’عاصمہ جہانگیر کی روشن خیالی کی میراث کو ہم نے آخری سانس تک نبھانا ہے‘

عاصمہ جہانگیر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عاصمہ جہانگیر سے میرا تعلق تب قائم ہوا جب میری عمر لگ بھگ دس یا گیارہ برس تھی۔

اس سے پہلے پاکستان میں سابق فوجی صدر ضیا الحق کی آمریت کے گھمبیر سائے پھیلے ہوئے تھے اور آئے دن میں اپنے والد کے ساتھ مال روڈ چیئرنگ کراس کے قریب سیاسی کارکنوں کی گرفتاری، نظر بندی اور مارشلائی ظلم و بربریت کی بد ترین داستانیں رقم ہوتے دیکھتی تھی۔

وحشت کے اس ماحول میں پروان چڑھتے چڑھتے آمروں اور ریاست کے جبر کے خلاف جدوجہد میں ایک دلیر اور آزاد آواز عاصمہ جہانگیر سے میرا واسطہ پڑا جو میرے نظریات اور دل میں پنپنے والی بغاوت کے عین مطابق ایک شخصیت میں ڈھل کر سامنے آ گیا۔

عاصمہ جہانگیر کے بارے میں مزید پڑھیے

عاصمہ جہانگیر: 'ہم ان کی زندگی کو سیلیبریٹ کریں گے'

’آج ایک بے خوف کارکن کو کھو دیا‘

زندہ رہی اور ڈٹ کے زندہ رہی

انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر انتقال کر گئیں

یہ نظریاتی تعلق آنے والے وقت کے ساتھ ساتھ اتنا مضبوط ہوتا گیا کہ عاصمہ جہانگیر کے خلاف کسی بھی رجعتی یا ریاستی ادارے کی جانب سے ہونے والا وار مجھے اور بھی فخر دے جاتا کہ ہمارا نظریہ جو طاقتور اور پسے ہوئے طبقات کی برابری کے ساتھ رجعت پسند اور باطل پرست سوچ سے آزادی کا نظریہ ہے وہ اتنا سچا اور طاقتور ہے کہ اکیلی عاصمہ جہانگیر کی آواز پوری ریاست کے لیے چیلنج بن چکی ہے۔

عاصمہ جہانگیر کے ساتھ واہگہ باڈر پر جا کر امن کی شمعیں روشن کرتے، بھٹہ مزدوروں کے لیے جلسہ کرتے، اقلیتوں کے حقوق کے لیے جلوس نکالتے، خواتین کی برابری کے لیے آواز اٹھاتے، توہین رسالت کے قوانین میں ترمیم کے لیے پریس کلب اکھٹے ہوتے یا ملائیت کو للکارتے، یوں محسوس ہوتا کہ شاید کسی بڑے سے بڑے عہدے پر رہتے ہوئے بھی قوم کی اس سے زیادہ خدمت نہ کر سکتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

میں وہ وقت کبھی نہیں بھول سکتی جب مئی سنہ 2005 کے مشرف دور میں خواتین پر تشدد کے خلاف عاصمہ جہانگیر ہی کی قیادت میں خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے میراتھن ریس کا اہتمام کیا۔ اس ریس کو روکنے کی کوشش کی گئی اور عاصمہ پر تشدد کیا گیا۔

عاصمہ جہانگیر کے خلاف بار ایسوسی ایشنز میں بھی پراپیگنڈہ ہوتا رہا۔

یہ غالباً سنہ 2006 یا 2007 کی بات ہے جب میں نے عاصمہ جہانگیر سے کہا کہ وہ بار کا انتخاب لڑیں لیکن انھوں نے میری تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔

اس کے بعد ملک میں وکلا تحریک شروع ہو گئی۔ اس دوران جب معزول ججوں سے سرکاری گھر خالی کرائے جا رہے تھے تو اس رات مجھے عاصمہ جہانگیر کا فون آیا کہ جلدی آؤ ہم ججوں کے گھروں کے باہر رات کو پہرہ دیں گے۔

وہ رات ہماری جدوجہد کے حوالے سے ایک منفرد تجربہ تھا جب پہرے دار بھی ہم سے الجھ کر تھک گئے لیکن عاصمہ جہانگیر، حنا جیلانی، اسد جمال، فاروق طارق اور چند دیگر افراد کے ہمراہ ہم ججوں کے گھروں کے باہر آمریت کے خلاف ڈٹ گئے۔

رات گئے تک ہم چند افراد ہی رہ گئے تھے۔ اس دوران عاصمہ جہانگیر نے چارپائیوں اور گرم بستروں کا بندوبست کیا اور ہم سب انقلابی نظمیں پڑھتے رہے۔

پاکستان کی پہلی خاتون سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے آخری ملاقات عاصمہ جہانگیر کے گھر پر ہوئی جو ایک یاد گار ملاقات تھی۔ اس ملاقات میں جمہوریت کی بحالی، ملک میں جاری وکلا تحریک اور پرویز مشرف کی نافذ ایمرجنسی کے بارے سے اہم گفتگو ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مجھے یاد ہے کہ جب میں میٹرک کی طالب علم تھی تو ہیومن رائٹس کمشن کی رکن بنی اور یہ وہ جائے پناہ تھی جہاں پہنچ کر میں ہر بات کرنے میں آزاد ہوتی تھی۔

کمیشن کی ہر میٹنگ میرے لیے عبادت کا درجہ رکھتی جہاں نہ صرف عاصمہ بلکہ حسین نقی، آئی اے رحمان اور دیگر ترقی پسند شخصیات کا ساتھ مل جاتا اور جن کی موجودگی سے نہ صرف میں خود کو طاقتور محسوس کرتی بلکہ ابنے نظریات سے اور محبت محسوس ہوتی جو میری جدوجہد کا سرمایہ ہے۔

عاصمہ جہانگیر اور میرے تعلق میں بار سیاست اور گروپنگ کی وجہ سے اختلاف بھی آیا لیکن نظریاتی جڑ قائم رہی۔

عاصمہ نے گذشتہ برس لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے موقع پر مجھے بڑا پیارا کیا اور کہا ’بار سیاست کی وجہ سے مجھ سے دور نہ ہوا کر تیرا میرا اپنا تعلق ہے۔‘

عاصمہ جہانگیر نے اس ملک کے لیے وہ کام کیا جو کوئی سکول، کالج یا یونیورسٹی نہ کر سکی اور وہ ہے روشن خیالی کی عوامی بنیاد۔

عاصمہ جہانگیر اس ریاست کے احتساب کی علامت تھیں۔ محروم طبقات، خواتین کو مذہب کے جبر سے آزاد کرانے اور سیاست کو فوج سے پاک کرنے کے لیے پاکستان میں سب سے آزاد اور دلیر آواز عاصمہ جہانگیر ہی کی رہی۔

آج دل دکھی بھی ہے اور فکر مند بھی۔

اس بہادر آواز کا ایک قرض ہے جو اس کے ہر ساتھی اور روشن خیال شہری کے کندھوں پر ہے جسے میں شدت سے اپنی روح پر محسوس کر رہی ہوں اور وہ ہے جدوجہد کا تسلسل اور عاصمہ جہانگیر کی روشن خیالی کی میراث جسے ہم نے آخری سانس تک نبھانا ہے۔

اسی بارے میں