BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
پاکستان کے سیاسی وڈیرے
 

 
 
پاکستان کے سیاسی وڈیرے
پاکستان پر مستقلاً حکمرانی کرنے والے خانوادوں کے ماضی اور حال پر ایک مفصل دستاویز
عقیل عباس جعفری کی یہ کتاب اپنی ابتدائی شکل میں چودہ برس پہلے شائع ہوئی تھی لیکن 1993 سے اب تک سیاسی پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گذر چُکا ہے۔ ملک میں دو الیکشن ہو چُکے ہیں اورچھ وزرائے اعظم تبدیل ہو چُکے ہیں۔ نواز شریف اور بینظیر دو دو بار وزارتِ عظمٰی کا مزہ چکھنے کے بعد ملک بدر ہوگئے۔ فوجی صدر نے امریکی دباؤ اور بدلتے ہوئے بین الاقوامی منظر کے پیشِ نظر وردی اُتار کر سویلین صدر کا روپ دھارا۔ عدالتِ عظمٰی کے جج برطرف ہوئے۔۔۔ پھر دونوں سابق وزرائے اعظم واپس وطن آئے۔ الیکشن کی تیاریاں شروع ہوئیں۔۔۔ اور سیاسی مہم اپنے عروج پر تھی کہ پیپلز پارٹی کی قائد بینظیر بھٹو کو راولپنڈی کی جلسہ گاہ کے قریب قتل کر دیا گیا۔

پاکستان کے سیاسی وڈیروں پر ایک نئی کتاب کی آمد کے لیے اس سے بہتر موقعہ کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ اگرچہ کتاب کا یہ نیا ایڈیشن بھی پاکستانی سیاست میں آنے والے تازہ ترین موڑ سے پہلے مرتب ہوا لیکن پچھلے چودہ برس کے دوران پیش آنے والے تمام اہم واقعات کو اس مفصّل ایڈیشن میں شامل کیا گیا ہے

عقیل عباس جعفری
عقیل عباس جعفری نے پاکستانی موضوعات پر 14 کتابیں لکھیں ہیں
اور پرانے سیاسی وڈیروں کے ساتھ ساتھ اُن نئے خاندانوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو حالیہ برسوں میں پاکستان کے سیاسی اُفق پر نمایاں ہوئے ہیں اور اسطرح 81 خاندانوں کا ابتدائی احوال پھیل کر اب ایک سو دو خاندانوں پر محیط ہوگیا ہے۔

مصنف کی تحقیق و تفتیش کا انداز تقسمِ ہند سے پہلے کے انگریز محققین جیسا معلوم ہوتا ہے اور وہ مضمون کے کسی پہلو کو بھی تشنہ چھوڑنے کے روا دار نہیں لگتے۔ صوبہ سرحد کے سیاسی خاندانوں کا تذکرہ شروع ہوتا ہے تو وہ ارباب، رند، بلور، ترین، تنولی، جدون اور خٹک خاندانوں کا پس منظر بیان کرتے ہوئے راجگان گکھڑ، شیر پاؤ، کنڈی، گنڈا پور اور محمد زئی تک آتے ہیں اور پھر ہمیں میاں گُل، ناصر، ہوتی اور یوسف زئی خانوادوں سے متعارف کراتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ترتیب زمانی نہیں بلکہ ابجدی ہے، تاکہ حوالہ تلاش کرنے میں آسانی رہے۔

بلوچستان کی طرف بڑھتے ہیں تو اسی الفبائی ترتیب میں ہمیں اچکزئی، بزنجو، بگٹی، جام، جمالی، جوگیزئی، خاندانوں سے ملواتے ہوئے خان آف قلات، ڈومبکی، رند، رئیسانی، زہری، کھوسہ، کھتران خاندانوں تک لے جاتے ہیں اور وہاں سے محمد حسنی، مری، مگسی، مینگل اور نوشیروانی خاندان تک ہمیں اپنا ہم سفر بناتے ہیں۔

قیادت جاگیردار کی
 انتخاب ہو یا انقلاب، جمہوری سیاست کا دور آئے یا مارشل لاء کے ڈنڈے کی حکمرانی، ہر صورت میں قیادت جاگیردار طبقے کی ہوتی ہے۔ کبھی یہ ری پبلِکن کا نام اختیار کرتے ہیں، کبھی کنونشن لیگ کے پرچم تلے جمع ہوجاتے ہیں، کبھی بھٹو کی اسلامی سوشلزم میں محفل جماتے ہیں، کبھی ضیاء الحق کی مجلسِ شوریٰ میں نظر آتے ہیں اور کبھی نواز شریف کا نفسِ ناطقہ بن جاتے ہیں عرض ہر عہد اور ہر اُلٹ پھیر میں انھی کا سِکہ رواں ہوتا ہے
 
عقیل عباس جعفری

صوبہ سندھ کے جن سیاسی خاندانوں پر عقیل عباس جعفری نے خامہ فرسائی کی ہے ان میں ارباب، انڑ، بجارانی، بھٹو، پٹھان، پگاڑا، پیرزادہ، تالپور، شاہ (تھر پارکر)، جام، جاموٹ، جتوئی، جنیجو، چانڈیو، شاہ (خیر پور) زرداری، سید (سن)، سومرو، پیر (سہیون) شیرازی، عباسی، قاضی، کھوڑو، گبول، لوند، شاہ (مٹیاری)، مخدوم، مری، ملک، مہر، شاہ (نواب شاہ)، وسان اور ہارون خاندان شامل ہیں۔

خاندانوں کی سب سے بڑی تعداد قابلِ فہم طور پر پنجاب کے حصّے میں آئی ہے جن میں الپیال، بابر پٹھان، پراچے، ٹوانے، جنجوعے، چٹھے، چوہدری، چیمے، خلف زئی پٹھان، دریشک، دستی، دولتانے، ڈاہا، روکڑی، رئیس، سردار، سیّد، عباسی، قریشی، قصوری، کالا باغ، کھٹڑ، کھر، کھرل، کھوسہ، گردیزی، گیلانی، لغاری، مخدوم زادے، مزاری، موکل، نوابزادے، نکئی، نون، وٹو اور وریو خاندان شامل ہیں۔

یہ فہرستیں یقیناً مرعوب کن ہیں لیکن مصنف کا مقصد اِن اعداد و شمار تک محدود نہیں ہے۔ وہ پاکستانی عوام کی اِس اُلجھن کو سلجھانے کا جتن کر رہے ہیں کہ ’انتخاب ہو یا انقلاب، جمہوری سیاست کا دور آئے یا مارشل لاء کے ڈنڈے کی حکمرانی، ہر صورت میں قیادت جاگیردار طبقے کی ہوتی ہے۔ کبھی یہ ری پبلِکن کا نام اختیار کرتے ہیں، کبھی کنونشن لیگ کے پرچم تلے جمع ہوجاتے ہیں، کبھی بھٹو کی اسلامی سوشلزم میں محفل جماتے ہیں، کبھی ضیاء الحق کی مجلسِ شوریٰ میں نظر آتے ہیں اور کبھی نواز شریف کا نفسِ ناطقہ بن جاتے ہیں عرض ہر عہد اور ہر اُلٹ پھیر میں انھی کا سِکہ رواں ہوتا ہے اور حد یہ ہے کہ حزبِ اقتدار ہی نہیں، حزبِ اختلاف بھی انہی سرداروں، وڈیروں، نوابوں اور خانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔‘

1857 کی ناکام سیاسی بغاوت کے بعد آزادی کے متوالوں کو توپوں سے باندھ کر اُڑا دیا گیا

اِن سیاسی قبیلوں کی جڑوں کو کھوجتے ہوئے عقیل عباس برِ صغیر کی تاریخ میں صدیوں تک پیچھے چلے جاتے ہیں اور بعض اوقات نئے برگ و بار کی رونمائی کےلیے انہیں کئی ذیلی قبیلوں اور شاخ در شاخ پھیلے ہوئے کنبوں کو بھی احاطہء تحریر میں لانا پڑتا ہے، لیکن یہ سارا کام انتہائی محنت اور دیانتداری سے کیا گیا ہے۔ تحقیق کے اخلاقی اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہر باب کے آخر میں مآخذ کا تفصیلی حوالہ دیا گیا ہے اور کتاب میں شامل تمام حوالہ جات کو جمع کیا جائے تو اُن کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔

طباعت، اشاعت اور جلد بندی کا معیار انتہائی بلند ہے اور سفید کاغذ پر گھنے مِسطر کے نو سو پچہتر صفحات کی کتاب کے لیے جہانگیر بُکس نے صرف چھ سو روپے قیمت مقرر کی ہے جو کہ کاغذ اور طباعتی مواد کی گرانی کے اس دور میں انتہائی مناسب ہے۔ چونکہ یہ ایک مستقل نوعیت کی دستاویز ہے اور آئندہ برسوں میں بھی اسکے نئے ایڈیشن شائع ہوتے رہیں گے اس لیے مصنف اور پبلیشر سے توقع رکھنی چاہیئے کہ آئندہ ایڈیشن میں کچھ مفید نقشے اور جدول شامل کر کے وہ اس کتاب کی افادیت کو سہ چند کر دیں گے۔

 
 
شاعر حارث خلیق ’عشق کی تقویم۔۔۔‘
حارث خلیق کی نظموں کا مجموعہ شائع
 
 
یہ لاہور ہے یہ لاہور ہے
لاہور ریڈیو سے متعلق ابوالحسن نغمی کی یادیں
 
 
تثلیثِ حیات نقاد، دوست یا مداح
شاعر پرویزشاہدی کے قاتل کون تھے؟
 
 
اسی بارے میں
ایک گم شدہ ستارے کی بازیافت
02 September, 2005 | فن فنکار
نصف صدی کا فلمی قصّہ
18 December, 2006 | فن فنکار
درد و کرب، عزم و اُمید میں غرق
25 February, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد