ضربِ عضب کے دو برس

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

شمالی و جنوبی وزیرستان میں شدت پسندی

پاکستان کے قبائلی علاقوں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں شدت پسندی کے حوالے سے اہم علاقوں کے بارے میں بی بی سی اردو کا کلک ایبل نقشہ۔

صحافی ’سیلف سنسر شپ‘ پر مجبور

قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی کے دوران جہاں سینکڑوں فوجیوں کی جانیں گئیں اور لاکھوں قبائلیوں کو بےگھر ہونا پڑا وہیں مقامی صحافیوں نے بھی اس کی بڑی قیمت ادا کی ہے۔

’وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے‘

جب ایک ریاست اپنے بےگناہ شہریوں کے قتل عام پر خاموش رہتی ہے تو پھر وہ اپنی حدود میں ایک غیر ملکی شدت پسند کی ہلاکت پر واویلا کرنے کا اخلاقی جواز نہیں رکھتی۔

ضربِ عضب: ایک کند تلوار؟

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ضربِ عضب جیتنا اس وقت تک مشکل ہے جب تک تمام دہشتگردوں اور ان کے نظریاتی دوستوں اور ہمدردوں سے ریاست کا تعلق توڑا نہیں جاتا۔

پناہ گزینوں اور میزبانوں کی سانجھی زندگی

ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں متعدد ایسے مکانات ہیں جہاں پہلے سے آباد رشتہ دار اور دوست میزبان جبکہ نقل مکانی کرنے والے متاثرین مہمان ہیں اور یہ رشتہ سات برس سے قائم ہے۔

شدت پسندی اور آپریشن سے تعلیم متاثر

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے متاثرین بچوں میں ایک بڑی تعداد تعلیم سے محروم ہے۔

فوجی کامیابیوں کو کس سے خطرہ ہے؟

اگر ضربِ عضب کا دائرہ حقیقی معنوں میں ملک کے دیگر علاقوں تک نہ بڑھایاگیا تو خطرہ ہے کہ طالبان کو شکست دینے اور خطے میں حکومت کی رٹ بحال کرنے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والوں کا خون رائیگاں چلا جائے گا۔

وزیرستان سے باہر کامیابی کا انتظار

شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب کو دو سال مکمل ہوگئے ہیں اور جہاں اس کے نتیجے میں ملک میں سکیورٹی کی صورتحال میں عموماً بہتری آئی ہے وہیں وزیرستان سے باہر جس کامیابی کی توقع کی جا رہی تھی وہ تاحال نظر نہیں آ رہی۔