انڈیا اور چین کی سرحد پر گولیاں کیوں نہیں چلتیں؟

اںڈیا اور چین کے فوجی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی کو جاری دو مہینے سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے ہیں، ماحول بے شک کشیدہ ہے لیکن اس دوران سرحد پر تشدد کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔ تلخی کے باوجود انڈیا چین سرحد پر جس طرح کی خاموشی ہے ویسی انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر کیوں نہیں دکھائی دیتی؟

انڈیا اور چین ٹکراؤ کے راستے پر

چین میں موجود سینیئر صحافی سیبل داس گپتا بتاتے ہیں کہ انڈیا اور چین کے درمیان ایک ایسا معاہدہ ہے جس کے مطابق دونوں کے درمیان کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو، دونوں سرحد پر جھڑپوں سے بچیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جب یہ معاہدہ طے پایا تھا اس وقت کے انڈین وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی چین آئے تھے اور دونوں ملکوں نے یہ معاہدہ طے کیا تھا جسے بعد میں منموہن سنگھ نے بھی دہرایا تھا۔

انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی کیوں ہے؟

فوجیوں کے لیے خاص قواعد

سیبل داس گپتا کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان یہ طے ہے کہ فرنٹ لائن پر جو بھی فوجی تعینات ہوں گے ان کے پاس ہتھیار نہیں ہوں گے۔ اور رینک کے مطابق افسروں کے پاس بندوقیں ہوں بھی تو ان کی نالی کا رخ زمین کی جانب ہو گا۔ اسی لیے کبھی اگر فوجی لڑتے نظر آتے ہیں تو آپس میں کشتی لڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

سیبل نے بتایا کہ ایسا کوئی معاہدہ پاکستان کے ساتھ نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 1962 میں انڈیا اور چین کے درمیان جنگ کی تصویر

انڈیا اور چین کے فوجیوں کے درمیان ہاتھا پائی کی نوبت آتی بھی ہے تو اس میں بھی کچھ باتوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

سیبل داس گپتا نے بتایا کہ چین اور انڈیا کے فوجیون کے منظر عام پر آنے والی جھگڑے کی ویڈیوز غور سے دیکھیں تو ایسا لگتا ہے جیسے بچے کشتی لڑ رہے ہوں۔ وہ ایک دوسرے کو دھکا دیتے ہیں، گرتے ہیں اور پھر اٹھتے ہیں۔

’آپ نے دیکھا ہوگا کوئی کسی کو تھپڑ نہیں مارتا ہے۔ تھپڑ مارنا توہین کرنے کی علامت ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے ہاتھ بھی استعمال نہیں کرتے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر غصے پر قابو رکھ پانا مشکل ہو جائے گا‘۔

کیا انڈیا اور چین کی جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال ہو سکتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ کیوں نہیں

ریٹائرڈ میجر جنرل اشوک مہتا نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ آخری بار 1949 میں کراچی معاہدے کے تحت سیز فائر لائن بنائی گئی تھی۔ 1965 کی لڑائی میں بھی اس لائن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ لیکن 1971 میں جب انڈیا کے پاس پاکستان کے 90 ہزار فوجی جنگی قیدی تھے تب سیز فائر لائن کو لائن آف کنٹرول بنایا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ اب اس لائن پر سیز فائر سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں رہا۔

انڈیا اور چین کی سرحد پر کون کیا تعمیر کر رہا ہے؟

اشوک مہتا بتاتے ہیں کہ 'جب مشرف صدر اور چیف آف آرمی تھے تب نومبر 2003 میں پاکستان کی طرف سے ایک میمورینڈم آف انڈرسٹینڈنگ آیا جس میں کہا گیا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر ہونا چاہیے۔ مشرف جب تک صدر رہے وہ سیز فائر قائم رہا اور 80 فیصد کامیاب بھی رہا۔ لیکن 2008 میں وہ صدر نہیں رہے اور معاہدہ کی اہمیت گھٹتی چلی گئی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان سے رشتوں کے بارے میں سیبل داس گپتا کہتے ہیں کہ نواز شریف اور نریندر مودی نے تمام مسائل کے باوجود پہل تو کی تھی لیکن انڈیا اور پاکستان میں کچھ ایسے عناصر ہیں، خاص کر ٹی آر پی کے یچھے پڑا میڈیا، جو آگ لگانے میں آگے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انڈیا کے اعصاب پر سوار ہے اور کشمیر پاکستان کے۔ اس سے آگے وہ سوچ ہی نہیں پا رہے ہیں۔

اب صبر ختم ہو سکتا ہے

گذشتہ دنون لداخ میں انڈین اور چینی فوجیوں کا ایک دوسرے پر پتھراؤ کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی۔ کیا دونوں ممالک کے فوجیوں کا صبر اب ختم ہو رہا ہے؟ اس بارے میں سیبل داس گپتا تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر واقعی ایسا ہوا تو امن ختم ہو جائے گا۔

’ہم ایک خوفناک صورت حال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ہر بار لڑائیاں بادشاہوں نے نہیں کروائیں۔ کئی جنگیں غلطی سے ہوتی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انہوں نے کہا چین اور انڈیا کی سرحد پر جو فوجی تعینات ہیں وہ 21-22 سال کے جوان لڑکے ہیں۔ ان کے بھی خاندان ہیں جو ریڈیو سنتے ہیں اور ٹی وی دیکھتے ہیں۔ میڈیا میں آنے والی خبروں کا اثر ان پر بھی پڑتا ہے۔ حکومت جتنا بھی کہے کہ صبر رکھو لیکن صبر کا پیمانہ لبریز بھی ہو سکتا ہے اور غلطی بھی ہو سکتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں