کہاں ہیں؟ وہ مسکرا کر بولے ’سیرِ چمن میں مصروف ہیں۔‘

یہاں یہ بتا دینا مناسب ہوگا کہ بی بی سی کے انگریز کارپردازان اس انٹرویو کو بہت اہمیت دے رہے تھے اور خاصی بحث و تمحیص کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ اس کی ریکارڈنگ سٹوڈیو میں کرنے کی بجائے برمنگھم کے سب سے بڑے پارک میں کی جائے۔

تازہ پھول کلیوں سے مزّین پارک کے اس گوشے کا انتخاب ایک دن پہلے کرلیا گیا تھا اور دن کے ساڑھے دس بجے نصرت کو وہاں پہنچنا تھا تا کہ گیارہ بجے ریکارڈنگ شروع کر دی جائے۔

جب ہماری ٹیم کیمرے،لائٹ اور ساؤنڈ کی تکنیکی تیاریاں مکمل کرچکی اور میری تشویش کا دور شروع ہواتو نصرت فتح علی مسکراتے ہوئے جھاڑیوں کے پیچھے سے برآمد ہوئے۔جب میں نے شکوے کے انداز میں کہا کہ آپ کہاں غائب ہوگئے تھے تو وہ اپنی مخصوص بچوں والی مسکراہٹ کے ساتھ بولے ٰمیں ذرا اپنی انگریزی رواں کررہا تھاٰ۔

جب میں نے بتایا کہ انٹرویو انگریزی میں کرنا ضروری نہیں تو ان کا چہرہ اتر گیا۔ بولے کہ میں نے تو فُل تیاری کر رکھی ہے۔ سٹار میوزک کمپنی کے مالک جو نصرت کے میزبان تھے بضد تھے کہ یہ انٹرویو انگریزی میں ہونا چاہیے کیونکہ یہ بی بی سی ٹو سے نشر ہوگا۔

میں نے ان سے کہا کہ راگ داری کی کچھ باتیں انگریزی کے دامن میں نہیں سما سکتیں مثلا تان اور پلٹے کے سارے کرتب خان صاحب انگریزی میں کیسے بیان کریں گے اور اگر انہوں نے کسی طرح کر بھی دیئے تو ناظرین کی سمجھ میں کس طرح آئیں گے۔

 میری آواز سن کر انہوں نے مجھے پہچان لیا اوربولے:’ٰانگریزی وِچ کہ پنجابی وِچ‘۔ وہ گردن ہلانے میں دقت محسوس کررہے تھے اس لیے بدستور چھت کی طرف دیکھتے ہوئے مسکراتے رہے اور کچھ وقفے کے بعد بولے: ’کراں گے ۔۔۔ضرور کراں گے۔‘ اس کے بعد وہ نیند کی آغوش میں چلے گئے۔
 

اس کے بعد میں نے نصرت فتح علی سے براہ راست مخاطب ہوکر کہا:
’خان صاحب! اج تہاڈے نال کُھلیاں ڈُلیاں گلاں کرنیاں نیں۔‘ اس پر خان صاحب کِھل اٹھے اوربولے ’تے فیر پنجابی وچ ای کرلؤ۔‘

چونکہ اس انٹرویو کو انگریزی سب ٹائٹل کے ساتھ ہی چلنا تھا اس لیے پنجابی یا اردو سے کوئی فرق نہیں پڑنا تھا۔

چنانچہ برمنگھم کے اس گوشہ چمن میں خان صاحب کا انٹرویو برائے بی بی سی بزبان پنجابی شروع ہوگیا اور ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔

سنہ انیس سو چھیانوے میں جب برطانیہ میں دیسی چینل اتنی تعداد میں موجود نہیں تھے، یہ پنجابی انٹرویو ایک خاصے کی چیز تھی جس میں خان صاحب نے بتایا کہ بچپن میں وہ کس طرح اپنی آواز کے بارے میں احساسِ کمتری کا شکار تھے اور کچھ لوگ توانہیں سُر کے سلسلے میں ننگ خاندان تک قرار دیتے تھے لیکن جب نصرت کو بھارتی فلموں کی موسیقی ترتیب دینے کے سلسلے میں بمبئی بلایا گیا تو یہی لوگ انہیں مبارک باد دینے آئے۔

دوران گفتگو نصرت نے اعتراف کیا کہ قوّالی کا فن رُوبہ زوال ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے سرنگ کے آخری سرے پر جھلک دکھانے والی روشنی کی طرف بھی اشارہ کیا اور بتایا کہ بالی وڈ نے قوالی کی صنف کو جس طرح اپنایا ہے اس سے اس کے تن مردہ میں جان پڑگئی اور خانقاہوں کے محدود دائرے سے نکل کر قوالی اب ڈرائنگ روم کی زینت بن گئی ہے۔

برمنگھم میں خان صاحب سے اس تاریخی ملاقات کے ایک برس بعد پتہ چلا کہ وہ لندن کے کرامویل ہسپتال میں داخل ہیں اور گُردوں کی تکلیف خاصی سنجیدہ شکل اختیار کر گئی ہے۔

یہ زمانہ تھا سنہ انیس سو ستانوے کے موسم گرما کا۔ اگست کا مہینہ شروع ہوچکا تھا اور آزادیء پاک و ہند کا پچاس سالہ جشن پورے جوبن پر تھا۔ بی بی سی بھی آزادی کی گولڈن جوبلی کے موقع پر خصوصی پروگرام پیش کر رہا تھا۔ میں نے پاک ہند دوستی کے سلسلے میں انہی دنوں نور جہاں کا ایک طویل انٹرویو ریکارڈ کیا تھا اور اب اسی سلسلے میں خان صاحب کے ساتھ بھی ایک تفصیلی گفتگو کرنا چاہتا تھا۔

قوّالی کا فن رُوبہ زوال
 نصرت نے اعتراف کیا کہ قوّالی کا فن رُوبہ زوال ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے سرنگ کے آخری سرے پر جھلک دکھانے والی روشنی کی طرف بھی اشارہ کیا اور بتایا کہ بالی وڈ نے قوالی کی صنف کو جس طرح اپنایا ہے اس سے اس کے تن مردہ میں جان پڑگئی اور خانقاہوں کے محدود دائرے سے نکل کر قوالی اب ڈرائنگ روم کی زینت بن گئی ہے
 

بیگ میں ٹیپ ریکارڈر چھپا کرمیں کرامویل ہسپتال کے اس کمرے تک تو پہنچ گیا جہاں خان صاحب آرام فرما رہے تھے لیکن بات کرنے کا ماحول نہ تھا۔گُردوں کی صفائی والی مشین چالو تھی اور خان صاحب بے حس و حرکت پڑے تھے۔یہ غالباگیارہ یا بارہ اگست کا دن تھا۔

جب مشین رکی اورطبّی عملہ باہر چلا گیا تو خان صاحب کو پینے کے لیے پانی دیا گیا۔اس کے بعد وہ آنکھیں بند کرکے لیٹ گئے۔ میں ان کی توجہ کے انتظار میں کافی دیر وہاں کھڑا رہا۔

جب انہوں نے آنکھیں کھولیں تو میں نے کہا کہ میں چودہ اگست کے لیے ان کا پیغام ریکارڈ کرنا چاہتا ہوں۔میری آواز سن کر انہوں نے مجھے پہچان لیا اوربولے:
’ٰانگریزی وِچ کہ پنجابی وِچ‘۔
’جیسے آپ چاہیں۔‘
وہ گردن ہلانے میں دقت محسوس کررہے تھے اس لیے بدستور چھت کی طرف دیکھتے ہوئے مسکراتے رہے اور کچھ وقفے کے بعد بولے۔
’کراں گے ۔۔۔ضرور کراں گے۔‘
اس کے بعد وہ نیند کی آغوش میں چلے گئے۔

اگلے روز میں عملے کی نگاہوں سے بچتا بچاتا، ٹیپ ریکارڈر سمیت پھر ان کے کمرے تک پہنچ گیا لیکن اس روز دو ڈاکٹر اور کئی نرسیں وہاں موجود تھیں اور تیمار داروں کا داخلہ ممنوع تھا۔

بی بی سی سے چودہ اگست سنہ انیس سو ستانوے کو نشر ہونے والا خصوصی پروگرام خان صاحب کے پیغام سے محروم رہا اور دوروز بعد پتہ چلا کہ ہم ہمیشہ کے لیے نصرت فتح علی خان سے محروم ہوچکے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
نصرت: اکھیاں اڈیکدیاں
16.08.2002 | صفحۂ اول
نصرت فتح علی کی وراثت
16 August, 2003 | صفحۂ اول
نصرت فتح علی کی وراثت
21 August, 2003 | فن فنکار
نصرت کے لئے بی بی سی ایوارڈ
21 August, 2003 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد