BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 March, 2009, 14:05 GMT 19:05 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
تحریک نسواں کا تھیٹر فیسٹول
 

 
 
اس میلے میں شیما کرمانی اپنے فن کا مظاہرہ کریں گی
پاکستان میں عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی فنکاروں کی ایک تنظیم تحریک نسواں نے اپنی تیسویں سالگرہ کے حوالے سے کراچی میں تھیٹر فیسٹول کا آغاز کیا ہے ۔

طلسم کے نام سے یہ تھیٹر فیسٹول سات مارچ سے شروع ہوچکا ہے اور مختلف وقفوں کے بعد انتیس مارچ کو اختتام پذیر ہوگا۔

تحریک نسواں کے تھیٹر فیسٹول میں خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے ایک پرفارمنس ’رقص کرو‘ کے نام سے منعقد کی گئی ہے۔ جس میں معروف شاعرہ فہمیدہ ریاض کی نظموں پر شیما کرمانی اور ان کے ساتھی فنکار رقص پیش کریں گے۔

تحریک نسواں کے ڈائریکٹر انور جعفری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کراچی میں یہ پہلا تھیٹر فیسٹول ہے، ورنہ فیسٹول تو کیا کراچی میں تو تھیٹر ہی نہیں ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک نسواں کےتیس سال مکمل ہونے کی خوشی میں وہ تمام ڈرامے پیش کیے جائیں گے جو ان تیس برس میں زیادہ مقبول رہے ہیں۔

 پاکستان میں رقص کو تاحال وہ مقام حاصل نہیں ہوسکا ہے جو ہونا چاہیئے تھا، لوگ اب بھی اپنی بیٹیوں کو سٹیج پر رقص کرتے دیکھنا پسند نہیں کرتے
 

اس تھیٹر فیسٹول میں وہ اداکار پرفارم کریں گے جنہوں نے تیس سال پہلے یہ ڈرامے کیے تھے۔ ان میں سے اکثر عمر رسیدہ ضرور ہوئے ہیں مگر پرفارمنس ان کی ہوگی ۔

تھیٹر فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سات مارچ کی شام کراچی آرٹس کونسل میں ہوئی جس میں مدیحہ گوہر، فیضان پیرزادہ، آصف فرخی اور فہمیدہ ریاض نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور تحریک نسواں کی جدوجہد کی تعریف کی ہے۔

شیما کرمانی نےمقامی میڈیا کوبتایا ہے کہ ان کے ڈرامے سنجیدہ اور بامقصد سمجھے جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ فن اور فنکاروں کی کچھ سماجی ذمہ داریاں بھی ہونی ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کمرشل تھیٹر یا موسیقی کے خلاف نہیں ہیں مگر ان کی ترجیح سنجیدہ آرٹ ہے۔

شیما کرمانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں رقص کو تاحال وہ مقام حاصل نہیں ہوسکا ہے جو ہونا چاہیئے تھا، لوگ اب بھی اپنی بیٹیوں کو سٹیج پر رقص کرتے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ مگر وہ اس سوچ میں تبدیلی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئی ہیں۔

کراچی آرٹس کونسل میں جاری تحریک نسواں کے اس تھیٹر فیسٹول میں دس اور گیارہ مارچ کو، برجیس طاہر کا کمبہ، بارہ مارچ کو، جنیں لہور نئیں ویکھیا، تیرہ مارچ کو عصمت کی دو کہانیاں، چودہ اور پندرہ مارچ کو، اس بیوفا کے شہر میں ڈرامے پیش کیے جائیں گے۔

انور جعفری کے مطابق تھیٹر کا دوسرا حصہ ستائیں مارچ کو شروع ہوگا جو تھیٹر کا عالمی دن ہے۔اور انتیس مارچ رقص کے عالمی دن کے موقع پر بھی تحریک نسواں شاعری اور رقص پیش کریں گی۔

انور جعفری کاکہنا تھا کہ پاکستان میں بڑہتی ہوئی شدت پسندی کے پیش نظر انہوں نے کراچی سٹی گورنمنٹ سے تعاون کی درخواست کی ہے۔ اور انہیں کراچی میں ایسا کوئی خطرہ فی الوقت محسوس نہیں ہو رہا ہے۔

 
 
پیار کا پاسپورٹ پیار کا پاسپورٹ
ڈرامے کی تمام گزشتہ قسطوں کی آڈیوز سنیے
 
 
اللہ کی راہ میں۔۔۔
پشتو ڈراموں کے آرٹسٹ نے سٹیج کو خیر باد کہا
 
 
اشفاق احمد بلیک اینڈ وائٹ یادیں
اشفاق احمدکی پہلی برسی پرعارف وقار کی کچھ یادیں
 
 
ممبئی حملے اب فلموں کا ’حملہ‘
ممبئی حملے پر فلم ٹاٹلوں کی لائن لگ گئی
 
 
رحمان بابا کا مزار مزار پر حملے کے بعد
رحمان با با کے مریدوں میں شدید غم و غصہ
 
 
ایرانی ڈرامہ سوپرہٹ
یہودی خاتون اور ایرانی سفیر کے عشق کی کہانی
 
 
وجے تندولکر وجےتندولکر کا انتقال
معروف مراٹھی ڈرامہ نگار وجے تندولکر نہیں رہے
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد