انڈیا: زہریلی شراب پینے سے 99 لوگ ہلاک، 100 سے زیادہ زیر علاج

زہریلی شراب

،تصویر کا ذریعہAFP

انڈیا میں حکام کے مطابق ملک کے شمالی مشرقی علاقے میں زہریلی شراب پینے سے کم سے کم 99 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے اور 100 سے زائد لوگوں کو علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا۔

متاثرین میں متعدد خواتین شامل ہیں جو آسام کی ریاست میں چائے کے کھیتوں پر کام کر رہی تھیں۔

ان اموات سے دو ہفتے قبل بھی شمالی ریاست اترپردیش اور اتراکھنڈ میں ملاوٹ شدہ شراب سے تقریباً 100 لوگوں کی موت واقع ہو چکی ہے۔

مقامی رپورٹس کے مطابق مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔

آسام کے ضلع گولاگھٹ کے منتظم دھرن ہزازیکا نے ایجنسی فرانس پریس کو بیان دیا کہ واقعے کے ابتدائی متاثرین کی ہلاکت جمعرات کے روز ہوئی۔ تمام متاثرین گولاگھت اور جورہٹ کے ضلعے میں چائے کے کھیتوں پر کام کرتے تھے۔

ضلع گولاگھٹ کے پولیس سپرانٹینڈنٹ پشکار سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ غیر قانونی شراب پینے سے ضلع میں 58 لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔

ایک اور ذریعے سے بھی معلوم پڑا ہے کہ ضلع جورہٹ میں 12 مزید لوگ زہریلی شراب پینے سے ہلاک ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

ضلع جورہٹ میں 12 مزید لوگ زہریلی شراب پینے سے ہلاک ہوئے ہیں

اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے گولاگھٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے جوائنٹ ڈائریکٹر راتُل بوردولوئے نے بتایا کہ ’لوگ ہسپتال میں یں الٹیاں کرتے ہوئے، شدید سینے میں درد اور سانس لینے میں دشواریوں کے ساتھ آئے۔‘

گولاگھٹ ہسپتال میں زیر علاج ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جمعرات والے دن چائے کے ایک کھیت میں موجود تھے۔

’میں نے آدھا لیٹر شراب خریدی تھی اور کھانا کھانے سے پہلے پی جس کے بعد ابتدائی طور پر تو سب ٹھیک تھا پر کچھ دیر بعد میرا سر درد کرنے لگا`۔ ’سر کا درد اتنا شدید ہوگیا کہ نہ کچھ کھایا گیا اور نہ ہی نیند آئی‘

صبح تک انھیں بے چینی کی شکایت رہی اور سینے میں شدید درد بھی شروع ہوگیا۔ ان کی اہلیہ انھیں ٹی پلانٹیشن ہسپتال لے گئیں جہاں سے انہیں ضلعی ہسپتال جانے کی تجویز دی گئی۔

غیر قانونی شراب سے واقع ہونے والی اموات انڈیا میں بہت عام ہیں کیونکہ ایسی شراب برانڈڈ شراب سے قدرِ کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہے۔

حکام کے مطابق ایک انکوائری کمیشن قائم کردیا گیا ہے جو اس واقعے کی تحقیقات کرے گا۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ریاستی پولیس نے ایک شخص کو زہریلی شراب بیچنے پر گرفتار کرلیا ہے جبکہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے دو اہلکار معطل کیے گئے ہیں جو اس حوالے سے مناسب احتیاطی تدابیر لینے میں ناکام رہے۔