فضائی آلودگی کے باوجود دلی میں ہاف میراتھن

ہاف میراتھن میں حصہ لینے والے ایتھلیٹس تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دلی میں تفریبا ایک ماہ سے دھند چھائی ہوئی ہے

انڈیا کے درالحکومت دلی میں دھند اور شدید فضائی آلودگی کے باوجود پوری دنیا سے تقریباً پینتیس ہزار افراد کی شرکت والی ہاف میراتھین کا انعقاد ہوا۔

انڈین میڈیکل اسوسی ایشن نے دلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا کہ وہ شدید آلودگی کے پیش نظر اتوار کی صبح ہونے والی ہاف میراتھن کو رکوائے۔

اس کے علاوہ طبی ماہرین اور ماحولیات سے متعلق سرکردہ غیر سرکاری تنظیموں نے بھی متنبہ کیا تھا کہ دلی کی فضا میں چھ نومبر کے بعد آنے والی تبدیلی کے بعد میراتھن میں حصہ لینا صحت کے لیے مضر ثابت ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فضا میں دوڑنے سے دمہ جیسی سانس کی بیماری ہوسکتی ہے جبکہ گردوں کے امراض اور دل کی بیماریوں میں شدت آسکتی ہے۔

ان تمام وارننگز کے باوجود تقریباً پینتیس ہزار افراد دلی کی سڑکوں پر دوڑنے نکلے۔ بیشتر نے ماسک لگا کر اس میراتھن میں حصہ لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ریس میں حصہ لینے والوں میں سے اکثر نے ماسک پہن رکھے تھے

بعض ایتھلیٹس نے سانس سے متعلق دشواریوں کی شکایت کی۔

میراتھن میں دوڑنے والے تیس سالہ روہت موہن کا کہنا تھا 'میری آنکھیں جل رہی ہیں اور گلہ سوکھ رہا ہے۔'

روہت موہن انڈیا کے جنوبی شہر بنگلور سے اس میراتھن میں حصہ لینے دلی آئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا ' کل جب سے میں دلی پہنچا ہوں تب سے میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے'۔

بعض افراد کا کہنا تھا کہ انھوں نے احتیاط کے طور 'ماسک تو پہن لیے ہیں۔ اس سے بھلے ہی ہوا فلٹر ہوتی ہو لیکن اسے پہن کر سانس لینے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔'

تیس سالہ ابھے سین کا کہنا تھا 'ماسک پہننے سے سانس لینے میں محنت لگتی ہے۔ جس کی وجہ سے کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ افسوس کہ ہم اسے اتار بھی نہیں سکتے۔‘

وہیں بعض رننرز کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ دلی کی فضا پہلے سے تھوڑی بہتر ہوئی ہے۔ اٹھائیس سالہ ساکیت بینرجی کا کہنا تھا ' موسم کافی خوشگوار ہے۔ ہمیں اس بات کی بے حد خوشی ہے۔'

مردوں میں میراتھن کے فاتح برہانو لیگیس کا کہنا تھا ریس میں حصہ لینے والے بڑے نام فضائی آلودگی کے سبب ' تھوڑے ڈرے' ہوئے تھے لیکن فضا اتنی بھی خراب نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا 'میں یہ نہیں کہ رہا کہ فضا بہت اچھی ہے۔'

واضح رہے کہ اس ماہ کے شروع میں دارالحکومت اور اس کے نواحی علاقوں میں شدید دھند چھا گئی تھی جس کے سبب لوگوں کو سانس لینے میں دقت ہورہی تھی اور لوگ آنکھوں میں جلن کی شکایت کر رہے تھے۔

دلی میں آلودگی کی شرح عالمی ادارے صحت کی جانب سے طے شدہ حد سے تیس گناہ زیادہ ہو گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/getty images
Image caption مردوں میں ایتھوپیا کے برہانو لیگیس فاتح رہے

فضائی آلودگی کے سبب ریاستی حکومت نے کچھ دن کے لیے پرائمری سکول بند کردیے تھے اور پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند برسوں سے سردی کے موسم میں دلی میں دھند چھا جاتی ہے جو کے صحت کے لیے بے حد مضر بتائی جاتی ہے۔ لوگ آنکھوں میں جلن، کھانسی اور سانس کی بیماری میں شدت کی شکایت کرتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق ان دنوں دلی کی فضائی آلودگی کا سب سے برا اثر بچوں، بزرگوں اور مریضوں پر ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں