BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 September, 2007, 11:48 GMT 16:48 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
انڈین آئیڈیل اور علاقائی نمائندگی
 

 
 
انڈیا میں ان دنوں اس طرح کے تین ٹی وی شوز چل رہے ہیں
سونی انٹرٹینمنٹ چینل پر اتوار کی شب انڈین آئیڈل کا انتخاب ہو رہا ہے۔اس ریئلیٹی شو میں دونوں گلوکار شمال مشرقی ہندستان سے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ شو میں پہلی مرتبہ شمال مشرقی ریاستوں کےگلوکاروں کی شمولیت کی وجہ سے دارجلنگ اور شیلانگ کی پہاڑیوں میں ٹھنڈ کی بجائے گرمی کا احساس ہو رہا ہے۔لوگوں میں جوش و جنون ہے اور وہ اپنے اپنے خطہ کے امیدوار کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش میں لگےہوئے ہیں۔

سونی ٹی وی پر رات نو بجے عوام کے ووٹوں کے ذریعہ اس بات کا فیصلہ ممکن ہو سکے گا کہ انڈین آئیڈل کے تیسری قسط کا کامیاب آئیڈل کون ہے، پرشانت تمنگ یا امیت پول؟ پرشانت دارجلنگ کے رہنے والے ہیں کولکتہ پولیس میں کانسٹبل ہے جبکہ امیت پول شیلانگ کے رہنے والے ہیں۔

انڈین آئیڈل شو کے اس مقابلہ میں لوگ اپنے گھر کے فون، موبائیل سے فون کرکے اور یا ایس ایم ایس کے ذریعہ اپنے من پسند امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں۔

یہ مقابلہ شیلانگ اور دارجیلنگ میں ایک طرح کی انا کy جنگ بن گیا ہے۔ لوگ اپنے اپنے خطہ کے امیدوار کو کامیاب بنانےکے لیے پیسے اکٹھا کر رہے ہیں۔ مقامی پبلک کال آفس کے فون سے لگاتار ووٹنگ جاری ہے، لوگوں کو اپنے موبائل فون سے ایس ایم ایس کرنے یا فون کرنے کے لیے مفت ری چارج کارڈ بھی دیے جا رہے ہیں اور دارجلنگ اور شیلانگ میں اس وقت شاہ رخ خان یا امیتابھ بچن کے بجائے پرشانت اور امیت کے بڑے بڑے پوسٹرز لگے ہوئے ہیں۔

پرشانت دارجیلنگ کے رہنے والے ہیں کولکتہ پولیس میں کانسٹبل ہیں

انڈین آئیڈل کے جج موسیقار اور گلوکار انوملک نے، جو دہلی میں اس شو کی ریکارڈنگ میں مصروف ہیں، بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ ڈی ڈی لپانگ نے امیت کو میگھالیہ کا برانڈ سفیر بنایا ہے اور پرشانت کے لیے چائی باغان کمپنی کے سٹاف نے بیس ہزار روپے جمع کیے ہیں تاکہ وہ اسے ووٹنگ پر خرچ کر سکیں۔ یہ جوش اور جنون پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملا ہے اور ملک نے ان دو امیدواروں کی وجہ سے شیلانگ اور دارجلنگ کو ایک نئے روپ میں دیکھا ہے۔‘

انو کے مطابق ’پہلی مرتبہ ہندستان کے شمال مشرقی علاقے کے دو امیدوار میدان میں ہیں اور ان دونوں کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ مجھے بھی یقین نہیں تھا کہ اس مرتبہ ایسے دو فنکار مقابلہ کی آخری منزل تک پہنچ سکیں گے۔‘

انو کو امیت پول بہت پسند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امیت کا انداز اور اس کی آواز انہیں بہت پسند ہے لیکن نغمہ ’بھیگے ہونٹ‘ کے ذریعہ پرشانت نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ بھی ایک اچھا گلوکار ہے۔

اس طرح عوام کےذریعہ ووٹنگ امیدواروں کو ذہنی دباؤ میں بھی مبتلا کر دیتی ہے۔انڈین آئیڈل کے ایک سابق امیدوار امیت سانا کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بہت ذہنی دباؤ سے گزرنا پڑتا تھا۔حالانکہ زیادہ وقت گانے کی مشق میں گزرتا تھا لیکن ووٹنگ کے نتائج کے اعلان والے دن بہت گھبراہٹ ہوتی تھی۔‘

کیا ووٹنگ کے ذریعہ کسی گلوکار کی گائیکی کو جج کیا جا سکتا ہے ؟ اس پر لوگوں کی مختلف آراء ہیں۔ بلبلِ ہند اور گلوکاری کی ملکہ لتا منگیشکر کا کہنا ہے کہ ’میں اس معاملہ میں زیادہ بولنا نہیں چاہتی ہیں کیونکہ یہ ایک متنازعہ مسئلہ ہے لیکن جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ ووٹنگ کے ذریعہ کسی کے فن کا انتخاب نہیں کیا جا سکتا۔‘

امیت پول شیلانگ کے رہنے والے ہیں

انو ملک انڈین آئیڈل کے انتخاب کے طریقہ کو صحیح مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ ہم ایسے امیدواروں کا انتخاب کرتے ہیں جو موسیقی کی تعلیم لے کر نہیں آتے ہیں۔ہم ان میں ان کی خداداد صلاحیت کو پرکھ لیتے ہیں اور پھر انہیں ایک پلیٹ فارم دیتے ہیں۔‘ انو کا مزید کہنا تھا کہ پروگرام کے شروع سے ووٹنگ نہیں ہوتی بلکہ وائلن راؤنڈ میں آنے کے بعد ہم ووٹنگ لائن شروع کرتے ہیں یعنی اس سے پہلے تک ہم ان کے فن کو پرکھ چکے ہوتے ہیں۔اور اس طرح ووٹنگ کے ذریعہ ہم عوام کی منشاء بھی جان لیتے ہیں۔‘

انڈین ٹیلی ویژن انڈسٹری غیر ملکی ٹی وی کے امریکن آئیڈل کی طرز پرگزشتہ تین برسوں سے ریئلیٹی شو پیش کر رہی ہے۔ سونی ٹی وی پر انڈین آئیڈل کا یہ تیسرا شو ہے۔

اس ریئلیٹی شو میں ملک بھر سے گلوکاری کی چاہت رکھنے والوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور پھر پروگرام میں بیٹھے جج ان ہزارہا امیدواروں میں سے چند کا انتخاب کرتے ہیں اور مقابلہ شروع ہوتا ہے۔

انڈیا میں ان دنوں اس طرح کے تین ٹی وی شوز چل رہے ہیں۔ سونی کے علاوہ ’زی ٹی وی‘ پر ’سا رے گا ما پا‘ اور سٹار ٹی وی چینل پر ’امول وائس آف انڈیا‘ نامی شوز میں بھی اسی طرح گلوکاروں کے درمیان مقابلہ کرایا جاتا ہے اور ان میں بھی ووٹنگ کے ذریعہ ہی کامیاب امیدار کا انتخاب ہوتا ہے۔

انڈین آئیڈل کا یہ ریئلیٹی شو اس لیے بھی اہم ہوگيا ہے کہ پرشانت تمنگ اور امیت پول ایک ایسے وقت میں ’جواں دلوں کی ڈھرکن‘ اور ’ہیرو‘ بننے جا رہے ہيں جب بالی ووڈ میں ہندی بولنے والے افراد کا غلبہ ہے اور شمال مشرقی ہندوستانی آبادی کو ملک کے بیشتر علاقوں میں زندگی کے تمام شعبوں میں تفریق برداشت کرنا پڑتی ہے۔

 
 
شکیرا شکیرا ممبئی میں
شائقین کا دل جیتنے شکیرا ممبئی پہنچ گئیں
 
 
شوقیہ فلموں کا میلہ
لاہور کے الحمرا ہال میں ’امیچر فلم فیسٹیول‘
 
 
سمن نیگیمیرٹھ کی ایشوریہ
بالی وڈ کے ساتھ ساتھ میرٹھ کا ’مولی وڈ‘
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد