سانحۂ پشاور کے ایک سال بعد

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

’بیٹے کو سکول بھیجا تھا، میدان جنگ نہیں‘

آج پشاور سکول حملے کو ایک سال مکمل ہوا، اور شاید اس سے بہتر وقت نہیں ہوگا کہ اس وقت کیا کھویا کیا پایا جیسے اہم، کلیدی اور بنیادی سوالات کے جواب تلاش کریں۔

’اپنے ہاتھوں سے خولہ کو موت کے سپرد کیا‘

16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک سکول میں ہونے والے حملے کی بدترین یادوں کو مٹانے کے لیے انتظامیہ نے سکول میں بڑے پیمانے پر مرمت کا کام کرایا ہے۔

پاکستان کی تاریخ کا منحوس ہندسہ

مغربی دنیا میں 13 کے ہندسے کو صدیوں نحوست کی علامت سمجھا جاتا رہا مگر پاکستان کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو 16 کا ہندسہ پچھلے 69 برسوں میں تین بار گلے پڑا اور گہری تبدیلیاں چھوڑ گیا۔

’فوج بتائے کہ طلبہ کے تحفظ میں غفلت کہاں ہوئی‘

پشاور کے آرمی پبلک سکول پر گذشتہ برس طالبان کے حملے میں ہلاک ہونے والے کچھ طلبہ کے والدین کا مطالبہ ہے کہ ان فوجی یا سول حکام کو بھی سزا ملنی چاہیے جن کی غفلت کی وجہ سے ان کے بچوں کی جان گئی۔

’ہماری خوبصورت زندگی تباہ کر دی گئی‘

پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کو ایک برس پورا ہونے کو ہے لیکن اس حملے کا نشانہ بننے والوں اور ان کے اہلِ خانہ کے گھاؤ ابھی بھرے نہیں ہیں۔

پھانسی پر پابندی ہٹنے سے کیا فائدہ ہوا؟

پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد پابندی ہٹنے کے بعد دہشت گردوں سے زیادہ دیگر جرائم میں ملوث افراد کو پھانسیاں ہوئیں۔ کیا اس فیصلے سے مطلوبہ نتائج حاصل ہو رہے ہیں؟

’پولیس کی صلاحیت بڑھانے پر توجہ نہیں‘

پاکستان میں دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کو ایک سال گزر جانے کے باوجود سول سکیورٹی اداروں کو جدید اور مضبوط بنانے کے ضمن میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

’پاؤں آئی ای ڈی پر آیا اور دھماکہ ہوا‘

پاکستان کی فوج اپنی ہی سرحدوں میں چھپے دشمن کے خلاف جنگ کی جو قیمت ادا کر رہی ہے اس کی واضح تصویر آرمڈ فورسز انسیٹیٹوٹ فار ری ہیبیلٹیشن میڈیسن میں دیکھی جا سکتی ہے۔

’دہشتگردی کے خلاف قومی پلان اور پھانسیاں‘

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور سرکاری اعداد شمار کے مطابق 168 سزائے موت کی سزا پر عملدرآمد میں صرف 23 افراد ایسے تھے جن کو دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے پر سزائے موت ملی ہے۔