’انڈیا اپنے حصے کا پانی پاکستان نہیں جانے دے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا نے کہا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حصے میں آنے والے تین دریاؤں کاپانی پاکستان میں بہنے نہیں دے گا اور اس پانی کو کشمیر اور پنجاب کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

انڈیا کی وفاقی کابینہ کے ایک رکن نتن گڈکری کے دفتر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ ایک ہنگامی فیصلہ ہے اور اس کا سندھ طاس معاہدے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

انڈیا میں میڈیا کے کچھ ذرائع کے مطابق انڈیا نے پلوامہ کے حملے کے بعد پاکستان کو جانے والے تین دریاؤں کا پانی روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن گڈکری کے دفتر نے یہ واضح کیا ہے کہ اس فیصلے کا پلوامہ کے حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اپنی جگہ قائم رہے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

کشن گنگا منصوبے پر تنازع کیا ہے؟

’چین نے دریائے برہم پتر کے ایک معاون دریا کا پانی روک دیا‘

گڈکری کے دفتر نے کہا ’راوی، ستلج اور بیاس کا پانی ڈیم بنا کر روکا جائے گا۔ شاہ پور کنڈی ڈیم بنانے کا کام پلوامہ کے حملے سے پہلے ہی جاری ہے۔ اب کابینہ مزید دو ڈیم بنانے کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔‘

اس سے پہلے جمعرات کو ایک محفل میں نتن گڈکری نے کہا کہ ’انڈیا اور پاکستان کی تقسیم کے بعد تین دریا پاکستان کو ملے تھے اور تین انڈیا کو، ہمارے تین دریاؤں کا پانی پاکستان کو جا رہا تھا اب ہم اس پر تین منصوبے شروع کر کے یہ پانی واپس جمنا میں لا رہے ہیں۔‘

سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا اپنے دریاؤں کا پانی پاکستان کے ساتھ شیئر کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟

1960 میں انڈیا کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے صدر ایوب خان نے یہ معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق دریائے سندھ میں شامل ہونے والے دریاؤں کو مغربی اور مشرقی دریاؤں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

سمجھوتے میں دریائے سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کو دیا گیا اور راوی، بیاس اور ستلج کا پانی انڈیا کو دیا گیا۔

اس میں یہ بھی طے ہوا کہ انڈیا اپنے دریاؤں کے پانی کا کچھ چیزوں کو چھوڑ کر بے روک ٹوک استعمال کر سکتا ہے۔ وہیں پاکستان کے دریاؤں کے استعمال کا کچھ حق انڈیا کو بھی دیا گیا تھا جیسے بجلی بنانا اور زراعت کے کے لیے پانی کی محدود مقدار۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان انڈیا کے پانی سے پیدا کرنے والے بجلی کے بڑے منصوبوں پر اعتراض کرتا رہا ہے۔

وہیں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پانی کے ذرائع سے ریاست کو فائدہ نہ ملنے کی بات کی جاتی رہی ہے۔

جب بی جے پی کی حمایت سے محبوبہ مفتی جموں کشمیر کی وزیر اعلیٰ تھیں تو انہوں نے کہا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ سے ریاست کو بیس ہزار کروڑ کا نقصان ہو رہا ہے اور وفاقی حکومت اس کو پورا کرنے کے لیے قدم اٹھائے۔

پاکستان کے صوبوں پنجاب اور سندھ کو زراعت کے لیے دریاؤں سے پانی ملتا ہے۔ پاکستان کے زیادہ تر علاقوں کے لیے آبپاشی کا یہی ذریعہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں