'انڈین سیاست کو قاتلوں کی ضرورت ہے'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لو جہاد آر ایس ایس اور بی جے پی کا تخلیق کیا ہوا استعارہ ہے اور اس سے مراد ان مسلم نوجوانوں سے ہے جو ہندو لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں۔

راجستھان کے راجسمند ضلع میں بنگال کے ایک مسلم ورکر کے قتل اور انھیں زندہ جلائے جانے کی ویڈیو نے انڈیا کے تمام جمہوریت پسندوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اس ویڈیو میں قاتل کو کلہاڑی سے وار کرنے کے بعد 'لو جہاد' کے بارے میں مسلمانوں کو وارننگ دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ حملہ آور قتل کے بعد کہتا ہے کہ 'لو جہاد میں جو بھی ملوث ہو گا اس کے ساتھ یہی برتاؤ کیا جائے گا۔‘ قتل کی یہ ویڈیو اس نے خود سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جو کچھ ہی دیر میں وائرل ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیے

مسلمان کے قتل اور اس قتل کی ویڈیو بنانے کا ملزم گرفتار

مسلمان اب کسی کا ووٹ بینک نہیں

لو جہاد آر ایس ایس اور بی جے پی کا تخلیق کیا ہوا استعارہ ہے اور اس سے مراد ان مسلم نوجوانوں سے ہے جو ہندو لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں۔ ہندو سخت گیروں کا الزام ہے کہ مسلم اس طرح کی شادیاں ایک منظم مذہبی سازش کے تحت ہندو لڑکیوں کو مسلمان بنانے کے لیے کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے کئی رہنما گذشتہ دو تین برس سے اس اصطلاح کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ ابھی تک ایسا کوئی ثبوت یا اشارہ نہیں ملا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ اس طرح کی شادیاں کسی سازش کے تحت ہو رہی ہیں۔ لیکن نفرت کا یہ پروپگنڈہ کس حد تک موثر ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسداد دہشت گردی کا ادارہ این آئی اے 'اس نام نہاد تصوراتی' لو جہاد' کی تفتیش کر رہا ہے۔

لو جہاد اور اس طرح کے دوسرے مسلم مخالف نفرت انگیز پروپگنڈے کا معاشرے پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ عام لوگ اب ان میں یقین کرنے لگے ہیں۔ راجستھان میں قتل کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حملہ آور مقتول کے بارے میں صرف یہ جانتا تھا کہ وہ مسلم ہے اور اس نے اسے صرف اس لیے قتل کیا کہ وہ مسلم تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لو جہاد اور اس طرح کے دوسرے مسلم مخالف نفرت انگیز پروپگنڈے کا معاشرے پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ عام لوگ اب ان میں یقین کرنے لگے ہیں۔

مقتول ایک شادی شدہ شخص تھا جس کی مسلم بیوی اور تین بچے بنگال کے ضلع مالدہ میں رہتے ہیں۔ وہ ملازمت کے لیے راجستھان میں مقیم تھا۔ قاتل کو واضح طور پر نفرت کی مہم سے ترغیب ملی تھی۔

راجستھان میں مذہبی نفرت کے سبب مسلمانوں کو قتل کرنے کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ اس بہیمانہ واقعے پر بی جے پی کی قیادت اور راجستھان کی حکومت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ماضی کے بعض واقعات میں بھی قتل کی ویڈیوز بنائی گئی تھیں اور انھیں باقاعدہ شیئر کیا گیا تھا۔ کچھ معاملات میں ملزم گرفتار کیے گئے لیکن میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ان میں سے بیشتر ضمانت پر رہا ہو گئے۔ قتل کے اس تازہ واقعے میں بھی کچھ دنوں بعد حملہ آور کو نشئی یا ذہنی طور پر بیمار بتا کر اگر ضمانت پر رہا کر دیا جائے تو کسی کو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

اس طرح کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سبب بھی یہی ہے کہ مجرموں کو یہ پتہ ہے وہ جرم کے بعد بچ جائیں گے اور انھیں معاشرے اور سیاست کے ایک طبقے کی پشت پناہی حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مجرموں کو یہ پتہ ہے وہ جرم کے بعد بچ جائیں گے اور انھیں معاشرے اور سیاست کے ایک طبقے کی پشت پناہی حاصل ہے۔

مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت کی مہم شدت اختیار کر رہی ہے۔ جمعہ کے روز بی جے پی کے ایک مرکزی وزیر نے بنگلور میں کہا کہ جب تک اسلام کو جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکا جاتا تب تک دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ گجرات کے بڑودہ شہر میں بی جے پی کے ایک امیدوار نے ایک سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے حقلے میں داڑھی ٹوپی والوں کی تعداد کم ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کو 'سماج دشمن' قرار دیا اور کہا کہ انھیں دھمکا اور ڈرا کر رکھنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھتے

انڈیا: مسلمان طالب علم پر ’داڑھی نہ رکھنے کا دباؤ‘

انڈیا میں مسلمان ہندوؤں سے زیادہ کیسے ہوں؟

انڈیا: مسلمان کرکٹر کے آنسو پر قوم پرستی کی بحث

مسلمانوں کے خلاف نفرت کا یہ زہر رفتہ رفتہ پورے معاشرے میں پھیل رہا ہے۔ پہلے جو پس پردہ اپنی نفرتوں کا اظہار کرتے تھے اب کھل کر کرنے لگے ہیں۔ ملک میں اب اکثریت مذہبی سیاست ہو رہی ہے۔ یہ ایک خطرناک نظریہ اور ایک خطرناک روش ہے۔ ایک سرکردہ صحافی رویش کمار نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سیاست کو مزید قاتلوں کی ضرورت ہے۔ نفرتوں کی اس سیاست کو معاشرے کے ایک بڑے طبقے کی قبولیت حاصل ہے۔ انڈین جمہوریت ایک برے دور سے گزر رہی ہے اور ملک کی ایک بڑی اکثریت محض خاموش تماشائی ہے۔

اسی بارے میں