منیٰ میں بھگدڑ سے ہلاکتیں

اہم خبریں

فیچرز اور تجزیے

منیٰ حادثہ: لواحقین کا کرب جاری

سعودی عرب میں حج کے دوران منیٰ کے مقام پر بھگدڑ کے واقعے کو دو ہفتے مکمل ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک درجنوں پاکستانی حاجی اب تک لاپتہ ہیں جن کے خاندان والے آج کل انتہائی کرب اور تکلیف کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔

لاپتہ حاجی کہاں گئے؟

منٰی میں دورانِ حج بھگدڑ مچنے کے واقعے کے آٹھ دن گذرنے کے بعد اب سوال حادثے کی نوعیت کی بجائے لاشوں کی شناخت میں ورثا کو پیش آنے والی مشکلات کے حل کے لیے سعودی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر اٹھ رہے ہیں۔

’آگے بڑھنا اور سانس لینا مشکل ہوگیا تھا‘

منیٰ میں رمی کے دوران مچنے والی بھگدڑ کے بعد وہاں موجود حاجیوں نے کیا دیکھا۔

’منیٰ جیسے واقعات انسانی اختیار سے باہر ہیں‘

سعودی عرب کے مفتی اعظم کا کہنا ہے کہ حج کے دوران ہلاکتوں کو روکنا انسانی اختیار سے باہر ہے کیونکہ ’قسمت اور تقدیر کو روکنا ناممکن ہے۔‘

کیا منیٰ جیسے حادثوں کو روکنا ممکن ہے؟

حج کے دوران بھگدڑ مچنے سے 700 سے زائد ہلاکتوں کے بعد لوگوں کی حفاظت کے لیے سعودی حکام کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔