عبدالستار ایدھی: لاوارثوں کا وارث

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

ایدھی نے بڑی مشکل میں ڈال دیا

یوں تو کوئی بھی ایدھی بن سکتا ہے۔ بس اپنی ذات پر سے چل کر خود کو عبور ہی تو کرنا ہوگا مگر یہ بات کہنا کس قدر آسان ہے؟

کامیاب مرد کے پیچھے دو عورتیں

عبدالستار ایدھی کی زندگی میں دو کردار نہایت اہم تھے۔ ایک ان کی والدہ جنھوں نے انسانیت کی خدمت کو بطور گھٹی ایدھی میں منتقل کیا اور دوسری ان کی اہلیہ جنھوں نے دنیاوی خواہشات کو پیچھے چھوڑ کر قدم بہ قدم ان کا ساتھ دیا۔

’دو فقیر مل گئے تو خدا نے بادشاہ بنا دیا‘

ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کی بیگم بلقیس ایدھی کو ان سے ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ وہ گھر کو وقت نہیں دیتے تھے۔

’زیادہ ایدھی نہ بنو‘

ایدھی ایک احساس کا نام تھا اُن کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد یہ احساس ہوا کہ وہ خود تو منوں مٹی تلے چلے جائیں گے لیکن اُن کا نام ہمیشہ مجھ جیسے افراد کو زندگی کا مقصد یاد دلانے کے ساتھ ساتھ اور یہ باور کرواتا رہے گا کہ ’ایدھی جیسا بنو‘

میمن والسیر کور سے ایدھی فاؤنڈیشن تک

چار ہوائی جہاز، 1800 ایمبولینسز، کینسر ہسپتال، ہوم فار ہوم لیس، ایدھی شیلٹرز اور ایدھی ویلج ، ایدھی چائلڈ ہوم ، بلقیس ایدھی میٹرنٹی ہوم، ایدھی فری لیبارٹری، ایدھی فری لنگر اور ایدھی ویٹنری ہسپتال کام کر رہے ہیں۔

’مانگتا ہوں اسی سے جو دیتا ہے خوشی سے‘

دنیا کی سب سے بڑی نجی ایمبولینس کا نیٹ ورک چلانے والے عبدالستار ایدھی کہا کرتے تھے کہ صرف اپنی برادری کے لیے نہیں بلکہ تمام انسانیت کے لیے کام کرو۔

’ریاست کو ایدھی کی طرح کام کرنا چاہیے‘

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ عبدالستار ایدھی کی صحت کے بارے میں خبروں اور جمعے کی شام فیصل ایدھی کی پریس کانفرنس کے بعد اُن کی زندگی کی دعاؤں کے ساتھ سوشل میڈیا اُن کے انتقال کی خبر کے لیے ذہنی طور پر جیسے تیار تھا۔

ایدھی کی عیادت مت کرو

مردہ پرست تو ہم پہلے بھی تھے مگر اب تو اتنے مردہ پرست ہو چکے ہیں کہ جی چاہتا ہے کہ جیتے جاگتے انسان کا مزار بنا کر چڑھاوا چڑھا دیں۔