’جنسی شکاری‘ اساتذہ کے نام منظر عام پر

رایا سرکار تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption رایا سرکار امریکہ میں مقیم ہیں اور قانون کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں

جنسی ہراساں کیے جانے کے بارے میں سوشل میڈیا پر می ٹو مہم کے تناظر میں انڈیا میں ایک طالبہ نے فیس بک پر ایک فہرست شائع کی ہے جس میں پچاس سے زیادہ انڈین اساتذہ پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایک اور بحث چھڑ گئی ہے کہ یوں سر عام نام لے کر شرمندہ کرنا کیا ایسے رویے کا مقابلہ کرنے کا مناسب طریقہ ہے۔

ہالی ووڈ اور دوسری صنعتوں میں ایسے الزامات کی بھرمار کے بعد چوبیس برس کی قانون کی طالبہ رایا سرکار نے اپنی ساتھیوں سے ایسے اساتذہ کے ساتھ تجربات کی تفصیل بھیجنے کے لیے کہا جنہوں نے یا تو اُنہیں جنسی طور پر حراساں کیا ہو یہ جنسی طور پر شکار بنانے کی کوشش کی ہو۔

رایا سرکار نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو بتایا کہ 'میں اپنی سہیلیوں اور آگے اُن کی سہیلیوں کو ماخذ اول سے حاصل کیے گئے تجربات کی بنیاد پر مختلف جنسی بھیڑیوں کے بارے میں متنبہ کرنا چاہتی تھی تاکہ وہ ہوشیار رہیں۔'

مختلف لوگوں کے تجربات پر مبنی یہ فہرست فیس بک پر شائع کی گئی اور ایک ہزار سے زیادہ دفعہ شیئر کی گئی۔ اس فہرست میں پروفیسر صاحبان کے ناموں کے ساتھ وہ جن یونیورسٹیوں کے ساتھ منسلک ہیں اُن کے نام بھی شامل کیے گئے مگر الزامات کی تفصیلات اور الزام لگانے والوں کا نام شامل نہیں کیا گیا۔

گو کہ فہرست میں شامل کچھ مرد حضرات کے خلاف باقاعدہ شکایات بھی درج کی گئی ہیں بیشتر اساتذہ کے خلاف کوئی قانونی شکایات چارہ جوئی نہیں کی گئی۔

رایا کی فہرست وائرل ہوتے ہیں ایک فیمینسٹ مصنفہ اور جواہر لال یونیورسٹی کی پروفیسر نویدیتا مینن نے مشہور انڈین فیمینسٹس کے ایک گروہ کی جانب سے بیان جاری کیا جس میں رایا کے طریقے کی سخت مخالفت کی گئی اور کہا کہ 'ہمارے لیے یہ بات پریشان کن ہے کہ اپنا نام ظاہر کیے بغیر کسی پر بھی الزام لگایا جائے اور پھر الزام لگانے والا جواب دہ بھی نہ ہو۔

جہاں حقیقی شکایات ہیں وہاں ادارے اور طریقے موجود ہیں جن کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ یوں کسی کا نام لینے سے جنسی حراساں کیے جانے کے خلاف جاری مہم کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے اور فیمینسٹ ہونے کے ناطے ہمارا کام اور مشکل ہو جائے گا۔'

اس موضوع پر فیمین ازم کے مختلف دھڑوں میں ٹوٹر پر جنگ جاری ہے۔

کچھ نے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ نے اس طرح فہرست شائع کرنے کو باقاعدہ کاروائی کے رائج طریقوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔

فہرست میں شامل زیادہ تر اساتذہ نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ مگر ان میں سے ایک پارتھا چیٹرجی نے انڈین نیوز ویب سائیٹ دی وائیر کو بتایا کہ یہ ناانصافی ہے کہ ہمیں شکایت کی نوعیت کا ہی علم نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہمیشہ طلبہ کے ساتھ 'عزت اور احترام ' سے پیش آتے ہیں۔

رایا سرکار نے پارتھا چیٹرجی کو اُن کے خلاف الزامات کی مزید تفصیلات نہیں فراہم کیں۔ سرکار نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو بتایا کہ طلبہ شکایت کرنے سے گھبراتی ہیں کیونکہ الزامات کی پیروی کرنے والے خود بھی اساتذہ کے دوست ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ممکن ہے کہ شکایت کرنے والی طلبہ کو مزید حراساں کیا جائے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جائے۔

رایا کے مطابق تعلیمی میدان میں ایسی شکایات کے لیے رائج طریقہ کار سے اب تک خواتین کو مایوسی ہوئی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ 'لوگ ان حالات سے کیوں گزرنا چاہیں گے اگر وہ عدالت کا رخ کر سکتے ہوں اور رائج طریقہ کار منصفانہ اور آسان ہو۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنسی حراساں کے کیسز میں سزائیں کم ہی ملتی ہیں۔

انڈیا کی سپریم کورٹ کی وکیل کارونا نندی اس بات سے متفق ہیں کہ دنیا بھر میں خواتین کو جنسی حراساں کیے جانے کے خلاف کیسز کو عدالت تک لے جانے میں خواتین کو سخت چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ انہوں نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو بتایا کہ 'خواتین کے لیے عدالتی نظام سے گزرنا اور کامیابی حاصل کرنا مشکل ہے۔ انڈیا، انگلینڈ اور باقی دنیا میں سزاؤں کی شرح بہت کم ہے۔' انہوں نے مزید کہا کہ سزاؤں کی شرح نچلے طبقے، ایل جی بی ٹی کیو اور اقلیت سے تعلق رکھنے والی خواتین کے کیسز میں اور بھی کم ہے۔

رایا کی جانب سے فہرست شائع کرنے کے بعد فیس بک کی ایک اور صارف مالاٹی کماری نے ایک اور فہرست شائع کی جس میں اُن کے مطابق تعلیمی دنیا میں جنسی حراساں کرنے والوں کے نام ہیں۔ گو کہ یہ پوسٹ اب ڈیلیٹ کر دی گئی ہے مگر اس میں اس پینڈوراز باکس کھولنے کا سہرا رایا کے سر لگایا گیا۔

رایا کہتی ہیں کہ وہ الزام لگانے والی طلبہ کے نام نہ شائع کرنے کے فیصلے پر قائم رہیں گی۔ اُن کے مطابق 'جن لوگوں نے مجھے اپنے تجربات بھیجے اُنہوں نے اپنا کریئر داؤ پر لگایا ہے۔ انہوں نے مجھ پر بھروسہ کیا ہے اور اسی لیے میں اُن پر یقین کرتی ہوں۔' رایا نے مزید کہا کہ 'میں اسے معاملے کو آخر تک لے جاؤں گی'