انڈین ٹوئٹر پر کھچڑی کی کھچڑی بن گئی!

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption ہیش ٹیگ کھچڑی

تو ہوا یوں کہ کہیں سے ٹوئٹر پر یہ خبر چل پڑی کہ انڈیا کچھ دن بعد، ایک تقریب میں، کھچڑی کو اپنے قومی پکوان کا درجہ دینے والا ہے۔ بس پھر کیا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے ٹوئٹر پر اس کی حمایت، اس کے خلاف، اس پر طنز اور مذاق کی پوری دعوت لگ گئی۔ بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ایک وزیر کو اس بحث میں کود کر وضاحت دینا پڑی۔

کچھ نے مودی سرکاری کی اقتصادی پالیسیز پر طنز کیا۔ جیسے کہ گوراو پاندھی، جو کہ کانگریس کے کارکن بھی ہیں، انہوں نے ٹویٹ کیا کہ، 'ملک کی معیشت کی حالت اتنی بیمار ہے کہ کھچڑی کا انتخاب بالکل صحیح ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption کچھ نے مودی سرکاری کی اقتصادی پالیسیز پر طنز کیا

کچھ نے کھچڑی کو موجودہ حکومت کی گائے کے گوشت پر پابندی سے جوڑا۔ جیسے کہ تحسین پوناوالا۔ انہوں نے لکھا، 'میرا سوال یہ ہے کہ اگر بی جے پی کی حکومت والے گووا یا آندھرا پردیش میں کوئی بیف والی کھچڑی کھائے تو کیا ہوگا؟ کیا ایسا کرنا ملک دشمنی ہوگی؟ یا قوم پرستی؟ یا ان دونوں کے بیچ میں کچھ؟'

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption بیف کھچڑی پر بھی سوال اٹھے!

مصنف کرن منرال نے لکھا، 'پلاؤ کی طرف سے اس بات پر میں احتجاج کرتی ہوں!'

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption کچھ نے پلاؤ کی طرف سے احتجاج کیا!

انڈیا میں قومی ترانے پر ہونے والی بحث کے پس منظر میں انڈیا کے زیر انتظام جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے ٹویٹ کیا، 'تو کیا کسی کو کھچڑی کھاتے ہوئے دیکھ کر اب کھڑا ہونا پڑےگا؟ کیا فلم دیکھنے سے پہلے اسے کھانا ضروری ہوگا؟ اور جسے پنسد نہ ہو کیا وہ ملک دشمن قرار دیا جائے گا؟'

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption کچھ کو فلموں سے پہلے کھانے کی فکر ہوئی!

مذاق اور طنز کے ساتھ ساتھ کھچڑی کی حمایت میں بھی کئی لوگوں نے ٹویٹ کیا۔ جیسے کہ کریتیکا دویدی، جنہوں نے لکھا، 'کوئی حیرت نہیں کہ کھچڑی کو ہمارا قومی پکوان قرار دیا جارہا ہے۔ جب بھی سمجھ نہ آیِ کہ کیا بنایا جائے تو ہمیشہ کھچڑی ہی بنائی جاتی ہے۔ صحت کے لیے اچھی، مزہ دار اور دیکھتے ہی دیکھتے تیار!'

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption کھچڑی کے مداحوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔

ٹوئٹر پر بحث اتنی تیز ہوگئی کہ انڈیا کی مرکزی وزیر برائے فوڈ پروسیسِنگ ہرسمرت کور بادل کو آخر کار ٹویٹ کر کے معاملے کو سلجھانا پڑا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کھچڑی کو قومی پکوان قرار نہیں دیا جا رہا، بلکہ 3-5 نومبر کو دلی میں منعقد ہونے والے ورلڈ فوڈ انڈیا نامی ایونٹ میں یہ انڈیا کی اینٹری ہوگی۔ انہوں نے ٹویٹ کیا، 'اس فرضی قومی پکوان کے نام پر بہت کھچڑی پک گئی۔ کھچڑی صرف ورلڈ فوڈ انڈیا میں ہماری ایٹری ہے۔' انہوں نے یہ بھی کہا کہ، 'ہم فخر کے ساتھ انڈیا کے مختلف اقسام کے پکوانوں کو لوگوں کے سامنے لائیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ آج خبریں ذرا کم تھیں!'

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption یہاں تک کہ مرکزی وزیر کو وضاحت دینا پڑی!

کھچڑی انڈیا کا قومی پکوان تو نہیں بنی، پر ہاں ٹوئٹر پر اعلی درجے کی کھچڑی ضرور پک گئی!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں