سبریملا: انڈین خواتین ہمالیہ تو سر کر سکتی ہیں مگر ایک مندر نہیں جا سکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بھاری پولیس ایسکارٹ کے باوجود یہ دو خواتین مندر کے اندر تک نہیں جا سکیں۔

انڈین سپریم کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے کے بعد ریاست کیریلا میں واقع سبری ملا مندر نے اس ہفتے پہلی بار تمام عمر کی خواتین کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔ تاہم اب تک پرتشدد مظاہرین کے احتجاج کی وجہ سے کوئی خاتون مندر میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔

کیا گائے کا گوشت کھانے سے کیرالہ میں سیلاب آیا؟

صبری مالا مندر میں خواتین کو جانے کی اجازت مل گئی

جمعرات کو دو خواتین، صحافی کویتھا جگدل اور سماجی کارکن ریحانہ فاطمہ، مندر کے مرکزی احاطہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔ انہیں وہاں تک پہنچنے میں ایک سو سے زیادہ پولیس اہلکاروں نے مدد کی جنہوں نے انہیں پتھراؤ کرتے مطاہرین سے محفوظ رکھا۔

لیکن پرتشدد مظاہرین کے ساتھ جھڑپ کے بعد انہیں مندر کے مقدس ترین حصہ تک رسائی کے بغیر واپس لوٹنا پڑا۔

یہ خبر تو آپ نے پڑھی ہی ہوگی، لیکن اس خبر سے ہمارے ذہن میں آیا کہ کیوں نہ ایسی کچھ انڈین خواتین کے نام آپ تک پہنچائے جائیں جو اپنے وقت میں اپنے فیلڈ بہت کچھ حاصل کر چکی ہیں۔ ایک طرف مندر تک رسائی نہیں تو دوسری طرح انڈین سپیس پروگرام کی سربرارہی!

اندرا گاندھی، انڈیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم

تصویر کے کاپی رائٹ Evening Standard

یہ نام تو آپ نے ضرور سنا ہوگا۔ 1966 میں جب اندرا گاندھی انڈیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں تو ان کی عمر صرف 49 سال تھی۔ وہ 1966-1977 تک انڈیا کی منتخب وزیر اعظم رہیں اور پھر 1980 میں ایک بار پھر وزیر اعظم بنیں۔ 1984 میں اپنے ہی محافظ کے حملے میں ہلاک ہو گئیں۔ اس کے بعد انڈیا نے کسی خاتون کو بطور وزیر اعظم منتخب نہیں کیا ہے، ہاں 2007 میں پرتیبھا پٹیل انڈیا کی پہلی خاتون صدر ضرور بنیں۔

باچیندری پال، ماؤنٹ ایوریسٹ سر کرنے والی پہلی انڈین خاتون

تصویر کے کاپی رائٹ The India Today Group

اگر آپ کو کوہ پیمائی کا شوق ہے تو شاید آپ نے یہ نام بھی سنا ہو۔ باچیندری پال 1984 میں ماؤنٹ ایوریسٹ سر کرنے والی پہلی انڈین خاتون بن گئیں۔ ان کا یہ کارنامہ گینس بُک آف ورلڈ ریکارڈس میں بھی درج ہے۔ آپ کو اور ہمیں تو ایک بار بھی یہ کارنامہ کرنا شاید مشکل لگے، لیکن پال کا من صرف ایک ہی بار میں نہیں بھرا! انہوں نے 1993، 1994 اور 1997 میں بھی صرف خواتین پر مشتمل ٹیمز کو ماؤنٹ ایوریسٹ تک پہنچایا۔

سرلا ٹھکرال، پہلی انڈین خاتون پائلیٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Michael Cole
Image caption 21 سال کی عمر میں جو جہاز سرلا ٹھکرال نے اڑایا تھا، وہ کچھ ایسا ہوتا!

آپ یہ تو جانتے ہی ہوں گے کہ اب سے 100-150 سال پہلے تک انسان ہوائی سفر کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں ہوائی سفر بڑے پیمانے پر ممکن ہوا۔ اور 1936 میں سرلا ٹھکرال وہ پہلی انڈین خاتون بن گئی جنہیں پائلٹ کا لائسنس ملا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 21 برس تھی۔ سرلا ٹھکرال کی پہلی پرواز جپسی ماتھ نامی جہاز میں تھی اور یہ پرواز انہوں نے روایتی انڈین ساڑی پہن کر پوری کی!

ٹیسی ٹامس، میزائل پروگرام کی سربراہی کرنے والی پہلی انڈین خاتون

تصویر کے کاپی رائٹ Hindustan Times

انڈیا کے اگنی میزائیل پروگرام کے بارے میں آپ نے سنا ہی ہوگا۔ اگر آپ نے یہ سوچا تھا کہ اس پریجیکٹ کی سربراہی کوئی مرد کر رہا ہے تو آپ غلط ہوتے۔ ٹیسی ٹامس کو، جنہیں ’اگنی پُتری‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے، 2009 میں اگنی میزائیل پروگرام کی سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ اس وقت ٹیسی ٹامس انڈیا کے بیلِسٹِک میزائیل ماہرین میں نمایاں ہیں۔

کےجمیدہ، پہلی انڈین امام

تصویر کے کاپی رائٹ EyesWideOpen
Image caption کے جمیدہ کا تعلق انڈین ریاست کیریلا سے ہے۔

34 سالہ کے جمیدہ شاید انڈیا کی پہلی خاتون امام ہیں۔ انہوں نے اسی سال کیریلا کی ایک مسجد میں جمعہ کی نماز کی امامت کی۔ ان کا سفر ویسے آسان نہیں رہا۔ انڈین میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں پچھلے 3 سال سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اور امامت کرنے کے بعد انہیں قتل کی دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔ ’کچھ لوگ کہتے ہیں مجھے زندہ جلا دیں گے۔ کچھ کہتے ہیں میری کھال ادیڑھ دیں گے۔ اور سوشل میڈیا پر تو صفحے کے صفحے گالیوں اور دھمکیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ لیکن وہ اس طرح مجھے ڈرا نہیں سکتے۔ میں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گی۔‘

کیا اس فہرست پر نظر ڈالنے کے بعد آپ کو بھی ایسا لگتا ہے کہ شاید ہمارے معاشروں میں خواتین کے لیے خلا اور چاند تک پہنچنا تو ممکن ہے لیکن مندر اور مسجد تک رسائی اب بھی آسان نہیں؟

اسی بارے میں