سعودی عرب اور ایران کے کشیدہ تعلقات

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

’سعودی عرب کی بےپروا شدت پسندی‘

نومبر سنہ 2013 میں عبوری جوہری معاہدے کے بعد سعودی عرب کو یہ خوف لاحق ہو گیا کہ اس کا تخلیق کردہ ایرانوفوبیا ختم ہو رہا ہے اور اس نے اپنے تمام تر وسائل اس معاہدے کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کیے۔

دل سے پہلے آنکھیں کھولیے

وہ جوشیلے جو ایران اور سعودی چپقلش کو کسی مخصوص پسندیدہ تناظر میں دیکھنے کے عادی ہیں، کم ازکم اس بار ضرور اپنے زنگ آلود آئینے چمکا لیں تاکہ پسِ پردہ کہانی نظر آ جائے۔

’یہ حکمرانی بچانے کی لڑائی ہے‘

سعودی عرب میں ممتاز شیعہ عالم دین شیخ نمر باقر النمر کو موت کی سزا دیے جانے کے بعد پورے خلیج میں سیاسی بے چینی پھیل گئی ہے۔

’ایران غلط اطلاعات پھیلانا بند کرے‘

ترکی نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیخ النمر کی سزائے موت کے معاملے میں ترک صدر کے کردار سے متعلق غلط اطلاعات پھیلانا بند کرے۔

سعودی عرب کم آمدن کےساتھ رہ سکتا ہے؟

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کی وجہ سے سعودی عرب کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہےاور ملک میں اصلاحات کا عمل شروع ہوگیا۔

عرب و عجم کی لڑائی میں پھنسا پاکستان

پاکستان نے اگرچہ عرب و عجم مناقشے میں کسی فریق کا آج تک کھل کے ساتھ نہیں دیا لیکن پاکستان کو اپنی اسلامی و علاقائی مروت کی یہ قیمت ادا کرنی پڑی کہ عرب و عجم پچھلے تیس پینتیس برس سے اپنی پراکسی لڑائی پاکستان میں لڑتے آ رہے ہیں۔

ایران و سعودی عرب ’خطرناک ترین موڑ‘ پر

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات جس قدر اب خراب ہیں اتنے گزشتہ تیس برسوں میں نہیں ہوئے۔

شیخ نمر النمر کون تھے؟

سعودی عرب میں جن درجنوں افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا ان میں شیخ نمر النمر بھی شامل تھے جو سعودی حکومت کے شدید ناقدین میں شامل تھے۔