دس سال بعد اکتوبر میں ایک اور زلزلہ

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

مکانات کی تعمیرِ نو میں پھر سے غلطی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر اپر میں زلزلے سے تباہ ہونے والے مکانات کی دوبارہ تعمیر میں ایک مرتبہ پھر عمارتیں بنانے کے ضوابط کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

زلزلہ، سردی اور بغیر چھت کے سکول

خیبر پِختونخوا کی حکومت نے کہا ہے کہ زلزلے کی وجہ سے صوبہ بھر میں تقریباً 1235 سکولوں کو نقصان پہنچا ہے جس میں 135 تعلیمی ادارے مکمل طورپر تباہ ہو چکے ہیں۔

چترال میں گدلا پانی اور بے سروسامانی

مقامی آبادی چار روز اور تین راتیں سکولوں اور بچ جانے والی عمارتوں میں گزار رہی ہے۔

باجوڑ ایجنسی کے متاثرین امداد کے منتظر

پاکستان میں 26 اکتوبر کو آنے والے زلزلے سب سے زیادہ متاثر ہوئے علاقوں میں شامل باجوڑ ایجنسی کے مکین تین دن گزرنے کے باوجود بھی حکومتی امداد اور سرکاری اہلکاروں کی توجہ کے منتظر ہیں۔

زلزلے کے بعد سوشل میڈیا پر جعلسازی

کسی بھی قدرتی آفت کے نتیجے میں بہت سے موقع پرست افراد جعلی تصاویر اور معلومات پھیلاتے ہیں۔ ان کی تصدیق یا تردید کیسے کی جا سکتی ہے۔

’ ڈاکٹر کو بلانا چاہا لیکن دیر ہو چکی تھی‘

محمد جان اپنے نواسے اور نوسی کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہے ہیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسو گر رہے ہیں کیونکہ ان کے دونوں بچے پیر کو آنے والے زلزلے کے باعث ہلاک ہو گئے تھے۔

زمین کم میڈیا زیادہ ہل گیا

جب آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کا زلزلہ آیا تو واقعی نہ ریاست تیار تھی اور نہ ہی میڈیا۔ اگرچہ پچھلے دس برس میں مواصلاتی نظام زیادہ جدید ہوگیا ہے لیکن پھر بھی کچھ نہیں بدلا۔

’قیامت کی ہلکی سی جھلک‘

پشاور شہر میں جانی نقصانات اتنے زیادہ پیمانے پر نہیں ہوئے جس طرح یہاں زلزلے کی شدت محسوس کی گئی۔

اب زلزلہ آئے تو کیا کریں؟

پاکستان کے محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد کے جھٹکے (آفٹرشاکس) دو ہفتے تک آسکتے ہیں لہذا نقصان سے بچنے کے لیے زلزلے سے جن عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے انھیں خالی کر دینا چاہیے۔