انڈیا: غیر ازدواجی جنسی تعلق، قصوروار مرد یا عورت؟

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption اڈلٹری کا موجودہ قانون پرانا تو نہیں ہوگیا؟

یہ جو قصہ ہے 'اڈلٹری' یا غیر ازدواجی جنسی تعلق کا، جس میں مرد بھی ہے، عورت بھی، عشق بھی ہے، جرم بھی، قانون بھی ہے، سزا بھی، اس میں ایک دلچسپ موڑ آگیا ہے۔ سوال اٹھا ہے کہ کہیں کہانی پلٹ تو نہیں گئی؟ آج کے قصے میں مجرم کون ہے اور انصاف کیا ہے؟

مفادِ عامہ کے لیے دائر کردہ ایک پٹیشن کی سماعت کے دوران انڈین سپریم کورٹ نے پوچھا ہے کہ صرف مرد کو مجرم ماننے والا 'اڈلٹری' یا غیرازدواجی جنسی تعلق پر سزا کا موجودہ قانون کہیں پرانا تو نہیں ہوگیا؟ کیونکہ یہ جرم تو مرد اور عورت، دونوں کی رضا مندی سے ہوتا ہے؟

یہ بھی پڑھیے

شادی کے نام پر سودا

انڈین قبیلے میں کم عمری میں شادی کا رواج

کاش میں یہاں لکھ دیتی کہ جواب سیدھا سادھا ہے کہ 'جب پیار سانجھا ہے تو سزا بھی سانجھی ہونی چاہیے'، اور یہ بلاگ شروع ہونے سے پہلے ہی، یہیں ختم ہو جاتا۔

لیکن قصہ اس سے کچھ زیادہ پیچیدہ ہے۔ پڑھتے رہیے۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

150 سال سے زیادہ پرانے اس قانون میں ہے کیا؟

سب سے پہلے تو یہ دیکھتے ہیں کہ 150 سال پرانے اس 'مرد مخالف' قانون میں ہے کیا۔

1860 میں بنائے گئے اس قانون (آئی پی سی دفعہ 497) کے تحت اگر ایک مرد

۔ کسی عورت سے یہ جانتے ہوئے کہ وہ شادی شدہ ہے، جنسی تعلق رکھے

۔ اور اس عورت کا شوہر اس تعلق کی اجازت نہ دے

۔ اور یہ تعلق عورت کی رضامندی سے قائم کیا گیا ہو

تو وہ مرد اڈلٹری کا مجرم ہے اور اسے پانچ سال قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ شادی شدہ مرد اگر کنواری یا بیوہ عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرے تو اس صورت میں مرد پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔

یہ جرم کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

اس کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔ دراصل ’اڈلٹری‘ کو ناپاک ہونے سے جوڑا گیا ہے۔ جیسے کھانا پاک ہو اور اس میں باہر سے کوئی چیز آکر گر جائے تو وہ 'اڈلٹریٹ' یعنی خراب ہوجاتا ہے۔

ایک مرد اور عورت کی شادی پاک ہے، اور اس سے ہونے والی اولاد سے خاندان کا نام آگے بڑھتا ہے۔

لیکن اگر کوئی 'غیر' مرد ایک شادی شدہ عورت کے ساتھ سیکس پر مبنی تعلق قائم کرتا ہے تو اس سے ہونے والا بچہ خاندان کی پاکیزگی کو خراب کرنے کا خدشہ پیدا کرتا ہے۔ یہی ناپاکی 'اڈلٹری' ہے۔

عورت شادی شدہ نہ ہو تو پاکیزگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں شادی شدہ مرد خواہ غیر ازدواجی جنسی تعلق قائم کرے، قانون کی نظر میں یہ 'اڈلٹری' نہیں ہے۔

غور کرنے والی دوسری بات یہ ہے کہ قانون کی نظر میں 'اڈلٹری' سے جڑے سارے فیصلے مرد کے ہاتھ میں ہیں۔

قانون مانتا ہے کہ 'اڈلٹری' کا فیصلہ ایک مرد ہی کرتا ہے، اس لیے سزا کا حقدار بھی وہی ہے۔ اور سزا صرف اس صورت میں نہیں ہوگی اگر عورت کا شوہر اس رشتے کی اجازت دے دے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اڈلٹری کے لیے عورت قصوروار کیوں نہیں؟

اس سب میں عورت کا کردار صرف سیکس کے لیے رضامندی ظاہر کرنے تک محدود ہے۔ کیونکہ سیکس بغیر رضا مندی کے، ریپ ہے۔

اور ہنگامہ اسی بات پر برپا ہے۔ جب عورت رضامندی دے سکتی ہے تو اس فیصلے کے لیے اتنی ہی قصوروار ہونی چاہیے جتنا مرد۔

صحیح بھی ہے، عورتیں سیکس کے لیے رضامندی اور جنسی تعلق کے فیصلے میں برابر کردار رکھتی ہیں۔ نہ یہ ان کے لیے غیر مرد کا کیا ہوا فیصلہ ہوتا ہے اور نہ انہیں اس کے لیے اپنے شوہر کی اجازت چاہیے۔

یہ ہنگامہ پہلی بار برپا نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ میں یہ سوال 1954، 1985، اور 1988 میں پہلے بھی پوچھا جا چکا ہے، پر یہی قانون قائم رہا۔

اب اگر قانون کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تو دو صورتیں نکلتی ہیں۔ ایک یہ کہ قانون برقرار رہے، اور اس میں عورتوں کو بھی سزا دینے کی شق شامل کر دی جائے، اور دوسرا یہ کہ 'اڈلٹری' کو جرم ہی نہ مانا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ OLIVIA HOWITT

کئی یورپی ممالک میں اڈلٹری جرم ہے ہی نہیں

یہ کوئی انقلابی بات نہیں۔ 150 سال پہلے انڈیا میں یہ قانون نافذ کرنے والے برطانیہ سمیت زیادہ تر یورپی ممالک میں آج کی تاریخ میں اس غیر ازدواجی جنسی تعلق کو جرم مانا ہی نہیں جاتا۔

جہاں جرم مانا جاتا ہے وہاں بھی اس کے لیے جیل نہیں بلکہ جرمانے کی سزا ہے۔

قانون کا جائزہ لیتے وقت یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ انڈیا میں اڈلٹری کے لیے گرفتاری یا قید کی سزا کے بہت کم ہی کیس سامنے آتے ہیں۔

اس کا سب سے زیادہ استعمال طلاق کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس میں گرفتاری نہیں ہوتی، بس اڈلٹری کی بنا پر طلاق ہوتی ہے۔

پیچیدہ ہے قصہ اڈلٹری

آپ ہی سوچییے اگر کوئی شوہر یا بیوی غیر ازدواجی رشتہ قائم کریں تو اس کا حل انہیں جیل بھیجنا ہے یا شادی کے رشتے کو ایک بار پھر مضبوط بنانا، یا پھر اسے توڑ کر طلاق کے بعد اپنی اپنی راہ لینا؟

اسی سوچ کے تحت 2007 میں انڈیا میں وزارت داخلہ کو دیے گئے 'نیشنل پالیسی آن کرِمِنل جسٹس' کے مسودے میں یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ 'ہر جرم کی سزا جیل ضروری نہیں‘۔

تاہم اس پر بھی ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اب بتائیے بلاگ پہلے کیسے ختم کر دیتی؟ قصۂ اڈلٹری پیچیدہ تھا، پیچیدہ ہے۔ تو سپریم کورٹ کے ساتھ ساتھ آپ بھی سوچیے آج کے قصے میں مجرم کون ہے اور انصاف کیا ہو؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں