امریکہ کو جواب، شمالی کوریا میں سفارت خانہ رہے گا

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے نئی دہلی میں اپنے امریکی ہم منصب ریکس ٹیلرسن سے ملاقات میں کہا کہ انڈیا شمالی کوریا میں اپنے سفارت خانے کو قائم رکھے گا تاکہ ان دونوں ممالک میں رابطے جاری رہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکہ شمالی کوریا پر جوہری ہتھیاروں کے تجربات کے باعث عالمی دباؤ بڑھانے کی کوششیں کر رہا ہے۔

’امریکہ اور شمالی کوریا براہ راست رابطے میں ہیں‘

انڈیا کا شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی تعلق کافی عرصے سے قائم ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے یہاں سفارت خانے قائم کیے ہوئے ہیں لیکن حال ہی میں انڈیا نے شمالی کوریا کے ساتھ ادویات اور راشن کے سامان کے علاوہ باقی تمام اشیا کی تجارت بند کر دی ہے۔

سشما سوراج نے پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریکس ٹیلرسن سے بات چیت کے دوران شمالی کوریا کا معاملہ زیر بحث آیا تھا لیکن انھوں نے امریکی وزیر خارجہ کو بتایا کہ کسی حد تک شمالی کوریا سے رابطہ رکھنا ضروری ہے۔'

امریکی وزیر خارجہ کی سشما سوراج سے ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ان کاوشوں کا حصہ ہے جہاں وہ انڈیا سے معاشی اور سٹریٹیجک روابط بڑھانے کی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ خطہ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے ساتھ مسابقت رکھی جائے۔

دونوں رہنماؤں نے انسداد دہشت گردی کے بارے میں گفتگو کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس کا خاتمہ کیا جائے اور ریکس ٹیلرسن نے کہا کہ امریکہ انڈیا کی ٹیکنالوجی کی ضروریات کو پورا کرے گا۔

'امریکہ انڈیا کے ابھرتے ہوئے کردار کی حمایت کرتا ہے اور سیکورٹی فراہم کرنے کی انڈین کوششوں کا ساتھ دینے کے لیے ان کی ہر ممکن مدد کرے گا۔'

امریکہ کی شمالی کوریا پر توجہ کی ضرورت اس لیے بھی ہے کیونکہ اگلے ماہ صدر ٹرمپ چین کا دورہ کریں گے جہاں اس بات کی توقع ہے کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں شمالی کوریا پر دباؤ بڑھانے پر زور دیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں