انڈین جنرل کے بیان پر پاکستانی اور چینی میڈیا کا سخت رد عمل

بپن راوت تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈین فوج کے سربراہ بپن راوت کے اس بیان کو چین کی میڈیا میں خصوصی توجہ ملی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ انڈیا اور چین کے درمیان شمالی سرحد پر تشدد ہوا تو جنوبی سرحد پر پاکستان فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

جنرل راوت نے کہا تھا کہ انڈیا کو دو محاذوں پر جنگ کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

فوجی سربراہ کے اس بیان پر چین کے وزیر خارجہ کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

چین کے وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ یقینی طور پر نہیں جانتے کہ یہ جنرل راوت کا ذاتی خیال ہے یا انڈین حکومت باضابطہ طور پر ایسا سوچتی ہے۔ چین کی میڈیا میں بھی جنرل راوت کا بیان سرخیوں میں رہا۔

انڈیا چین کشیدگی میں کون ہارا اور کون جیتا؟

دو طرفہ تعلقات میں سرحدی امن اہم شرط ہے: انڈیا

اس معاملے میں چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے لکھا ہے 'چین اور انڈیا کی طرف سے ڈوکلام سرحد پر کشیدگی ختم کیے جانے کے بعد جنرل راوت کا یہ بیان آیا ہے۔ برکس کے اجلاس میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے مثبت رخ دکھاتے ہوئے صبر اور امن کے ساتھ دو طرفہ تعلق پر زور دیا تھا۔ ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گلوبل ٹائمز نے آگے لکھا ہے 'ہر کوئی یہ ہی سوچ رہا تھا کہ ڈوکلام میں ہونے والی کشیدگی کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ جانا چاہئے۔ لیکن راوت کا بیان اس سے بلکل الٹ ہے۔ جون میں جب ڈوکلام سرحد پر کشیدگی شروع ہوئی تھی تب بپن راوت نے کہا تھا کہ انڈین فوج ڈھائی محاذوں پر لڑائی کے لیے تیار ہے۔' انھوں نے یہ بات پاکستان اور انڈیا کے اندر مخالف گروہوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے کہی تھی۔

گلوبل ٹائمز نے لکھا ہے 'چین اور انڈیا کے درمیان دشمنی کے ماحول میں راوت کا بڑبولاپن آگ میں گھی کا کام کرے گا۔ راوت نہ صرف بین الاقوامی قوائد کو نظر انداز کر رہے ہیں بلکہ انڈین فوج کے غرور کو بھی ہوا دے رہے ہیں۔ وہ ڈھائی محاذوں پر جنگ کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن اتنی خود اعتمادی انڈین فوج کے پاس آتی کہاں سے ہے؟'

'انڈین 1962 کی شکست سے نکل نہیں سکے'

'55 سال بعد بھی انڈیا نے سبق نہیں سیکھا‘

گلوبل ٹائمز نے جنرل راوت کا گھیراؤ کرتے ہوئے لکھا ہے 'انڈیا کے جنرلوں کو موجودہ حالات کے بارے میں معلومات ہونا ہہت ضروری ہے۔ کیا چین اور پاکستان سے انڈیا ایک ساتھ جنگ کر سکتا ہے؟'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بپن راوت کے بیان کو ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے بھی کافی توجہ دی ہے۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے لکھا ہے '1962 میں اروناچل پردیش کے لیے دونوں ممالک لڑ چکے ہیں۔ پچھلے ہی مہینے دونوں کی فوجیں ڈوکلام سرحد پر آمنے سامنے تھیں۔ دس ہفتوں بعد دونوں کے درمیان کشیدگی ختم ہوئی ہے۔'

انڈیا چین کشیدگی میں کون ہارا اور کون جیتا؟

'چین صورتحال کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہے'

انڈیا، پاکستان اور چین تینوں ہی کے پاس جوہری طاقت ہے۔ بپن راوت نے کہا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کو دفاعی طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ جن ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں ان سے لڑنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی خوف میں لوگ جنگ لڑنے سے ڈرتے ہیں۔

حالانکہ جنرل راوت نے کہا ہے کہ یہ بات پوری طرح صحیح نہیں ہے کہ انڈیا کے پاس ان ہتھیاروں کی موجودگی کی وجہ سے جنگ ٹالی جا سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جنرل راوت کے بیان کو پاکستانی میڈیا میں بھی جگہ ملی ہے۔

پاکستانی اخبار ڈان نے لکھا ہے 'راوت کا خیال ہے کہ چین ہمیشہ سے سرحد پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتا رہا ہے اور ایسے میں انڈیا کو تیار رہنا چاہیے۔ جنرل راوت کا خیال ہے کہ انڈیا اور چین الجھتے ہیں تو پاکستان اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ جنگ میں فوج اکیلے نہیں جاتی بلکہ جنگ ملکوں کے درمیان ہوتی ہے اور اسی کے مطابق تیاری ہونی چاہیے۔'

پاکستان کے دی ایکسپریس ٹریبیون اخبار نے اس بارے میں لکھا ہے 'انڈیا اور چین کے درمیان اختلافات کی کمی نہیں ہے۔ انڈیا ہمیشہ چین اور پاکستان کے رشتوں کو شک کی نظر سے دیکھتا رہا ہے۔ انڈیا نے چین کے صدر شی جنپنگ کی اس دعوت کو بھی ٹھکرا دیا تھا جس میں انھوں نے 'ون بیلٹ ون روڈ' منصوبے میں انڈیا سے شامل ہونے کو کہا تھا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں