دیوالی ’مبارک‘ پر اعتراض؟

تصویر کے کاپی رائٹ SANJAY KANOJIA
Image caption دیوالی کو روشنیوں کا تیوہار کہا جاتا ہے۔

آج دنیا بھر میں دیوالی منائی جا رہی ہے۔ روشنیوں کے اس ہندو تہوار کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی لوگ ایک دوسرے کو دیوالی کے موقع پر مبارک باد دے رہے ہیں۔

لیکن اسی درمیان ٹوئٹر پر ایک عجیب سی بحث بھی چھڑ گئی ہے۔ جہاں کچھ ٹویٹر صارفین نے دیوالی کے ساتھ 'مبارک' لفظ کے استعمال پر اپنے غصے اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن تروڈو نے اپنی ٹویٹ میں دیوالی مبارک لکھا تو اس کے جواب میں کئی ایسے ٹویٹس آئے، جن میں مبارک لفظ کے استعمال پر یہ کہہ کر اعتراض کیا گیا کہ یہ عربی لفظ ہے، اسلامی لفظ ہے اور اس کا ہندو روایات سے کوئی تعلق نہیں۔ اور یہاں تک کہ اس سے ہندؤوں کی بےعزتی ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption جسٹن ٹروڈو کا ’دیوالی مبارک‘ والا ٹویٹ

ٹوئٹر صارف نوپر نے بھی اپنی ٹویٹس میں اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نہ لکھا کہ ’وہ لوگ جنہوں نے پچھلے تین دن سے دیوالی پر کچھ نہیں کہا، آج مجھے تنگ کرنے کے لیے سب کو ’دیوالی مبارک‘ کہہ رہے ہیں۔‘ اور یہ کہ انہوں نے اپنے ان دوستوں کو بلاک کر دیا ہے جو انہوں دیوالی مبارک کے پیغامات بھیج رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption نوپر نے دیوالی ’مبارک‘ کہنے والے دوست کو بلاک کر دیا ہے۔

جواب میں جہاں کئی صارفین نے ان کے موقف سے اتفاق کیا اور کہا کہ ’مبارک‘ لفظ کا استعمال اسلامی ثقافت کی ہندو روایات میں دبے پاؤں آمد کی علامت ہے، وہیں کچھ نے جواب میں اپنے دیوالی پیغامات میں مبارک لفظ کا استعمال بھی کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption پریرنا بخشی نے ٹویٹ کیا کہ پنجابی عرصہ دراز سے دیوالی مبارک کہتے آئے ہیں

مصنف اور کالم نگار پریرنا بخشی نے ٹویٹ کیا کہ پنجابی عرصہ دراز سے دیوالی مبارک کہتے آئے ہیں۔۔ اور اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

کچھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کا پچھلے سال کا ایک ٹویٹ نکال کر یہ کہا کہ گجرات میں دیوالی کے بعد نئے سال کے موقع پر ہمیشہ 'سال مبارک' کہتے ہیں۔

یہ بحث اپنی جگہ، یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ زبانیں مذاہب نہیں ثقافتوں کی امانت ہوتی ہیں، اور اردو کی پیدائش دراصل موجودہ انڈیا میں ہی ہوئی تھی۔ ہمیں امید ہے کہ آپ کی دیوالی اس بحث سے دور روشنی اور رنگوں سے بھری ہو!

اسی بارے میں