BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 August, 2007, 20:50 GMT 01:50 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
تقسیمِ ہند: ناول اور فلمیں
 

 
 
پنجر
امرتا پریتم کا غیر معروف ناول فلم کی شکل اختیار کرتے ہی مشہور ہو گیا
گزشتہ ساٹھ برس کے دوران پاک و ہند کی مختلف زبانوں میں اور خاص طور پر اُردو، ہندی، پنجابی اور بنگالی میں تقسیمِ ہند کے موضوع پر سینکڑوں کہانیاں لکھی جا چُکی ہیں اور بیسیوں ناول بھی تحریر ہوئے ہیں۔

تقسیمِ ہند کے موقع پر پیش آنے والی صورتِ حال کو بہت سی فلموں نے بھی اپنا موضوع بنایا ہے۔ اِس جائزے میں ہم صرف ایسے ناولوں اور کہانیوں کا ذکر کریں گے جو بعد میں پردہء سیمیں تک پہنچنے میں بھی کامیاب ہوگئیں۔

گفتگو کا آغاز عصمت چغتائی (1991-1915) کی ایک کہانی سے کرتے ہیں۔ عصمت کو ترقی پسند تحریک کی ایک سرگرم کہانی کار کا درجہ دیا جاتا ہے۔ منٹو کے افسانوں کی طرح اُن کی کہانی’لحاف‘ پر بھی فحاشی کے الزام میں مقدمہ چلا تھا لیکن عدالت نے انھیں باعزت بری کر دیا تھا۔

1948 میں عصمت کے ناول ’ضِدّی‘ کو اُن کے شوہر شاہد لطیف نے فلم کی شکل میں ڈائریکٹ کیا تھا اور 1950 میں عصمت نے اپنے شوہر کی پروڈکشن کے لیے فلم آرزو کا سکرپٹ تحریر کیا تھا۔

ضدی میں دیوآنند، چندا، کامنی کوشل اور پران نے اہم کردار ادا کئے تھے جبکہ آرزو میں دلیپ کمار اور کامنی کوشل مرکزی کردار تھے۔ عصمت چغتائی نے 1978 میں بننے والی فلم جنون کے مکالمے بھی لکھے تھے اور ششی کپور کی اس فلم میں خود ایک کردار بھی ادا کیا تھا۔

عصمت چغتائی کی کہانی’گرم ہوا‘ ایک ایسے مسلم خاندان کے گرد گھومتی ہے جس کے کچھ افراد تقسیم کے بعد پاکستان چلے جاتے ہیں لیکن سلیم مرزا نامی ایک شخص بضد ہے کہ ہندوستان اس کا وطن ہے اور وہ کہیں نہیں جائے گا۔

عصمت چغتائی کی کہانی سے ماخوذ فلم گرم ہوا کا ایک منظر

سلیم مرزا پر جو آفتیں ٹوٹتی ہیں وہ اُن بہت سے قوم پرست مسلمانوں کی بپتا بیان کرتی ہیں جنھوں نے پاکستان منتقل ہونے کی بجائے بھارت میں رہنے کو ترجیح دی لیکن کبھی غّداری اور کبھی جاسوسی کے الزامات لگا کر اُن کا جینا حرام کیا گیا۔

عصمت چغتائی کی اس کہانی کو کیفی اعظمی نے فلمی سکرپٹ میں ڈھالا تھا اور ایم۔ایس ستھیو اس کے ڈائریکٹر تھے۔ سلیم مرزا کا مرکزی کردار بلراج ساہنی نے ادا کیا تھا، اور کیا خوب ادا کیا تھا! اُس زمانے کے بھارتی مسلمان کا کرب شاید اِس سے بہتر انداز میں پیش نہ کیا جا سکتا۔

جلال آغا نے بھی ایک اِبن الوقت اور موقع پرست نوجوان کا کردار انتہائی خوبی سے نبھایا تھا۔ گرم ہوا کو تقسیمِ ہند کے موضوع پر بننے والی فلموں میں ہمیشہ ایک بلند مقام حاصل رہے گا۔

نسیم حجازی (1996-1914) کی اصل شہرت تو اُن کے اسلامی تاریخی ناولوں کی بدولت ہے، مثلاً محمد بِن قاسم، آخری معرکہ، قافلہء حجاز، کلیسا اور آگ، یوسف بِن تاشفین وغیرہ۔ اُن کےناول آخری چٹان اور شاہین پاکستان ٹیلی ویژن سے ڈرامائی سلسلے کے طور پر بھی نشر ہو چُکے ہیں، لیکن قرونِ وسطیٰ کے ساتھ ساتھ انھوں نے زمانۂ حال کے معاشرتی پس منظر میں بھی ناول تحریر کیے ہیں۔

اُن کے معروف ناول ’خاک اور خون‘ میں 1947 کے زمانے کا پنجاب دکھایا گیا ہے جس میں ہندو مسلمان اور سِکھ ایک مخلوط معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن ہندو اپنی ریشہ دوانیوں سے سکھوں اور مسلمانوں کو لڑوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور مسلمانوں کے کئی خاندان تہِ تیغ کر دیے جاتے ہیں۔

کہانی کے مرکزی خاندان سے تعلق رکھنے والے نوجوان کردار بالآخر کسی نہ کسی طرح پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جہاں ایک شادی کے منظر پر یہ ناول ختم ہوجاتا ہے۔

 ناول جھوٹا سچ یقیناً ایک عالمی سطح کی تحریر ہے اور بعض نقّاد اسے بجا طور پر دنیا کے دس بہترین ناولوں میں شمار کرتے ہیں لیکن جس طرح آگ کا دریا اور اداس نسلیں پر فلم بنانے کا اعلان کئی بار ہو چکا ہے مگر کام منصوبہ بندی سے آگے کبھی نہیں بڑھ سکا، اسی طرح جھوٹا سچ جیسے بھرپور ناول کو پردہء سیمیں پر لانے کا خواب بھی شرمندہء تعبیر نہیں ہوسکا۔
 

اس سے پہلے 1959 میں سیف الدین سیف نے بھی’کرتار سنگھ‘ نامی معروف فلم کم و بیش اسی تھِیم پر بنائی تھی جس میں علاءالدین نے ٹاِئٹل رول ادا کیا تھا، لیکن وہ کم سرمائے سے بنی ہوئی ایک بلیک اینڈ وائٹ فلم تھی اور اس کا سکرپٹ بھی احمد ندیم قاسمی کے افسانے ’پرمیشر سنگھ‘ سے ماخوذ تھا۔

نسیم حجازی کے ناول کو اس کے پورے پھیلاؤ کے ساتھ پردۂ سیمیں پر پیش کرنا ایک بہت مہنگا پروجیکٹ تھا چنانچہ سرکاری فلم ساز اِدارہ نیفڈک ہی اس بھاری پتھر کو اٹھا سکتا تھا۔

ڈائریکٹر فرید احمد نے ٹیلی ویژن اداکاروں کی ایک بڑی کھیپ فلم کی کاسٹ میں شامل کی جن میں نوین تاجک، سلیم ناصر، عابد علی، شجاعت ہاشمی، جمیل بسمل اور بدیع الزماں شامل تھے۔ ہیرو کا کردار ریڈیو کے ایک صدا کار آغا فراز کو سونپا گیا۔ نسیم حجازی کے ناول پر مبنی یہ فلم اُس وقت تک کی سب سے مہنگی پاکستانی پروڈکشن تھی۔

امرتا پریتم کا نام پاکستان میں اُن کی پنجابی نظم ’اج آکھاں وارث شاہ نوں‘
کی بدولت ہمیشہ زندہ رہے گا۔تقسیم کے وقت پنجاب کی ہزاروں عورتوں کے ساتھ ہونے والے بہیمانہ سلوک پر یہ ایک درد بھری فریاد تھی جس کی گونج سارے پاک و ہند میں سنی گئی۔

پارو / حمیدہ کا کردار انتہائی مہارت سے ارمیلا مٹونڈکر نے ادا کیا

انسانی جبلّت کا تصادم جب انسانی اقدار سے ہوتا ہے تو عظیم المیہ جنم لیتا ہے۔ یہی المیہ ہمیں امرتا پریتم کے ناول پنجر میں بھی نظر آتا ہے۔ خود مصنفہ کا کہنا ہے’المیہ یہ نہیں ہوتا کہ زندگی کے طویل سفر پر سماج کے بندھن اپنے کانٹے بکھیرتے رہیں اور ہمارے پاؤں سے ساری عمر خون بہتا رہے بلکہ المیہ یہ ہوتا ہے کہ آپ لہو لہان پاؤں کے ساتھ ایک ایسے مقام پر کھڑے ہوجائیں جس کے آگے کوئی راستہ آپکو بلاوا نہ دے‘۔

پِنجر کی لڑکی بھی آخر کار ایک ایسے ہی دوراہے پر جا پہنچتی ہے۔۔۔ وہی الھڑ مُٹیار جس کی جوانی کا سراپا امرتا پریتم نے کچھ یوں کھینچا تھا ’پندرھواں برس لگتے ہی پارو کے انگ انگ میں ہلچل مچ گئی۔ پچھلے سال کی سب قمیضیں اسے تنگ ہوگئیں، قریب کی منڈی سے پارو نے پھولوں والی چھینٹ کی نئی قمیضیں سلوائیں، اوڑھنیوں کو بہت سا ابرق لگایا، پارو کی سہیلیوں نے اس کے منگیتر رام چند کو اسے دُور سے دکھلایا تھا۔ پارو کی آنکھوں میں اس کی صورت بس گئی تھی۔ اس کے بارے میں سوچ سوچ کر پارو کا منہ لال ہوجاتا تھا‘۔

بہر حال رام چند کی بجائے لڑکی کے مقدّر میں رشید لکھا ہے : ایک مسلمان لڑکا جس کے گھر والے ایک پرانی خاندانی ہتک کا انتقام لینے کے لیے پارو کو اغوا کر لاتے ہیں اور رشید کے پلے باندھ دیتے ہیں۔ ملک تقسیم ہوجاتا ہے ۔رشید پارو سے زبردستی شادی کر کے اس کا اسلامی نام حمیدہ رکھ دیتا ہے اور پاکستان لے جاتا ہے، لیکن یہ پارو کے مصائب کا خاتمہ نہیں بلکہ آغاز ہے۔

اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ امرتا پریتم کا یہ مختصر سا ناول ان کی ایک غیر معروف تحریر تھی جس سے بہت کم لوگ واقف تھے لیکن 2003 میں چندر پرکاش دِویدی نے اسے سکرین پلے کی شکل دی اور اس کی فلم تیار ہوکر باہر آئی تو ہرطرف اس کہانی کی دھوم مچ گئی ۔ پارو / حمیدہ کا کردار انتہائی مہارت سے ارمیلا مٹونڈکر نے ادا کیا اور اس کے منگیتر رام چند کے کردار میں سنجے سوری نے اپنے فن کا کمال دکھایا لیکن رشید کا مشکل اور پیچیدہ کردار ایک ایسا چیلنج تھا جسے منوج واجپائی کے علاوہ شاید کوئی قبول نہیں کر سکتا تھا۔

ہدایتکار نے 47/1946 کے پنجاب کی عکاسی انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں کی تھی۔ تقسیمِ ہند کے موضوع پر بننے والی فلموں میں پنجر ہمیشہ ایک یادگار فلم رہے گی۔

بھیشم ساہنی
بھیشم ساہنی کے ناول پر مبنی ٹی وی سیریل کو تدوین کے بعد تین گھنٹے کی ایک فلم میں بدل دیا گیا

پاکستان کی پارسی مصنفہ بپسی سدھوا کے انگریزی ناول ’آئس کینڈی مین‘ کو بھی’ارتھ‘ کے نام سے فلمی قالب میں ڈھالا گیا۔ 1998 میں بننے والی اس فلم کی ہدایتکار تھیں دیپا مہتا تھیں۔

تقسیم کے موضوع پر منٹو کے معروف افسانے ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ کو ایک سے زیادہ مرتبہ ٹیلی ویژن پر پیش کیا جا چکا ہے لیکن اس کہانی پر ابھی تک کوئی کمرشل فلم تیار نہیں ہوئی۔

اسی طرح خوشونت سنگھ کے ناول ’ٹرین ٹو پاکستان‘ کو بھی اُسی برس (1998) سکرین کی زینت بنایا گیا جس کے لیے برطانوی ٹیلی ویژن چینل فور اور فلمی ترویج و ترقی کے بھارتی سرکاری ادارے این ایف ڈی سی نے مالی امداد فراہم کی،لیکن اس فلم کو کوئی کمرشل کامیابی حاصل نہ ہو سکی اور اس کی حیثیت ایک ٹیلی فلم کی سی رہی۔

بھیشم ساہنی کے ناول ’تمس‘ کی کہانی تقسیمِ ہند سے ذرا پہلے ایک سرحدی قصبے میں شروع ہوتی ہے جہاں ایک صبح مسجد کی سیڑھیوں پر ایک ذبح شدہ سُؤر پڑا ملتا ہے جس سے بستی کے مسلمان طیش میں آجاتے ہیں اور سامنے آنے والے ہر ہندو اور سِکھ کو تہِ تیغ کردیتے ہیں۔ جواب میں ہندو اور سکھ بھی مُنظّم جتھے بنا کر مسلمانوں پر حملے کرتے ہیں اور بڑے پیمانے پر خون خرابہ شروع ہو جاتا ہے۔

پاکستانی قارئین کے لیے ہم وضاحت کر دیں کہ ’تمس‘ ہندو نظریے کے مطابق طبعِ انسانی کی تین بنیادی خصلتوں میں سے ایک ہے اور اسکی نمائندگی غصّے، رقابت اور جہالت کی شکل میں ہوتی ہے، گویا اسے فنا و غضب کی خصلت بھی کہا جاسکتا ہے۔

1986 میں بھیشم ساہنی کے اس ناول کو ٹیلی ویژن کے لیے ایک سیریل میں ڈھالا گیا۔ بعد میں ایڈیٹنگ کر کے اس میں سے تین گھنٹے کا ایسا مواد نکالا گیا جسے سلیولائیڈ پر منتقل کر کے سنیماؤں میں ریلیز کیا جا سکے۔

’خاک اور خون‘ میں 1947 کے زمانے کا پنجاب دکھایا گیا ہے

یہاں یہ موازنہ دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ روس پر نپولین کے حملوں نے جو تباہی و بربادی پھیلائی تھی اسکے پورے ساٹھ برس بعد ٹالسٹائی کا ناول’جنگ اور امن‘ منظرِ عام پر آیا تھا۔ ہندوستان پر بھی غصّے، جہالت اور بہیمّیت کے سفّاکانہ حملوں کو آج پورے ساٹھ سال گزر چُکے ہیں لیکن ’جنگ اور امن‘ جیسا کوئی ناول سامنے نہیں آیا۔

قرۃالعین کے ناول’آگ کا دریا‘ میں اگرچہ ہزاروں برس کی ہندوستانی تاریخ سانس لے رہی ہے لیکن تقسیمِ وطن کا ذکر صرف ایک صفحے پر محض ایک ہندسہ لکھ کے کر دیاگیا ہے۔۔۔ اور وہ ہندسہ ہے: 1947 ۔

عبداللہ حسین کا ناول’اُداس نسلیں‘ بھی 1915 کے زمانے سے شروع ہوتا ہے اور اس کا ایک بڑا حصّہ پہلی جنگِ عظیم کے واقعات پر مبنی ہے۔

تقسیمِ ہند کے موضوع پر ایک عظیم ناول کا اعزاز ہندی زبان کو ضرور حاصل ہوا ہے۔ یش پال کا ناول ’جُھوٹا سچ‘ یقیناً ایک عالمی سطح کی تحریر ہے اور بعض نقّاد اسے بجا طور پر دنیا کے دس بہترین ناولوں میں شمار کرتے ہیں لیکن جس طرح’آگ کا دریا‘ اور ’اداس نسلیں‘ پر فلم بنانے کا اعلان کئی بار ہو چکا ہے مگر کام منصوبہ بندی سے آگے کبھی نہیں بڑھ سکا، اسی طرح ’جھوٹا سچ‘ جیسے بھرپور ناول کو پردۂ سیمیں پر لانے کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا۔

 
 
گرم ہوا سے غدر تک
بالی وڈ فلمیں بنتے بگڑتے تعلقات کی عکاس
 
 
ندیم اور شبنمسنیما کے ساٹھ برس
پاکستانی فلمی صنعت کے اتار چڑھاؤ اور رجحانات
 
 
آگ کا دریاآگ کا دریا
ڈھائی ہزار سال کی کہانی اور ایک جدید کلاسک
 
 
امیتابھ بچنفلموں کے ساٹھ سال
’بدلتے ہندوستان کا آئینہ ہے سنیما‘
 
 
امراؤ جانخیام کے ساٹھ برس
’پہلے موسیقی کی تشہیر نہیں ہوتی تھی‘
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد