جنوبی پنجاب میں شدت پسندی

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

پیر، گناہ گار اور خدا کے سپاہی

جنوبی پنجاب کے سماجی باسی صرف پیر یا گناہ گار نہیں رہے بلکہ سماجی اور معاشی جدیدیت یہاں عسکریت پسندوں کو بھی لے آئی ہے، جو خدا کے سپاہیوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

نیپ کو سیاست سے بچانے کی ضرورت

حکومت ایسے فرقہ وارانہ گروہوں اور عسکری تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کرنے سے ہچکچاتی ہے جو براہ راست پر تشدد کارروائیوں میں ملوث نہیں اور یہ ہچکچاہٹ ہی حکومت کی کمزوری ہے۔

’غازی فورس میں نہ جاتے تو کھاتے کہاں سے‘

راجن پور کی تحصیل روجھان مزاری میں واقع کچے کے علاقے کے رہائشی 25 سالہ رحیم داد کا کہنا ہے کہ وہ غازی فورس میں کسی دینی جذبے کے تحت نہیں بلکہ اپنے خاندان کا مالی سہارا بننے کے لیے شامل ہوئے تھے۔

جنوبی پنجاب میں شدت پسندی

پاکستان کے صوبے پنجاب کے جنوبی علاقوں میں شدت پسندی کے حوالے سے بی بی سی اردو کا کلک ایبل نقشہ۔

جنوبی پنجاب میں ڈکیت اور جنگجو

چاہے ریاستی چھتری ہو یا نہ ہو، پنجاب میں عسکریت پسندی کی جڑیں گہری اور مضبوط ہیں۔

کیا مسئلہ صرف جنوبی پنجاب میں ہے؟

جن عوامل اور شواہد کی بنیاد پر جنوبی پنچاب کو شدت پسندی کا مرکز قرار دیا جاتا ہے ویسے ہی عوامل کم زیادہ شدت کے ساتھ صوبے کے باقی حصوں میں بھی کارفرما ہیں۔

چھوٹو گینگ کیا ہے؟

چھوٹو گینگ ڈاکوؤں کا ایسا گروہ ہے جو دریائے سندھ کے ایک طرف جنوبی پنجاب کے ایک دورافتادہ علاقے میں موجود ہے۔

چھوٹو بہت بڑی فلم ہے

چھوٹو کوئی ڈاکو ، اغوا کار ، قاتل نہیں بلکہ ایک فارمولا فلم ہے جو نام بدل بدل کے ریلیز ہوتی رہتی ہے۔ایسی اکثر فلمیں بوجوہ فلاپ ہوجاتی ہیں ۔ کچھ یادگار بن جاتی ہیں۔