انڈیا میں طلاق پر بحث پیچیدہ اور متنازع

ڈاکٹر شائستہ یوسف تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Shibshankar Chatterjee
Image caption ڈاکٹر شائستہ یوسف کا کہنا ہے کہ طلاق کے مسئلے کے حد سے زیادہ اچھالا جاتا ہے

انڈیا کے مسلمانوں میں طلاق کا عمل بھلے ہی آسان ہو، لیکن اس پر بحث بہت پیچیدہ اور متنازع ہے۔

ملک کی عدلیہ بار بار اس میں ترامیم کا اشارہ دیتی رہی ہے جبکہ بیک وقت تین طلاق کے موجودہ نظام سے خود مسلمانوں کا ایک حلقہ بھی بہت حد تک مطمئن نہیں۔

بنگلور میں اس معاملے پر بی بی سی اردو کے ایک مباحثے میں نوجوانوں کے ساتھ سماجی کارکنوں اور شعبۂ تعلیم سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ اسلام میں طلاق کے مختلف طریقے رائج ہیں لیکن ہندوستان میں عام طور پر مسلم پرسنل لا کے تحت بیک وقت تین طلاق کو ایک کے بجائے تین طلاق تسلیم کر لیا جاتا ہے۔

حال ہی میں مسلم پرسنل لا بورڈ نے تین طلاق کے فعل کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خواتین کے خلاف ظلم نہیں۔

مباحثے میں شامل مولانا بدیع الزمان ندوی قاسمی نے مسلم پرسنل لا کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا: 'ظلم دراصل خواتین پر ہو نہیں ہو رہا ہے بلکہ ظلم سمجھا جا رہا ہے۔ اگر آپ سروے کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ آواز صرف ایسے لوگ اٹھاتے ہیں جو یا تو اسلام سے دور ہیں یا پھر اسلام کے مخالف ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Shibshankar Chatterjee
Image caption امینہ رحمت نے کہا کہ طلاق سب سے ناپسندیدہ حلال چیز ہے

مباحثے کے شرکا کی اکثریت میں بیک وقت تین طلاق کی براہ راست مخالفت تو خال خال ہی نظر آئی تاہم زیادہ تر خواتین کا موقف تھا کہ اس میں مناسب وقفہ دیا جانا چاہیے۔

ایک طالبہ رشیخہ مریم نے بیک وقت تین طلاق کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: 'یہ نہیں ہونا چاہیے۔ ایک ہی دم میں بول دینا، غصے میں بول دینا درست نہیں۔ غصے میں جو فیصلے کیے جاتے ہیں وہ کبھی اچھے نہیں ہوتے۔'

سماجی کارکن سلطانہ بیگم کا کہنا ہے کہ علیحدگی کی صورت میں خواتین کو وقت دیا جانا چاہیے۔ 'جذبات میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے تین مہینے یا تین چار دنوں کی مدت نہیں بلکہ دونوں کو مناسب وقت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ غور کریں اور فیصلہ کریں۔'

کچھ شرکاء کا خیال تھا کہ طلاق کا مسئلہ ہر سماج میں موجود ہے لیکن مسلمانوں میں اس مسئلے کو زیادہ ہوا دی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Shibshankar Chatterjee
Image caption رشیخہ مریم کا خیال ہے کہ جذبات میں آ کر کوئی بھی فیصلہ لینا درست نہیں

بنگلور کی ڈاکٹر شائستہ یوسف کا کہنا تھا کہ 'مسلمانوں کا معاملہ اچھالا جاتا ہے۔اتنا اچھالا جاتا ہے کہ جیسے ہر گھر میں طلاق دی جا رہی ہو۔'

انھوں نے کہا کہ 'لوگ اصل بات بھول جاتے ہیں۔ ہمارے پاس جو شریعت ہے، ہمارے پاس جو اصول ہیں ان پر کس کس نے بات کی ہے۔ ایک چھوٹے مسئلے کو عالمی سطح پر لایا جاتا ہے اور اسے بڑا بنا دیا جاتا ہے۔'

ایک طالب علم بابا جان کا کہنا ہے کہ 'مسلمانوں میں طلاق کی شرح بہت کم ہے اور عدالت میں تو اور بھی کم معاملے پہنچتے ہیں پھر بھی میڈیا میں ہنگامہ آرائی کی جاتی ہے کہ مسلمانوں میں خواتین کو تحفظ حاصل نہیں حالانکہ اسلام ہی پہلا مذہب ہے جس نے خواتین کو مساوی حقوق دیے۔'

ان کا یہ بھی خیال ہے کہ اس سلسلے میں سماجی، معاشی اور نفسیاتی پہلوؤں کو بھی مدِنظر رکھا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Shibshankar Chatterjee
Image caption محمد خان نے کہا کہ مسلمانوں میں طلاق کا فیصد بہت کم ہے تاہم فیصلہ سوچ سمجھ کر لیا جانا چاہیے

مباحثے کے شرکا نے بیک وقت تین طلاق کے مسئلے پر کسی بیرونی مداخلت کی مخالفت کی ان میں سے بعض لوگوں نے کسی مسلکی تنازعے سے گریز کرتے ہوئے بیک وقت تین طلاق میں اصلاح کی بات بھی کہی۔

طلاق کے مسئلے پر جہاں شرکا نے سماج میں رائج برائیوں کو مورد الزام ٹھہرایا وہیں اس میں کمی لانے کے لیے تعلیم و تربیت کو کلیدی قرار دیا۔

پروفیسر صبیحہ زبیر نے کہا: 'ڈاکٹر بنانے کے لیے میڈیکل کی تعلیم دی جاتی ہے انجینیئر بنانے کے لیے اس کی تعلیم دی جاتی ہے لیکن شادی جیسی اہم چیز کے لیے بچوں کو تیار ہی نہیں کیا جاتا۔ ان کو ان کی ذمہ داریاں نہیں بتائی جاتی ہیں۔'

تاہم ان کا یہ بھی خیال ہے کہ طلاق کے عمل کو مشکل بنایا جانا چاہیے تاکہ خواتین کے ساتھ ساتھ کنبے کو بھی بچایا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC/Shibshankar Chatterjee
Image caption پروفیسر صبیحہ زبیر نے طلاق کے عمل کو مشکل بنائے جانے کی بات کہی

شرکا میں سے کچھ نے طلاق کے فعل کے نتیجے میں خواتین کو درپیش مشکلات کا ذکر بھی کیا۔

بنگلور میں میڈیکل میں داخلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والی ایک طالبہ اے افشیں نے کہا کہ 'طلاق میں ایک طرح کی خود غرضی نظر آتی ہے۔ مرد تو آزاد ہو جاتا ہے اور وہ دوسرا نکاح بھی کر لیتا ہے لیکن تمام دقتیں خواتین کو پیش آتی ہیں۔'

معاشرہ بدل رہا ہے، اور اس کے ساتھ خواتین کی سوچ بھی لیکن چونکہ اصلاحات کے لیے آواز غیر مسلموں کی جانب سے اٹھ رہی ہے اس لیے مسلمان اس کی از خود مزاحمت کرنے لگتے ہیں۔

٭ انڈیا کے نوجوان مسلمانوں کے خدشات پر بی بی سی اردو کی خصوصی سیریز 'نائی کی دکان سے چائے کی دکان` تک ہر پیر کو پیش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں