گجرات: اب ہاردک پٹیل کا کیا ہوگا؟

ہاردک پٹیل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہاردک پٹیل انتخابات سے پہلے ایک بہت بڑے رہنما نظر آ رہے تھے: سینیئر صحافی سنجیو شری واستو

چوبیس سالہ ہاردک پٹیل نے بغیر انتخابات میں حصہ لیے ہی گجرات میں ایسا تاثر پیدا کیا کہ میڈیا ہی نہیں بلکہ وزیر اعظم نریند مودی کے لیے بھی انہیں نظر انداز کرنا مشکل ہو گیا۔

دراصل ان انتخابات میں ہاردک پٹیل کی احتجاجی کمیٹی نے کانگریس کا ساتھ دیا۔ دونوں کے درمیان شرط یہ تھی کہ کانگریس جیتنے کے بعد پسماندہ طبقے کو مخصوص کوٹا دے گی۔ لیکن اب جب نتیجے سے طے ہو چکا ہے کہ بی جے پی لگاتار چھٹی مرتبہ حکومت میں آ گئی ہے۔ تو ایسے میں ہاردک پٹیل کے لیے آگے کا راستہ کیا ہوگا؟

یہ بھی پڑھیے

چوبیس سالہ جوان مودی کے لیے ’دردِ سر‘

راہل گاندھی کا 'پپو' ٹیگ ختم!

کانگریس کی ہار سے ہاردک کو فائدہ؟

سینیئر صحافی سنجیو شری واستو کا خیال ہے کہ اگر کانگریس جیت جاتی تو ہاردک پٹیل زیادہ بڑے رہنما بن کر سامنے آتے۔ سنجیو کہتے ہیں کہ ‘اب ہاردک کے سامنے چیلینج یہ ہے کہ اگر انہیں بڑا رہنما بننا ہے تو اکیلے چلنے کی پالیسی چھوڑنی پڑے گی اور کانگریس میں شامل ہونا پڑے گا۔ اور کانگریس میں شامل ہونے سے ان کا قد تھوڑا تو کم ہو گا۔ لیکن کانگریس اور ہاردک پٹیل مل کر ایک مضبوط جوڑی بنائیں گے‘۔

لیکن گجرات کے سینیئر صحافی آر کے مشرا کی رائے مختلف ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ‘کانگریس اگر جیت جاتی تو وہ ہاردک کے لیے کم فائدہ مند ہوتا۔ کانگریس اگر جیت جاتی تو ہاردک بھی ایک طرح سے حکومت میں آ جاتے۔ اور تب اگر کانگریس کوٹا دینے کا وعدہ پورا نہ کر پاتی تو پھر ان کا ساتھ ختم ہو جانے کے امکان زیادہ ہوتے۔ اب ان کی احتجاجی مہم کو بھی فرق نہیں پڑے گا کیوں کہ پہلے بھی تو وہ بی جے پی کے خلاف ہی لڑ رہے تھے۔ اور اب بی جے پی کی فتح کے بعد حالات دوبارہ وہیں ہیں جہاں پہلے تھے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کانگریس اگر جیت جاتی تو وہ ہاردک کے لیے کم فائدہ مند ہوتا: سینیئر صحافی آر کے مشرا

نو یگ اخبار کے ایڈیٹر اجے امٹھ کہتے ہیں کہ ان انتخابات میں کانگریس پارٹی میں ہاردک نے ہی جان ڈالی ہے۔ بی جے پی کے گجرات ماڈل کو بھی ہاردک نے ہی چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے ہی گجرات کے ہیرے اور کپڑے کے تاجروں کا مسئلہ اٹھایا۔ ہاردک کی اپیل تھی کہ ’سرکار سنتی نہیں ہے، گھمنڈی ہے اور اس گھمنڈی حکومت کو اقتدار سے ہٹاؤ‘۔

یہ بھی پڑھیے

مودی کا انقلاب جو نظر نہیں آتا

راہل گاندھی کا مودی پر جوابی وار

بی بی سی گجراتی سروس کے ایڈیٹڑ انکر جین کے مطابق نریندر مودی کو آگے بھی ہاردک پٹیل سے سخت مقابلے کا سامنا ہوگا۔ اب وہ راجستھان، مہاراشٹر اور ہریانا بھی جائیں گے جہاں فسلوں کی قلیل ترین قیمت اور قرض کی معافی جیسے مسئلے موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نریندر مودی کو آگے بھی ہاردک پٹیل سے سخت مقابلے کا سامنا ہوگا: بی بی سی گجراتی سروس کے ایڈیٹڑ انکر جین

سنجیو شری واستو کہتے ہیں کہ ‘ہاردک پٹیل انتخابات سے پہلے ایک بہت بڑے رہنما نظر آ رہے تھے۔ لیکن اب کانگریس کی ہار کے بعد کچھ دنوں تک ان کا قد عام لوگوں جیسا رہے گا۔ انتخابات کے دوران دکھائی دینے والا جوش اگلے پانچ سال تک برقرار رکھنا مشکل کام ہوگا۔

انکر جین کہتے ہیں کہ ہاردک کے لیے آگے کا راستہ آسان نہیں ہوگا۔ ایک بار پھر بی جے پی اقتدار میں ہے اور ہاردک پر کئی مقدمے ابھی چل رہے ہیں۔ اس کا اثر بھی پڑ سکتا ہے۔

جہاں تک ہاردک کی سیاست کرنے کی بات ہے تو اب تک کسی بھی پارٹی میں شامل نا ہو کر انہوں نے اپنے لیے راستے کھلے رکھے ہیں۔

اسی بارے میں