BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 December, 2008, 10:58 GMT 15:58 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
سندھی شاعر تاج محمد نہیں رہے
 

 
 
تاج محمود عرف تاجل بیوس
تاجل بیوس نے رائٹر گلڈ اور سہیوگ فاؤنڈیشن بمبئی کی جانب سے نارائن شیام ایوراڈ سمیت کئی ایوارڈ حاصل کیے۔
سندھی زبان کے شاعر تاج محمد عرف تاجل بیوس کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ان کی عمر ستر برس تھی۔

گزشتہ دنوں تاجل بیوس کی دماغ کی نس پھٹ گئی تھی جس کے بعد وہ مقامی ہسپتال میں مسلسل کوما میں رہے، جہاں سنیچر کی صبح ان کا انتقال ہوگیا۔

شیخ ایاز کے بعد وہ سندھی زبان کے دوسرے بڑے شاعر تھے، انہوں نے نظم کے ساتھ نثر میں بھی طبع آزمائی کی ، وہ چونتیس کتابوں کے مصنف تھے جبکہ ان کی دس کتابیں زیر اشاعت ہیں۔

تاجل بیوس نے بائیس ستمبر انیس سو اڑتیس کو ضلع خیرپور کے شہر صوبھو دیرو میں جنم لیا۔انہوں نے اقتصادیات میں ایم اے کیا تھا، جس کے بعد انیس سو ساٹھ میں درس و تدریس سے منسلک رہے بعد میں وزارت کارپوریٹ میں تعینات ہوئے، جہاں سے بطور رجسٹرار کمپنیز ریٹائرڈ ہوئے۔

تاج بیوس ان چند سندھی ادیبوں میں سے تھے جن کا شمار متحدہ قومی موومنٹ کے ہمدردوں میں ہوتا تھا، سخت تنقید کا نشانہ بننے کے بعد انہوں نے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔

ان کی آخری کتاب بینظیر بھٹو پر کیڈارو کے نام سے شائع ہوئی تھی، جس میں انہوں نے بینظیر بھٹو کی جدوجہد اور فکر کا احاطہ کیا ہے۔ کیڈارو واقعے کربلا کے پس منظر میں لکھا جاتا ہے۔

 تاج محمد کی شاعری میں دھرتی سے محبت کی جھلک نظر آتی ہے، وہ لکھتے ہیں ’سندھ میری ماں، کوئی تمہیں کاری سمجھتا ہے، تمہارے سینے کو بموں سے اڑاتا ہے ، کوئی انسانی لہو سے تمہارے دامن کو سرخ کردیتا ہے مگر پھر بھی تم ہر دور میں مومل اور قلو پطرہ کا روپ لیکر جنم لیتی رہی ہو‘۔
 

شیخ ایاز نے اپنی زندگی میں ہی انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے بعد تاجل بیت اور وائی کی صنف کے اس دور کے بڑے شاعر ہیں۔

تاجل بیوس بھارت میں بھی سندھی ادبی حلقوں میں شہرت رکھتے تھے۔ ایک بھارتی ادیب لچھمن کومل انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تاجل کی شاعری پڑھنے کے بعد دل چاہتا ہے کہ انہیں بھی بخش علی لاکھو کی طرح قید میں رکھا جائے، دن کو تاجل بیوس کی شاعری اور رات کو ایک جام دیں باقی زندگی عیش میں گزر جائے گی۔

تاجل بیوس نے رائٹر گلڈ اور سہیوگ فاؤنڈیشن بمبئی کی جانب سے نارائن شیام ایوراڈ سمیت کئی ایوارڈ حاصل کیے۔

ان کی اکثر شاعری میں دھرتی سے محبت کی جھلک نظر آتی ہے، وہ لکھتے ہیں ’سندھ میری ماں، کوئی تمہیں کاری سمجھتا ہے، تمہارے سینے کو بموں سے اڑاتا ہے ، کوئی انسانی لہو سے تمہارے دامن کو سرخ کردیتا ہے مگر پھر بھی تم ہر دور میں مومل اور قلو پطرہ کا روپ لیکر جنم لیتی رہی ہو‘۔

تاجل بیوس کی تدفین ان کی وصیت کے مطابق کراچی میں واقع تاریخی قبرستان چوکھنڈی کے قریب کی جائے گی۔

 
 
احمد فراز احمدفراز کہتے ہیں:
پاکستان میں احتجاج کی شاعری دم توڑ چکی ہے
 
 
احمد ریاض موجِ خوں کا شاعر
درد وکرب، عزم و امید میں غرق
 
 
’گم شدہ ستارہ‘ پھر نہ جانے کدھر گیا؟
شبیر شاہد آیا، چھایا اور لاپتہ ہو گیا
 
 
وردی میلی وردی
میلی وردی: کیا چاہتی ہے مجلسِ عمل
 
 
حیدر آباد مشاعرہ عریاں اگر ہو صدر
حیدر آباد کے ایک مزاحیہ مشاعرے سے اقتباس
 
 
اسی بارے میں
پاکستان کی خواتین مصور
15 June, 2005 | فن فنکار
صادقین: یادگار نمائش
26 September, 2003 | صفحۂ اول
عجائب گھر: عجیب چوری
17 August, 2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد