BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 October, 2008, 10:43 GMT 15:43 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
بالی وڈ میں ایک لاکھ کارکن ہڑتال پر
 

 
 
فائل فوٹو
ہڑتال سے فلم اور ٹیلی ویژن شوز کی شوٹنگ متاثر ہوئی ہے
ہندوستان کی مشہور فلمی صنعت بالی وڈ میں تقریباً ایک لاکھ ورکرز بدھ سے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال پر چلے گئے ہیں جس سے فلموں کی شوٹنگ اور دیگر کاموں بری طرح متاثر ہوا ہے۔

ہڑتال کرنے والی یونینز کا مطالبہ ہے کہ یومیہ اجرت میں اضافہ کیا جائے اور ان کے کام کے پیسے وقت پر دیے جائیں۔

اس ہڑتال میں پروڈکشن سٹاف، لائٹنگ ٹیکنشینز، کیمرہ آپریٹرز، سپاٹ بوائز کے علاوہ ٹی وی و فلم کے اداکار بھی شامل ہیں۔ بالی وڈ کے سپر سٹار امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان نے بھی ہڑتال کی حمایت میں یکم اکتوبر کو کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فلم اور ٹیلی ویژن کے لیے کام کرنے والے لوگوں پر مشتقل مختلف یونینز کا مطالبہ ہے کہ ان کی یومیہ اجرت میں اضافہ کیا جائے اور انہیں ان کے کام کے لیے پیسے وقت پر دیے جائیں۔ ان لوگوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ فلم انڈسٹری میں فلم یونینز کے باہر کے لوگوں کو کام کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

ویسٹرن انڈین سنیما ایمپلائز کے صدر دنیش چترویدی کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار ورکرز نے ہڑتال کے سبب کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔’ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے لیے اچھی اجرت کا مطالبہ کرسکیں، فلم کے سیٹ پر کام کرنے والے ایک شخص کو یومیہ چھ سو روپے ملتے ہیں جبکہ ٹی کے لیے پانچ سو، اگر زیادہ کچھ نہیں تو پروڈیوسر کو وقت پر پیسے تو دینے چاہئے۔‘

 یہ ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے لیے اچھی اجرت کا مطالبہ کرسکیں، فلم کے سیٹ پر کام کرنے والے ایک شخص کو یومیہ چھ سو روپے ملتے ہیں جبکہ ٹی کے لیے پانچ سو، اگر زیادہ کچھ نہیں تو پروڈیوسر کو وقت پر پیسے تو دینے چاہئے۔
 
دنیش چترویدی

رام گوپال ورما اور دیگر بڑے فلم میکر سے وابستہ ایگزیکٹو پروڈیوسر توفیق قریشی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہڑتال سے بدھ کے روز فلم انڈسٹری پر خاصا اثر پڑا ہے۔’ فلم میکنگ کی تمام کارروائیاں خاص طور پر شوٹنگ کے حوالے سے بند ہوگئی ہیں، ہندی فلم، مراٹھی یا ٹیلی ویژن شوز کی شوٹنگ ہو، کہیں کوئی کام نہیں ہو رہا ہے‘۔

توفیق قریشی کا کہنا ہے کہ جن پروڈیسرز نے پہلے ہی سے شوٹنگ کا انتظام کر رکھا تھا انہیں اس ہڑتال سے نقصان اٹھانا پڑےگا۔’ جن کی تاریخیں طے تھیں، سٹوڈیوز بک تھے یا سیٹ لگے تھے انہیں کافی نقصان اٹھانا پڑ سکتا لیکن اس سے کتنا نقصان ہوگا یہ تو وقت ہی بتائیگا۔‘

بالی وڈ پروڈیوسرز کا کہنا ہے کہ اس ہڑتال کوامیتابھ بچن اور شاہ رخ خان جیسے اداکاروں کی حمایت حاصل ہے اس لیے انہیں نہیں لگتا کہ یہ زیادہ دن تک چلے گی۔ مسٹر قریشی کے مطابق امکان اس بات کا ہے کہ یونینز کے مطالبات پر غور و فکر کے بعد اسے جلد ہی ختم کردیا جائےگا تاکہ کام زیادہ متاثر نہ ہونے پائے۔

 
 
اسی بارے میں
سینما گھروں کی ہڑتال ملتوی
05 July, 2004 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد