پاک بھارت تعلقات کے نشیب و فراز

اہم خبریں

فیچرز اور تجزیے

’ہم آج بھی وہینچ کھڑے ہیں جہاں پہلے دن تھے‘

پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک مرتبہ پھر بات چیت نہیں ہوسکی۔ ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے رہنماوں کی جانب سے اوفا میں جاری مشترکہ بیان کی تشریح پر مسئلہ اٹک گیا۔

مذاکرات کی معطلی پر کشمیریوں میں مایوسی

بھارت اور پاکستان کے درمیان قومی سلامتی کے مشیروں کی سطح پر ہونے والی بات چیت منسوخ ہونے پر بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں لوگوں نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔

بھارت جنگ کی آپشن پر توجہ دے رہا ہے؟

اتوار کو بھارت اور پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان ہونے والی بات چیت سے پہلے بھارتی میڈیا میں ایک جنگ سی چھڑی ہوئی ہے۔

حرّیت والے ڈھیلے کیوں پڑ گئے؟

ڈرامائی تبدیلیوں سے سرتاج عزیز کے ساتھ مجوزہ ملاقات کے لیے علیحدگی پسندوں کا جوش و جذبہ ٹھنڈا ہوگیا ہے۔

پاک بھارت تعلقات: اوفا کے بعد اب دہلی کا سفر

پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیر اپنے ہم منصب سے ملاقات کے لیے ایسے وقت میں بھارت کا دورہ کر رہے ہیں جب دونوں جانب سے الزام تراشیوں اور لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ایک بجرنگی بھائی جان کی ضرورت ہے!

بھارت اور پاکستان میں بہت سے لوگ امن تو چاہتے ہیں، انھیں اپنی منزل بھی معلوم ہے، لیکن سلمان خان کی فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ کی معصوم گمشدہ گونگی بچی کی طرح یہ نہیں معلوم کہ وہاں پہنچنا کیسے ہے۔

کیا پاک بھارت تعلقات آگے بڑھ پائیں گے؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی گاڑی ایک مرتبہ پھر سٹارٹ ہوئی ہے۔ ہچکولے تو اب بھی کھا رہی ہے لیکن قابل اطمینان بات یہ ہے کہ چل پڑی ہے۔

نواز مودی دہلی سے اوفا تک

وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی نے دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے میں ملاقات کرنے میں تقریباً 14 ماہ لگائے۔

’نواز، مودی ملاقات، خطے کی بہتری اسی میں‘

بڑی کامیابی کی توقع تو نہیں لیکن دونوں ممالک مذاکرات کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے ہی پر آمادہ ہو جائیں تو اسے یقیناً اہم کامیابی تصور کیا جائے گا۔