ممبئی کا ’زہریلا دوزخ‘ جہاں غریب رہنے پر مجبور

مہول

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

مہول

38 برس کی انیتا ڈھولے کو ممبئی میں اپنی بستی میں کچے مکان سے نکالا گیا، بلدیہ کے حکام نے ان کی بستی کو 'غیر قانونی کچی آبادی' کہہ کر مسمار کر دیا۔ انھیں ایک عارضی کیمپ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

انیتا ممبئی کے وسط میں مہول نامی ایک صنعتی علاقے میں رہتی ہیں، یہاں بسنے والے دسیوں ہزار لوگ اس علاقے سے زہریلی آب و ہوا کی وجہ سے یہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔ بی بی سی مراٹھی کی مئیروش کونر اور جہانوی مول اس علاقے میں گئے جہاں کے مکین یہاں سے نکلنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

انیتا کہتی ہیں کہ علاقے کی زہریلی ہوا کی وجہ سے انھیں نہ صرف سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے بلکہ ان کے بلڈ پریشر میں بھی اضافہ ہوا ہے، یہی نہیں ان کی نظر بھی کمزور ہو رہی ہے۔

اس علاقے میں ایسے تقریباً 30 سے 50 ہزار خاندان رہتے ہیں۔ انیتا ڈھولے کا شمار ان پانچ ہزار خاندانوں میں ہوتا ہے جن کے گھر مسمار کر کے انھیں عارضی رہائش گاہوں میں منتقل کردیا گیا۔ لیکن ان کے عارضی ٹھکانے مہول میں ہی ہیں جہاں سے یہ لوگ نکلنا چاہتے ہیں۔ ان سے وعدہ کیا گیا ہے کہ انھیں ممبئی کے مضافات میں منتقل کیا جائے گا، تاہم ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مہول کی آب و ہوا اتنی زہریلی ہے کہ یہ علاقہ عارضی طور پر رہنے کے لیے بھی خطرناک ہے۔

،تصویر کا کیپشن

انیتا ڈھولے کہتی ہیں کہ مہول میں ان کے والدین اتنے بیمار ہوگئے کے وہ جلد ہی اپنے گاؤں واپس چلے گئے

یہ علاقہ پہلے مچھیروں کا گاؤں تھا،اب کیمیکل کی فیکٹریوں، پٹرول صاف کرنے کے کارخانے اور فرٹلائزر پلانٹ سے بھرا پڑا ہے۔

2013 میں کنگ ایڈورڈ میموریل ہسپتال کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ مہول میں رہنے والی آبادی میں سے 67 فیصد لوگوں نے ایک ماہ کے اندر متعدد بار سانس لینے میں جبکہ آبادی کے 84 فیصد لوگوں نے آنکھ میں تکلیف کی شکایت کی۔ 2015 میں انڈیا کی ماحولیات کی عدالت 'نیشنل گرین ٹریبیونل' نے کہا کہ 'مہول کے رہائشیوں کی صحت کو خطرہ' ہے۔ عدالت کے مطابق اس کی وجہ علاقے میں ہوا کے معیار کا دن بہ دن بدتر ہونا ہے۔

لیکن ممبئی کے مقامی بلدیاتی حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں آلودگی پر قابو پانے والے ادارے مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ کے تین مختلف سرویز سے پتہ چلا ہے کہ 'مہول میں آلودگی کی سطح ممبئی کے دوسرے علاقوں سے مختلف نہیں ہے۔'

لیکن رہائشی سانس لینے میں دشواری کے ساتھ ساتھ دمے، جلد کی بیماریوں اور ٹی بی کا ذمہ دار علاقے کے ناقص حالات کو ٹھہراتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

یہ علاقہ، جو کہ پہلے مچھیروں کا گاؤں تھا،اب کیمیکل کی فیکٹریوں، پٹرول صاف کرنے کے کارخانے اور فرٹیلائزر پلانٹس سے اٹا پڑا ہے

انیتا ڈھولے کہتی ہیں کہ مہول میں ان کے والدین اتنے بیمار ہو گئے کہ وہ جلد ہی اپنے گاؤں واپس چلے گئے۔

ایک سال پہلے مہول متقل ہونے والے شام داس سالوے کہتے ہیں کہ ان کے دو سال کے بیٹے کو پانچ ماہ سے مسلسل جلد کا انفیکشن ہو رہا ہے۔

’وہ ساری ساری رات سو نہیں پاتا اور اپنی جلد کو کھجاتا رہتا ہے۔ میں اس کو جلد کے متعدد ڈاکٹروں کے پاس لے کر گیا ہوں جنھوں نے اسے مختلف دوائیوں دیں لیکن پھر بھی آرام نہیں آیا۔ وہ روتا رہتا ہے اور کھجاتا رہتا ہے، اب اس چہرے پر بھی نشان پڑ گئے ہیں۔‘

لیکن شام داس سالوے بیماریوں سے لڑنے والے اکیلے رہائشی نہیں۔ ان کے پڑوسی بھی بیماریوں کا شکار ہوگئے ہیں۔ 17 ماہ کی انشل تسمباد اور دس برس کے ساحل کو ٹی بی ہے۔ جبکہ 55سالہ مایا کوسوامی کو دمہ اور 18 برس کی کویتا سبرامانیم کو سانس کی تکلیف ہے۔

اس آبادی کے مکین کہتے ہیں کہ ہوا میں آلودگی ہی واحد مسئلہ نہیں، ان کو صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں اور نکاسی کی سہولیات بھی نہیں ہیں، جبکہ بجلی بھی باقاعدگی سے جاتی ہے۔ سڑکوں کی کمی کی وجہ سے اس علاقے کی ممبئی کے دوسرے علاقوں تک رسائی آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علاقے کی خواتین اپنی نوکریاں چھوڑ کر گھر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

ایک سال پہلے مہول متقل ہونے والے شام داس سالوے کہتے ہیں کہ ان کے دو سال کے بیٹے کو پانچ ماہ سے مسلسل جلد کا انفیکشن ہو رہا ہے

انیتا ڈھولے کو جس عارضی رہائش گاہ میں منتقل کیا گیا ہے وہ اصل میں فلیٹوں کا ایک بلاک ہے جس کا سرکاری نام ایورسمیل لے آوٹ ہے۔

یہاں ایسی درجنوں عمارتیں ہیں جن میں ایک کمرے کے تین سو چھوٹے چھوٹے فلیٹ ہیں۔ ہم جب یہاں گئے تو دیکھا کہ علاقہ گندا ہے اور سیوریج پائپ ٹوٹے ہوئے ہیں۔ گٹر ابل رہے ہیں اور بجلی کی تاریں ننگی لٹک رہی ہیں۔ یہاں کی ہوا آلودہ ہے اور ہر جگہ مچھر اور چوہے ہیں۔

یہ فلیٹ ان لوگوں کے لیے مختص ہیں جن کے گھر غیر قانونی آبادیوں میں ہونے کے سبب مسمار کر دیے گئے ہیں۔

ہر سال انڈیا کے دیہی علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں ممبئی کا رخ کرتے ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ ایسی غیر قانونی بستیوں میں پھنس جاتے ہیں جو کہ یا تو سڑکوں کے کنارے بنی ہوتی ہیں یا دوسرے شہری منصوبوں کی جگہوں پر موجود ہوتی ہیں۔