'تاج محل ہی کیوں ؟ ایوان صدر اور پارلیمنٹ بھی گرائیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ CHANDAN KHANNA
Image caption تاج محل کے بارے میں سخت گیر ہندو قوم پرست رہنماؤں کے متنازع بیانات کو انتخابی حکمت عملی کے طورپر دیکھا جا رہا ہے

بی جے پی کے ایک سینئر رہنما سوم سنگیت کی جانب سے تاج محل کو انڈیا پر بدنما داغ قرار دیے جانے کے بعد سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان نے کہا ہے ’تاج محل ہی نہیں، راشٹر پتی بھون اور پارلیمنٹ کو بھی منہدم کر دینا چاہیے‘۔

نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق ٹیلی ویژن چینلوں پر دکھائے گئے ایک بیان میں اعظم خان نے کہا کہ اگر غلامی کی نشانیوں کو مٹانا ہے تو صرف ’تاج محل ہی کیوں، راشٹر پتی بھون، پارلیمنٹ، لال قلعہ، قطب مینار، آگرے کا قلعہ سبھی کو گرائیے۔ یہ سبھی عمارتیں تو غداروں اور لٹیروں نے ہی بنوائی تھیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ان سبھی عمارتوں کو گرا دیانا چاہیے ’جن سے ماضی کے حکمرانوں کی بو آتی ہو‘۔

اعظم خان کا یہ بیان بی جے پی کے رہنما سوم سنگیت کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تاج محل ہندوستان کی تاریخ کا ایک ’کلنک‘ ہے اور اسے بربریت پسندوں اور غدراروں نے بنوایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ' تاریخ کو صحیح کرنے کی ضرورت ہے‘۔

یہ بھی پڑھیے

’تاج محل مغل لٹیروں کی نشانی ہے‘

تاج محل بھی پاکستان بھجوا دیں!

یوگی کو تاج محل سے نفرت کیوں؟

لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے تاج محل کا نام لیے بغیر ایک تقریب میں کہا 'کوئی بھی ترقی تب تک ممکن نہیں جب تک لوگ اپنی تاریخ، اپنی وراثت اور اپنی روایات پر فخر نہیں کرتے‘۔

وزیر اعظم کے اس بیان کے بعد اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اور سادھو آدتیہ ناتھ یوگی نے بھی اپنا موقف بدلتے ہوئے کہا 'تاج محل کس نے بنوایا، کس مقصد سے بنوایا یہ اہم نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ انڈیا کے مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی سے تعمیر کیا گیا تھا۔ سیاحت کے نقطہ نظر سے اس کا فروغ اور تحقظ حکومت کی ذمےداری ہے‘۔

ریاستی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ اس مہینے کے آخر میں تاج محل کا دورہ کریں گے۔ کچھ دنوں پہلے آدیتہ ناتھ یوگی نے کہا تھا کہ تاج محل انڈیا کی تاریخ اور تہزیب سے مطابقت نہیں رکھتا۔

تاج محل کے بارے میں سخت گیر ہندو قوم پرست رہنماؤں کے متنازع بیانات کو انتخابی حکمت عملی کے طورپر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین ان بیانات کو ملک کی معیشت میں سست روی اور اپوزیشن جماعت کانگریس کے بڑھتے ہوئے اعمتاد کے پیش نظر ہماچل اور گجرات کے انتخابات میں ووٹروں کو مزہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی حکمراں بی جے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

ان بیانات پر ملک کے ٹی وی چینلز اور اخبارات میں زبردست نکتہ چینی ہوئی تھی اور یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں بھی خبریں شائع ہوئی تھیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں