کیریلا: یہ ہیں داماد کو ہرا کر ٹاپ کرنے والی 96 سالہ دادی

تصویر کے کاپی رائٹ AKSHARALEKSHAM DEPARTMENT

’ارے شرما جی کے بچے کو دیکھو، کلاس میں ٹاپ کیا ہے!‘ کی جگہ ’ارے 96 سال کی دادی کو دیکھو داماد کو پیچھے چھوڑ کر ٹاپ کیا ہے!‘

والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے زیادہ سے زیادہ نمبر لیں اور اکثر انھیں مثال دیتے ہیں کہ ’دیکھو فلاں فلاں آنٹی کی بیٹی نے انتنے نمبر لیے ہیں‘۔

لیکن اب لگتا ہے کہ بچوں کو کسی آنٹی یا انکل کے بچے کی مثال نہیں بلکہ انڈیا کی جنوبی ریاست کیریلا کی ایک دادی کی مثالیں دی جائیں گی جنھوں نے امتحان میں اپنے داماد سے زیادہ نمبر لیے ہیں۔

96 برس کی دادی کارتیانی اماں نے کیریلا میں خواندگی کے پروگرام کے تحت ہونے والے امتحان میں 98 فیصد نمبر حاصل کیے ہیں۔

اس امتحان میں کارتیانی اماں کی پڑھنے، لکھنے اور ریاضی کی صلاحیت کو پرکھا گیا۔ یہ پروگرام پہلے سے ہی اچھی شرح خواندگی رکھنے والی اس ریاست میں 100 فیصد خواندگی حاصل کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار پرمیلا کرشنن سے بات کرتے ہوئے کارتیانی اماں نے کہا ’میری پڑھائی اب رکنے نہیں والی۔ جلد میں چوتھی جماعت کی پڑھائی پوری کروں گی۔ پھر آٹھویں اور دسویں جماعت۔ جب میں 100 سال کی ہو جاؤں گی میں دسویں جماعت کی پڑھائی پوری کر لوں گی۔ مجھے اور خوشی ہوگی۔ میں چاہتی ہوں کہ اس کے بعد میری سرکاری نوکری لگ جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AKSHARALEKSHAM DEPARTMENT
Image caption کارتیانی کے ساتھ ان کے داماد نے بھی امتحان دیا تھا۔

اس امتحان کے دوران ویسے کارتیانی اکیلی نہیں تھیں۔ ان کے ساتھ ان کے داماد نے بھی تیسری جماعت کا امتحان دیا تھا لیکن ان کے اپنی ساس سے 10 نمبر کم آئے۔

کارتیانی اماں کہتی ہیں، ’میں اور میرے داماد دونوں نے پڑھائی کی تھی۔ ہم دونوں نے امتحان دیے۔ لیکن وہ امتحان میں جواب بھول گئے۔ انہوں نے آدھے ادھورے جواب لکھے۔ لیکن مجھے سارے جواب معلوم تھے۔ میں نے سبھی سوالوں کے صحیح جواب دیے۔

کارتیانی اماں کے داماد کے اسی امتحان میں 88 نمبر آئے ہیں۔

یہ امتحان کتنے لوگوں نے دیا تھا؟

اس امتحان کو پاس کرنے پر کارتیانی اماں کو وزیر اعلیٰ پنرائی وِجین کی طرف سے سرٹیفیکیٹ ملا ہے۔

اس امتحان میں تقریباً 43 ہزار لوگوں نے حصے لیا تھا۔ کارتیانی اماں ان سب میں سے معمر ترین طالب علم تھیں۔ ان کے اس امتحان میں نبمر کچھ یوں رہے:

ریاضی: 30/30

خوشخطی: 30/30

ٹرینِنگ : 28/30

کارتیانی اماں کہتی ہیں، ’گھر کی معاشی حالت اچھی نہ ہونے کی وجہ سے بچپن میں پڑھائی نہیں ہو پائی۔‘

کارتیانی اماں کیریلا کے اسپُزا علاقے کے چیپاڈو گاؤں کی رہائشی ہیں۔ ان کے بچوں کے بچے بھی ہیں۔ پڑھائی جاری رکھنے کے علاوہ کارتیانی اماں کا اگلا ہدف کمپیوٹر سیکھنے کا بھی ہے۔

وہ کہتی ہیں، ’میں نے بچوں کو پڑھتے ہوئے دیکھا اور وہیں سے مجھے تحریک ملی۔ اگر میری بچپن میں پڑھائی پوری ہوئی ہوتی تو آج میں سرکاری اہلکار ہوتی۔‘

کارتیانی کو پڑھنے کے لیے تحریک دینے والوں میں ان کی بیٹی اممینی اماں شامل ہیں۔ انہوں نے بھی دسویں جماعت کی پڑھائی 62 برس کی عمر میں پوری کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBCNEWS

کیریلا کا خواندگی پروگرام اہم کیوں؟

اس پروگرام کی سربراہ پی ایس شری کلا نے کہا، ’اب کارتیانی اماں ہزاروں لوگوں کے لیے رول ماڈل کی طرح ہیں۔ موجودہ وقت میں ریاست کے 2000 وارڈز میں پروگرام کو چلایا جا رہا ہے۔ پروگرام کے اگلے مرحلے میں ہم مقامی انتظامیہ کو بھی اس میں جوڑیں گے۔‘

شری کلا کہتی ہیں کہ اس پروگرام کے ذریعے اگلے چار سالوں میں ریاست کے تمام لوگوں کو خواندہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

2011 کی مردم شماری کے مطابق کیریلا میں تقریباً 18 لاکھ لوگ ناخواندہ تھے۔

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق کارتیانی اماں کی ٹیچر ساتھی کہتی ہیں، ’وہ ہمیشہ اپنی کتاب تکیے کے نیچے رکھ کر سوتی ہیں۔ ہم نے انہیں چوتھی جماعت میں داخلہ دے دیا ہے۔ جلد ہی پڑھائی کا مواد انہیں مہیہ کیا جائے گا۔ پڑھائی جلد شروع ہوگی۔ وہ جلد سے جلد دسویں جماعت کی پڑھائی کرنا چاہتی ہیں۔‘

اسی بارے میں